رمضان المبارک کے مقدس اور بابرکت ماہ میں بھی راشن گھاٹ خالی
غیر میعاری مصالہ جات فروخت کرنے والے پٹروں پر سرگرم
سرینگر /24مئی / رمضان المبارک کا مقدس اور بابرکت مہینہ میں بھی منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں نے لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کر دیا ہے ۔راشن گھاٹ ایک ماہ سے خالی پڑے ہوئے ہیں امورصارفین وعوامی تقسیم کاری محکمہ کے وزیر کی جانب سے گوداموں میں سٹاک پوزیشن کے بارے میں اطمینان کا اظہار کرنے کے باوجود راشن گھاٹوں کے خالی ہونے پر عوامی حلقوں نے غم وغصے کااظہار کیا ہے جبکہ سبزی ، مرغ فروشوں نے قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کر دیا ہے ۔ قصاب بھی اپنی من مانیاں جاری رکھے ہوئے ہیں سرکار کی جانب سے چیکنگ اسکارڈوں کو متحرک کرنے کے بارے میں کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی جار ہی ہے اور عوام کو دو دو ہاتھوں لوٹنے کا حکومت خاموشی سے تماشہ دیکھ رہی ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا نمائندے کے مطابق کشمیر وادی کے لوگ پہلے ہی کم مصائب و مشکلات میں مبتلا نہ تھے کہ رمضان المبارک کا بابرکت اور مقدس مہینہ میں بھی منافع خوروں ، ذخیرہ اندوزوں نے اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں کشمیر کے اطراف واکناف میں سبزیوں کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور سبزی فروش ٹماٹر 60سے 70روپیہ فی کلو ، مٹر 50روپیہ ، مولی 30روپیہ ، گاجر پھول گوپی 30روپیہ کے حساب سے فروخت کر رہے ہیں جبکہ آلو پیاز کے دام ہر دن بدلتے رہتے ہیں جبکہ میوہ جات کی قیمتیں بھی روز بروز بدلتی رہتی ہیں قیمتوں میں کمی ہونے کے بجائے ہر ایک اشیاء کی قیمت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جسے عوام کو سخت مشکلات کا سامنا کرناپڑ رہا ہے۔ وادی کشمیر میں راشن گھاٹ ایک ماہ سے خالی پڑے ہوئے ہیں اور لوگوں کو غذائی اجناس حاصل کرنے میں دقتوں کا سامناکرنا پڑ رہا ہے امور صارفین وعوامی تقسیم کاری ٹرانسپورٹ کے وزیر نے ڈائریکٹر امور صارفین کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں اس بات کا یقین دلایا کہ کشمیر وادی میں غذائی اجناس کی کوئی قلت نہیں ہے رسوئی گیس ، کیروسین اوئل ، چاول ، آٹا ، چینی وافر مقدار میں موجود ہے اور لوگوں کو راشن کارڈوں پر فراہم کرنے کیلئے پہلے ہی اقدامات اٹھائے گئے ہیں تاہم عوامی حلقوں کے مطابق وادی کے اطراف واکناف میں راشن گھاٹ خالی پڑے ہوئے ہیں جبکہ دو ماہ سے صارفین کو چینی فراہم نہیں کی جار ہی ہے کیروسین اوئل کا کہیں نام ونشان نہیں ہے ، کئی راشن گھاٹوں پر صرف اے پی ایل ذمرے کے تحت آنے والے صارفین کو راشن کارڈوں پر پانچ کلو گرام آٹا فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ بی پی ایل اور غریبی کی سطح سے نیچے بسر کرنے والے کنبوں کو آٹے سے بھی محروم کر دیا گیا ہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق اگر چہ متعلقہ وزیر نے غذائی اجناس کی سٹاک پوزیشن کو اطمینان بخش قرار دیا تو وادی کے راشن گھاٹ کیوں خالی پڑے ہوئے ہیں اور لوگوں کو چاول ، آٹا ، چینی مہنگے داموں خریدنے پر مجبور کیا جا رہا ہے ۔ عوامی حلقوں کے مطابق رمضان المبارک کا مقدس اور بابرکت مہینہ شروع ہوتے ہی شہر سرینگر اور دیہی علاقوں کے لوگوں کو غذائی اجناس کی شدید قلت کا سامنا کرناپڑ رہا ہے اور محکمہ کی جانب سے لوگوں کی اس مجبوری کو دور کرنے کیلئے کارگراقدامات نہیں اٹھائے جار ہے ہیں اور نہ ہی منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کو لگام دینے کی کاروائیاں عمل میں لائی جار ہی ہیں۔ عوامی حلقوں کے مطابق رمضان المبارک کا با برکت مہینہ کے ساتھ ہی غیر معیاری اور زائد المیعاد مثالہ جات فروخت کرنے والے بھی وادی کے اطراف واکناف میں سلسلہ شروع ہواہیں اور لوگوں کو یہ میٹھا زہر سستے داموں فروخت کرکے ان کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی کاروائیاں بھی عروج پر پہنچ گئی ہیں اور مثالہ جات فروخت کرنے والے عید الالضحیٰ ، عید الفطر کابے صبری کے ساتھ انتظار کرتے ہیں اور دیہی علاقوں سے شہر سرینگر کی طرف آنے والے سیدھے سادھے لوگ سستے داموں پٹریوں پر فروخت کئے جانے والے مثالہ جات بلا جھجک خرید کر اپنی زندگیوں کے ساتھ کھیلتے ہیں زائد المیعاد اور غیر معیاری مثالہ جات فروخت کرنے والوں کے خلاف کاروائیاں عمل میں نہ لانے سے ان کے حوصلے بڑھ گئے ہیں جس کی وجہ سے وہ انسانی زندگیوں کے ساتھ کھلے عام کھیل رہے ہیں۔
Comments are closed.