کشمیرکوئی مراعات یا مفادات کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک انسانی اور سیاسی مسئلہ :میر واعظ عمرفاروق

شہادت کے تقدس کی پاسداری میں قیادت کی ذمہ داری

سری نگر:۱۷،مئی میر واعظ عمرفاروق نے کہا کہ مسئلہ کشمیرکوئی مراعات یا مفادات کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک انسانی اور سیاسی مسئلہ ہے۔رمضان سیز فائز کا برائے راست تذکرہ کئے بغیر میرواعظ نے کہا کہ کشمیر کے بارے میں کوئی بھی پہل تب تک ثمر آور ثابت نہیں ہوسکتی جب تک کشمیر کے بنیادی مسئلہ کو ایڈرس کرنے کیلئے اقدامات نہیں اٹھائے جاتے۔کے این این کو موصولہ بیان کے مطابق حریت کانفرنس (ع)کے زیر اہتما م ہفتہ شہادت کی تقریبات کے سلسلے میں ایک باوقار سمینار بعنوان ’’شہادت کے تقدس کی پاسداری میں قیادت کی ذمہ داری ‘ ‘ حریت صدردفتر پر منعقد ہوا۔ سمینار کی صدارت کے فرائض حریت چیرمین جناب میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمرفاروق نے انجام دئے ۔ سمینار کا آغاز تلاوت کلام پاک اور شہدائے کشمیر کے حق میں دعائے مغفرت سے کیا گیا۔جب کہ اس موقعے پر جن سرکردہ مزاحمتی قائدین اور تجارتی انجمنوں کے ذمہ داران نے موضوع کی مناسبت سے اپنے خیالات کا اظہار کیا ان میں سینئر حریت رہنما پروفیسر عبدالغنی بٹ ، جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیرمین محمد یاسین ملک ،سینئر حریت رہنما بلال بلال غنی لون، کشمیر چیمبر آف کامرس کے سربراہ جاوید احمد ٹنگہ ، کشمیر اکنامک الائینس کے چیئرمین محمد یاسین خان، معروف سینئر ٹریڈ یونین لیڈر شری سمپت پرکاش اور سید علی گیلانی کے نمائندے حکیم عبد الرشید شامل ہیں جبکہ نظامت کے فرائض مولانا ایم ایس رحمن شمس نے انجام دئے ۔ اپنے صدارتی خطاب میں میرواعظ نے کہا کہ مسئلہ کشمیرکوئی مراعات یا مفادات کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک انسانی اور سیاسی مسئلہ ہے جس کے ساتھ یہاں کے عوام کی خواہشات و احساسات وابستہ ہے اور ہمارا یہ بنیادی موقف ہے کہ اس مسئلہ کو Militry Might سے عبارت approach سے ختم نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس مسئلے کو یا تو اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل آوری اور یاپھر مسئلہ سے جڑے فریقین بھارت ، پاکستان اور کشمیر عوام کے مابین ایک بامعنی اور نتیجہ خیر مذاکراتی عمل کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔رمضان سیز فائز کا برائے راست تذکرہ کئے بغیر میرواعظ نے کہا کہ کشمیر کے بارے میں کوئی بھی پہل تب تک ثمر آور ثابت نہیں ہوسکتی جب تک کشمیر کے بنیادی مسئلہ کو ایڈرس کرنے کیلئے اقدامات نہیں اٹھائے جاتے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ایک مہنے کے بعد کشمیریوں کو قتل کرنے کا سلسلہ پھر شروع کیا جائیگا؟جناب میرواعظ نے کہا کہ کشمیر ی عوام عالمی سطح پر تسلیم شدہ بنیادی حق یعنی حق خود ارادیت کیلئے جدو جہد کررہے ہیں اور کشمیریوں کی اس مبنی برحق جد وجہد کو دبانے کیلئے حکومت ہندوستان کی جارحانہ پالیسی کے جواب میں کشمیری عوام جس استقامت کے ساتھ مزاحمت کا مظاہرہ کررہا ہے اس کے انشاء اﷲ عنقریب مثبت نتائج برآمد ہونگے۔ میرواعظ نے شہید ملت، شہید حریت ، شہدائے حول اور جملہ شہدائے کشمیر کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہفتہ شہادت کی تقریبات منانے کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ جہاں ہم اپنے شہیدوں کی قربانیوں کو یاد کریں وہیں ان شہیدوں نے اپنے جانوں کا نذرانہ پیش کرکے ہم پر جو ذمہ داریاں عائدکی ہیں ان کا تقاضا ہے کہ ہم من حیث القوم فکر و عمل کی یکسوئی کے ساتھ رواں تحریک کے ساتھ مکمل وابستگی اور استقامت کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دبانے کیلئے حکومت ہندوستان نے ظلم و تشدد ، مار ڈھاڑ ، قتل و غارت گری کا ہر حربہ بروئے کار لایا اور اس حقیقت کے باوجود کہ ہمارا مقابلہ دنیا کے دوسرے سب سے بڑے ملک کے ساتھ ہے یہاں کے عوام نے ہر مرحلے پر جس حوصلے اور ہمت کا مظاہرہ کیا وہ ہم سب کیلئے ایک بڑا اثاثہ ہے۔ انہوں نے کہ کشمیری عوام نے بھارتی مظالم کے آگے خوفزدہ ہونا چھوڑ دیا ہے(They have rejected fear) حالانکہ بھارت نے یہاں کے حریت پسندقیادت اور عوام کے حوصلوں کو کمزور کرنے کیلئے بُلٹ و پیلیٹ کے ساتھ گرفتاریاں ، تھانہ و خانہ نظر بندیاں ،NIA ، کرفیو ، بندشیں جیسے مذموم حربے استعمال کئے نوجوانوں کو طاقت کے بل پر پشت بہ دیوار کرنے کے آمرانہ ہتھکنڈے بروئے کار لائے لیکن یہ سب حربے اور ہتھکنڈے بے سود ثابت ہوئے۔ جناب میرواعظ نے کہا کہ مزاحمتی سیاسی قیادت کے ساتھ ساتھ یہاں معاشرے کے تمام طبقوں کے ذمہ داران پر بھی رواں تحریک کے حوالے سے ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور کشمیر کے ہر طبقے سے وابستہ لوگ اور معاشرے کاہر حصہ عوامی تحریک کے ساتھ وابستہ ہے۔ میرواعظ نے ہفتہ شہادت کے پروگراموں کو کامیاب بنانے کے ساتھ مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے دیے گئے پروگراموں کو ہر سطح پر کامیاب بنانے پر زور دیا۔ اپنے خطاب میں محمد یاسین ملک نے شہید ملت اور شہید حریت کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں بلند پایہ قائدین نے ہمیشہ قومی اتحاد اور یگانگت کو ملحوظ نظر رکھ کر اس مظلوم قوم کی رہنمائی کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت ہندوستان کی یہ پالیسی ہے کہ کشمیری عوام پر بے تحاشہ تشدد اور مظالم ڈھا کر ان کو تحریک دستبردار کیا جائے اور آپریشن آل آوٹ اسی سلسلے کی ایک کھڑی ہے تاہم یہاں کی مزاحمتی سیاسی قیادت اور عوام جس ہمت اور حوصلے کے ساتھ حکومتی عزائم کی مزاحمت کررہے ہیں وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیری عوام کو طاقت کے بل پر زیر نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا شہدا کو خراج عقیدت ادا کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اپنے صفوں میں اتحاد کو برقرار رکھتے ہوئے نئی دلی کی جارحانہ پالسیوں کو مقابلہ کیا جائے۔اپنے خطاب میں پروفیسر عبدالغنی بٹ نے کہا کہ کشمیری عوام اپنے حقوق کے حصول کیلئے ایک جائز جدوجہد کررہے ہیں کہ بھارت کی قیادت نے ان سے جو وعدے کئے ہیں وہ وعدے وفا کئے جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام دنیا کے دوسرے سب سے بڑے ملک کے ساتھ نبردآزمائی کر رہے ہیں اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس جد وجہد میں یہاں کے لوگوں کے حوصلے بلند ہیں۔ اپنے خطاب میں بلال غنی لون نے کہا کہ تحریک مزاحمت کے ساتھ میری وابستگی شہید حریت کی شہادت کے ساتھ ہی شروع ہوئی ہے اور جہاں اجتماعی قیادت کی بات آتی ہے وہاں انفردای سوچ اور فکر کو اجتماعیت کے تابع بنانا قومی مفاد کیلئے لازمی بن جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کل جماعتی حریت کانفرنس ہمارے نظریے اور کاز کی نمائندگی کرتی ہے اور اس اتحاد کے ساتھ میری اور میری تنظیم کی وابستگی اٹوٹ ہے۔

Comments are closed.