:این آئی اے چھاپہ معاملہ :سرینگر میں علیحدگی پسند قیادت کی میٹنگ ، کئی لیڈران پر قدغن

سری نگر: قومی تحقیقاتی ایجنسی (این ائی اے)کی حریت لیڈران اور تاجران پر چھاپہ کاروائیوں کے تناظر میں سرینگر میں پیر کو علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی موجودگی میں ایک اجلاس اور پریس کانفرنس کاا نعقاد کیا گیا۔اس دوران انتطامیہ نے حریت کانفرنس دفتر واقعہ علاقہ حیدرپورہ کو مکمل طور پر سیل کردیا۔حریت لیڈران کو بھی نظر بنداور گرفتار کیا۔
جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین یاسین ملک کو تھانہ اور حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں کے سربراہان سید علی شاہ گیلانی و میرواعظ کو خانہ نظربندکیا۔ حریت کانفرنس (گ)کے ترجمان ایاز اکبرپولیس نے علیحدگی پسند قیادت کی میٹنگ کو ناکام بنانے کے لیے تحریک حریت کے مرکزی دفتر کو مکمل طور سیل کردیا، جبکہ تنظیم کے قائدین جن میں تحریک حریت جنرل سیکریٹری جناب محمد اشرف صحرائی، پیر سیف اللہ، ایاز اکبر، محمد الطاف شاہ، راجہ معراج الدین، محمد اشرف لایا، عمر عادل ڈار کو گھروں اور تھانوں میں نظربند کردیا گیا۔
حریت کانفرنس نے حکومتی کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مزاحمتی قائدین کی میٹنگ پر پابندی لگانے کا کوئی آئینی یا اخلاقی جواز نہیں تھا۔ یہ سراسر ریاستی دہشت گردی ہے، جس کے تحت ریاست میں پُرامن سیاسی سرگرمیوں پر مکمل طور پابندی لگادی گئی ہے اور آزادی پسندوں کے سانس لینے پر بھی پہرے بٹھادئے گئے ہیں۔ حریت ترجمان نے بتایا کہ پُرامن سیاسی سرگرمیوں پر سخت ترین
پابندیاں عائد رکھنے سے ریاست کے حالات دن بدن زیادہ مخدوش اور خراب ہوتے جارہے ہیں اور کی طرف سے یہ بدترین قسم کی فسطائیت کا مظاہرہ ہے۔
اس دوران علیحدگی پسند قیادت سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ اور یاسین ملک نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ ان کی مشترکہ میٹنگ جس میں بعد یہاں کی تاجر برادری کو بھی مدعو کیا گیا تھا پرانتظامیہ کی جانب سے گیلانی کو بدستور نظر بند رکھ کر ان کے گھر کی جانب جانے والے راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کرکے میرواعظ کو ایک بار پھر خانہ نظر بند کرنے اور محمد یاسین ملک کو گرفتار کرکے کوٹھی باغ سب جیل میں بند کرکے روک لگا دی گئی۔ انہوں نے کہا ’ہمیں میٹنگ کرنے سے روکنا حکمران طبقے کا معمول بن گیا ہے کیونکہ یہ لوگ دلی میں بیٹھے اپنے آقاوں کی خوشنودی حاصل کرنے اور کشمیر میں نارملسی کا جھوٹا بھرم قائم رکھنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں کیونکہ بصورت دیگر انہیں اپنے آقاوں کی جانب سے حکمرانی سے برخواست کرنے کا خطرہ ہے‘۔
علیحدگی پسند قیادت نے کہا قیادت اور عوام تحریک حق خود ارادیت کو حصول مقصد تک جاری رکھنے کا عزم کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا ’آزادی پسند قیادت اور کارکنوں کو ہراساں کرنے کا عمل حکومت ہندوستان کا کشمیری عوام کی تحریک آزادی کے آگے اعتراف شکست ہے۔ حکومت ہندوستان کشمیری عوام کے جذبہ انقلاب کو دبانے میں مکمل طور ناکام ہوچکی ہے باوجود اسکے کہ جموں کشمیر کودنیا کا سب سے وسیع فوجی جماو? والے علاقے میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور پچھلی سات دہائیوں سے یہاں کے عوام کو حکمرانوں کی جانب سے ہر طرح کے ظلم و ستم اور سرکاری دہشت گردی روا رکھی گئی ہے۔
ان تمام حربوں کے باوجود حکومت ہندوستان یہاں کے حریت پسند عوام اور قیادت کے تحریک کے تئیں عزم اور یقین کو شکست دینے میں بری طرح سے نام ہوگئی ہے‘۔ علیحدگی پسند قیادت نے کہا کہ کشمیری عوام کا جذبہ مزاحمت مضبوط ہے انہوں نے طے کرلیا ہے کہ وہ اپنا بنیادی حق حاصل کرکے رہیں گے
چاہے انہیں گولیوں سے چھلنی کیا جاتا ہے یا پیلٹ داغ کر بینائی سے محروم کیا جاتا ہے یا پھر تشدد، زیر حراست گمشدگی، مار پیٹ یا جیل خانوں میں مقید کیا جاتا ہے جوکہ کشمیر میں روز مرہ کا معمول بن چکا ہے لیکن ان حربوں سے نہ تو کشمیری عوام کو خوفزدہ کیا جاسکا ہے اور نہ ان کو تحریک حق خودارادیت سے دستبردار کیا جاسکتا ہے۔
دریں اثنا جے کے ایل ایف چیئرمین یاسین ملک کو پیر کی صبح اپنے گھر سے گرفتار کیا گیا۔ فرنٹ کے ایک ترجمان نے بتایا کہ پولیس کی بھاری جمعیت نے آج صبح فرنٹ چیئرمین کے گھر پر چھاپہ ڈالا اور انہیں گرفتار کرلیا۔ گرفتاری سے قبل میڈیا نمائندگان سے بات کرتے ہوئے لبریشن فرنٹ چیئرمین نے کہا کہ متحدہ قیادت کے اجلاس اور مجوزہ پریس کانفرنس کو روکنے کے لئے گرفتاریاں اور خانہ نظر بندیاں اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ جموں کشمیر میں جمہوریت کے نام پر عملاً فوجی مارشیل لاء قائم ہے۔

Comments are closed.