ریاست کی معاشی اور سیاسی حالات سنگین ، جی ایس ٹی نے ریاست مالی خود مختاری ختم کردی /نیشنل کانفرنس
مسئلہ کشمیر کے حل سے ریاست میں امن لوٹ آنے کی امید
سرینگر /22مئی /سی این آئی نیشنل کانفرنس نے کہا کہ موجودہ مخلوط سرکار کے وجود آنے سے ریاست کے تمام آئینی اور جمہوری اداروں کی اہمیت اور افادیت آہستہ آہستہ ختم کی جارہی ہے ۔ انتظامیہ مکمل طور پر مفلوج ہوچکی ہے ، لوگوں کا کوئی پُرسان حال نہیں ، ریاست کے لوگ گزشتہ چار سالوں سے اقتصادی بدحالی اور معاشی طور پر تباہ ہوچکے ہیں ، نہ کار ہے نہ بار ، سیاحتی شعبہ مکمل طور پر ٹھپ ہوچکا ہے جو ریاست کی آمدن کا واحد ذریعہ تھا ریاست کے امن و قانون کے حالات بھی چار سالوں کے دوران بد تر سے بدتر ہوتے جارہے ہیں البتہ گیراں بازاری ، کرپشن کنبہ پروری ، اقراء پروری عام ہوچکی ہے۔ سی این آئی کو موصولہ بیان کے مطابق ان باتوں کا اظہار پارٹی کے سینئر لیڈران اور سابق وزراء ایڈوکیٹ عبدالرحیم راتھر ، محمد شفیع اوڈی اور چودھری محمد رمضان نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا انہوں نے کہا کہ ریاست میں رہی سہی مالی خود مختاری کو بھی اس سازش کے تحت ختم کر دی گئی جی ایس ٹی لگا کر ریاست کو اپنی مالی خود مختاری سے محروم کر دیا گیا اور جی ایس ٹی کے لگنے سے یہاں کے تاجر ، صنعت کار، دکانداروں کو بے کار بنادیا گیا ، کشمیر کے صنعت و حرفت اور دستکاری جس کی وجہ سے ریاست کے لوگ پوری دنیا میں شہرہ آفاق کی حثیت رکھتے تھے جی ایس ٹی لگا کر اس صنعت سے وابستہ لاکھوں لوگوں کے روزی روٹی پر بھی شب خون مارا گیا جو کسی بھی صورت میں مناسب نہ تھا اور پی ڈی پی نے ناگپورہ کی غلامی اور لونڈی ورکر اس جی ایس ٹی کو اہل کشمیر پر طاقت کے بل بوتے پر ٹھوس دیا حالانکہ ریاست کے کسی بھی طبقہ چاہئے وہ سول سوسائیٹی ہو ، اپوزیشن پارٹیاں ہو ،چمبر آف کامرس ، تاجر انجمنیں ہوں یکسر مسترد کر دیا اور زور جبر کے تحت کشمیر دشمن درابو جو اس مخلوط سرکار کا وزیر خزانہ تھا اسمبلی میں پیش کر کے شور وغل کے ماحول میں پاس کر کے ہماری مالی خود مختاری ختم کر دی جس کے لئے اہل کشمیر کبھی بھی موجودہ نا اہل اور ریاست کے تاریخ اور تحریک سے ناآشنا وزیر اعلیٰ ذمہ دار ہے ۔ بدقسمتی سے ان لوگوں نے کشمیری عوام کو دھوکہ دے کر اور گمراہ کر کے مذہب کے نام پر ووٹ حاصل کر کے جس طرح جموں میں جنگھ سنگھ والوں نے دھرم کے نام پر ووٹ حاصل کیا اور اقتدار حاصل کیا ۔ یہ قلم دوات والے وہی لوگ ہے جنہوں نے ریاستی عوام کو خصوصاً وادی اور خطہ چناب کے لوگوں کو یہ بھرسہ دیا کہ وہ واحد جماعت ہے جو بی جے پی کو ریاست میں داخل ہونے سے روک سکتی ہے لیکن یہ سب کچھ فراڈ فراڈ اور دھوکہ تھا آخر کار مرحوم مفتی محمد سعید اور اس کی بیٹی نے ناگپور میں امت شاہ کے ساتھ کئی روز تک اقتدار حاصل کرنے کے لئے گزارے اور وہاں ہی ریاست کی وحدت ، انفرادیت ، شناخت اور صدیوں کے بھائی چارہ کے خلاف سازشیں مرتب کر کے جنگ سنگھ ، آر ایس ایس ، بجرنگ دل ، شیو سینا کا تعاون لے کر مرحوم مفتی محمد سعید اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ آج اس جماعت نے ریاست کو تباہی اور بربادی کے دھانے پر پہنچایا دیا ۔ قتل عام جاری ، بندشیں جاری ، توڈ پھوڈ جاری ، کریک ڈاؤن جاری، نویں کے حالات برابر جاری ہماری نوجوانوں کی نسل کشی کی گئی ۔ جنوبی کشمیر میں نوجوانوں کی ریکارڈ تھوڈ نسل کشی کی گئی اور ان کے والدین کے دلوں میں اس نااہل اور کشمیر دشمن سرکار کے خلاف نفرت کی آگ روز بہ روز بھڑکتا جارہا ہے ۔ ریاست کے نوجوان پود میں مایوسی کیونکہ انہیں پشست دیوار کردیا گیا ان کے حقوق چھین لئے گئے بد قسمتی سے ریاست خصوصاً وادی میں مذہبی آزادی پر بھی آنچ آرہی ہے ۔ اکثر اور بیشتر بندشوں کی وجہ سے مساجد وں میں نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے جو کہ قابل افسوس اور دین کی بے جاں مداخلت ہے ۔ ریاست میں بھی فرقہ پرستی عروج پر ، جموں میں فرقہ پرستوں کا راج ہے اور مسلمانان جموں کو ہر سطح پر ستایا جارہا ہے جو ناقابل قبول ہے ۔ ہم ریاست کے بھائی چارے اور صدیوں کی مذہبی ہم آہنگی پر آنچ نہ آنے دینگے ۔ لیڈران نے مرکزی قیادت سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ کشمیر کی پُر امن حل کے لئے جلد از جلد پاکستان اور حریت والوں کے سات بات چیت شروع کرے تاکہ ریاست میں مکمل امن لوٹ آسکیں کیونکہ مسئلہ کشمیر کے حل سے ہی ریاست کے لوگوں میں سکون قلب اور تعمیر و ترقی کا جھال عمل میں لایا جاسکتاہے ۔ انہوں نے سرحدوں پر جاری تناو ، قیمتی جانوں کی تلافی پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک کے سربراہوں اور فوجی قیادتوں سے فوری طور پر جنگی بندی پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کی اور واجپائی جی کے اصولوں پر عمل کرنے تاکید کی کیونکہ مودی جی نے واجپائی کے اصولوں پر ہی اقتدار حاصل کیا۔
Comments are closed.