مرحوم مولانا میرواعظ محمد فاروق کی28ویں اور ایڈکیٹ عبدالغنی لون کا 15ویں یوم وصال
ڈاکٹر فاروق نے دونوں رہنماؤں کی برسیوں پر انہیں شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا
سرینگر/ 20 مئی / نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے شہید ملت مرحوم مولانا میرواعظ محمد فاروق صاحب کے28ویں اور شہید ایڈکیٹ عبدالغنی لون کے 15ویں یوم وصال پر اُنہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ،کہ مرحوم مولانا محمد فاروق صاحب اہم ملی، سماجی اور سیاسی شخصیت کے مالک تھے، جنہوں نے تبلیغ دین کے ساتھ اسلامی تعلیم کو فروغ دینے میں بھی کلیدی رول ادا کیا۔ مرحوم نے اپنے اسلاف کی طرح اسلامیہ ہائی سکول کو مزید فعال بنانے میں انتھک کوشش کی۔ اِس سکول میں ریاست کے معروف شخصیتوں نے تعلیم حاصل کی جو اہم عہدیوں پر تعینات رہے ہیں۔ سی این آئی کو موصولہ بیان کے مطابق ڈاکٹر فاروق نے کہا ،کہ مرحوم کی شہادت سے بہت بڑا خلا پیدا ہوا ہے۔ اُنہوں نے کہا ،کہ مرحوم مولانا نے تحریک کشمیر خصوصاً امن کی بحالی کیلئے زبردست کوشش کی۔ مرحوم مسئلہ کشمیر حل کرنے کے متمنی تھے اور ہندوستان اور پاکستان کی دوستی کیلئے بھی ہمیشہ کوشان رہے اور اُنہیں اسی راہ میں شہادت دینا پڑی۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ میں نے اور مرحوم شہید ملت نے ایک ہوکر (ڈبل فاروق اتحاد) شیر بکرا کے کو ہمیشہ کیلئے ختم کردیا تھا۔ ڈاکٹر فاروق نے کہا ،کہ مرحوم مولانا مسلم اتحاد کے متمنی تھے اور ہمیشہ اِس اتحاد کے شیرازہ کو بکھرنے سے بچانے میں اہم رول ادا کرتے رہے جو دشمنوں کو ایک آنکھ نہ بھایا اور انہیں ناکردہ گناہوں کے پاداش میں بڑی بے دردی کے ساتھ شہید کیا گیا۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مرحوم عبدالغنی لون کے وصال پر اُنہیں زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ،کہ مرحوم لون صاحب نے بھی لوگوں کی خدمت کی اور سیاست میں بھی اہم رول ادا کیا۔ مرحوم ایک ممتاز قانون قانون دان بھی تھے۔ کارگذار صدر عمر عبداللہ اور پارٹی کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر اور معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال نے بھی شہید ملت مولانا محمد فاروق کی برسی پر انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ اور کہا ،کہ خاندان میرواعظان کے ملی گران قدر خدمات فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈران عبدالرحیم راتھر، چودھری محمد رمضان، مبارک گل ، پیر آفاق احمد ، محمد شفیع اوڑی اور عرفان احمد شاہ نے بھی مرحوم میر واعظ مولانا محمد فاروق اور مرحوم عبدالغنی کو خراج عقیدت پیش کیا۔
Comments are closed.