حاجن میں جنگجو ؤں اور فوج کے درمیان گولیوں کا تبادلہ
جنگجو فرار ہونے میں کامیاب ،علاقے میں تلاشی کارروائی عمل میں لائی گئی
حاجن :۱۸،مئی:/ یکطرفہ جنگ بندی کے بیچ شمالی قصبہ حاجن میں جنگجو ؤں اور فوج کے درمیان گولیوں کا تبادلہ ہوا ،تاہم اس واقعے میں کوئی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا ۔فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ جنگجوؤں نے فوج کی ایک گشتی پارٹی پر فائرنگ کی ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق شمالی قصبہ حاجن بانڈی پورہ میں جنگجوؤں اور فوج کے درمیان جمعہ کی الصبح اُس وقت آمنا سامنا ہوا جب جنگجوؤں نے فوج کی ایک گشتی پارٹی پر فائرنگ کی ۔ذرائع کے مطابق سحری کے وقت فوج کی ایک گشتی پارٹی معمول کے مطابق قصبہ میں گشت کر رہی تھی ،کہ گھات میں بیٹھے جنگجوؤں نے اس پر مسلح حملہ کیا ۔ذرائع نے بتایا کہ جنگجوؤں نے گھات لگاکر جمعہ کی علی الصبح فوج کی گشتی پارٹی پر اندھا دھند فائرنگ کی ۔جوابی کارروائی میں فوج نے بھی گولیاں چلائیں ،جس دوران طرفین کے مابین مختصر جھڑپ ہوئی ۔ذرائع نے بتایا کہ جنگجواندھیرا کا فائدہ اٹھا کر فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ۔فائرنگ کے تبادلے کے فوراً بعد فوج نے علاقے کا محاصرہ کرکے تلاشی کارروائی عمل میں لا ئی ،جو سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا ۔ذرائع نے بتایا کہ علاقے میں تلاشی کارروائیوں کے دوران دوبارہ جنگجوؤں اور فوج کے درمیان آمنا سامنا نہیں ہوا ۔یاد رہے کہ گزشتہ دنوں جنوبی کشمیر کے ترال اور شوپیان میں بھی جنگجوؤں اور فوج کے درمیان گولیوں کا تبادلہ ہوا ۔دونوں مقامات پر جنگجو فرار ہونے میں کامیاب ہوئے جبکہ ان واقعات میں کوئی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا ۔رمضان کی آمد کے ساتھ مرکزی وزیر داخلہ نے ایک غیر معمولی اعلان کرتے ہوئے کشمیر میں رمضان جنگ بندی کا اعلان کیا ۔انہوں نے اپنے اعلان میں کہا تھا کہ فوج وفورسز کو ہدایت دی گئی کہ وہ جموں وکشمیر میں جنگجو مخالف آپریشنز روکنے کی ہدایت دی گئی ہے ،تاہم فوج کو یہ اختیار حاصل ہے کہ اُن پر اگر حملہ ہوتا ہے ،تو وہ جوابی کارروائی عمل میں لائے ۔حزب اختلاف اور حزب اقتدار جماعتوں نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ۔تاہم عسکری تنظیم لشکر طیبہ نے اس اعلان کو ڈرامہ قرار دیا جبکہ متحدہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، ڈاکٹر میرواعظ محمد عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے حیدرپورہ سرینگر میں ایک مختصر اجلاس میں بھارت کی وزارت داخلہ کی طرف سے’آپریشن ہالٹ ‘کے نام سے ماہ رمضان کے دوران ریاست کے مظلوم عوام کو قتل وغارت گری میں چھوٹ دینے کو ایک بڑا مذاق قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاست جموں کشمیر کے لوگ عارضی جنگبندی کے شوشوں کے بجائے مکمل اور دائمی جنگ بندی کے خواہاں ہیں اور اسی مقصد کے حصول کے لیے یہاں کے عوام حقِ خودارادیت کی ایک جائز اور مبنی برحق تحریک چلارہے ہیں، جس کو کچلنے کے لیے بھارت نے اپنی تمام تر فوجی طاقت کو میدانِ میں جھونک دیا ہے۔
Comments are closed.