این آئی اے کے ذریعہ چھاپے، سکول اور کالج بند کرنااقتصادیات اور تعلیمی نظام کو تباہ کرنے کی ایک مکروہ کوشش :دختران ملت

دختران ملت جموں کشمیر کی جنرل سیکریٹری ناہیدہ نسرین نے کہا کہ دلی سرکار اور اس کے مقامی آلہ کار دراصل تحریک کے چوتھی نسل میں منتقل ہونے سے فریسٹریشن کا شکار ہوگئے ہیں۔ آج پیر و جوان زن و مرد اور طلبہ و طالبات بھارت کے غیر قانونی اور غیر اخلاقی قبضہ کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ طلبہ کی تحریک نے بھارت کو دم بخود کردیا ہے اور سکول اور کالج بند کرنے کے علاوہ ان کو کوئی راستہ نہیں سوجھ رہا۔
بھارت اور اس کے گماشتوں کو جب کوئی راہ نہیں سوجھ رہی تو اب انہوں نے قیادت اور تجار کی کردار کشی کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سنہ 2000 میں بھی حریت پسندوں پر اسی طرح کی الزام تراشیاں لگائی گئی تھیں۔لیکن تب بھی کچھ ثابت نہیں ہوا اور اب کی بار بھی ان چھاپوں سے کچھ حاصل نھیں ہو گا۔
انہوں نے کہا بھارت سمجھ چکا ہے کہ کشمیری آزادی سے کم کسی بھی چیز پر راضی نہیں ہونگے اس لئے لوگوں کے عبور و مرور اور مواصلات پر قدغن لگائی جاتی ہے تو کبھی سکول کالج بند کر دئے جاتے ہیں۔ اگر بھارت کے بس میں ہوتا تو ہمارے سانس لینے پر بھی قدغن عاید کر دیتا ۔
یہ دراصل اس بات کا غماض ہے کہ دشمن نے ہار تسلیم کر لی ہے اور اب یہ اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے جارہے ہیں۔
بھارت یہ دیکھ کر دم بخود ہے کہ 2016 اور اب 2017 میں بھی فورسز کی طرف سے کشمیریوں کا دائرہ حیات تنگ کئے جانے کے باوجود بھی کشمیری کیسے مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔پہلے بھارت دعوی کرتا تھا کہ کشمیری ہم پر منحصر ہیں لیکن اب دنیا کے سامنے ثابت ہوگیا ہے کہ بھارت ھی ہمارے وسائل پر پل رہا ہے اور کشمیری اقتصادی طور پر بھارت سے ذیادہ مضبوط ہیں۔
بھارت کے برعکس ہمارے یہاں کوئی بے گھر سڑک پر نہیں سوتا اور نہ ہی کوڑے دانوں میں سے کھانا چھانٹتا ہے۔بھارت تو اب تک اپنی رعایا کیلئے بیت الخلاء بنانے کیلئے محو جد وجہد ہے جبکہ کشمیر تعمیر و ترقی کے حوالے سے ان سے کافی آگے ہیں۔ اسی فریسٹریشن کے چلتے بھارت اب ہماری اقتصادیات اور تعلیم کو نشانہ بنا رہا ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ تاجر برادر ی کو بھی چھاپوں کے ذریعہ ہراساں کیا جا رہا ہے اور سکول بند کر دئے جاتے ہیں۔
دریں اثنا دختران ملت نے سمبل میں شہید ہوئے چار فدائین کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ترجمان نے کہا کہ یہ نوجوان کشمیر پر احسان کر رہے ہیں اور انشائاللہ ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور بھارت کی غلامی کا مکمل طور پر خاتمہ ہو کر رہے گا۔

Comments are closed.