معصوم بچیوں کی آبروریزی :گورنرکی منظوری کے بعدترمیم شدہ نئے فوجداری قانون نافذالعمل
سفاک مجرمین کوسزائے موت یاتاحیات عمرقید
سری نگر:۱۷،مئی:کے این این/ بچیوں کی آبروریزی کے مرتکب مجرمین کیلئے سخت ترین سزاؤں کااطلاق عمل میں ریاستی سرکارنے گورنرکی منظوری ملنے پرریاست میں انسدادعصمت دری قانون نافذکردیا۔ترمیم شدہ نئے ’فوجداری قانون کے تحت کمسن ونابالغ بچیو ں کیساتھ عصمت دری کے مرتکب قصورواروں کو’موت اورتاحیات عمرقید‘کی سزاؤں کاسامناکرناپڑے گا۔کے این این کے مطابق کمسن بچیوں کی عصمت دری کے قصورواروں کو ’عمر قید‘ یا پھانسی کی سزا‘ دینے کا قانون ریاست جموں وکشمیر میں بھی عمل میں آ گیا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ’فوجداری قانون (ترمیمی) آرڈیننس 2018‘ اور ’جموں وکشمیر پروٹیکشن آف چلڈرن فرام سیکچیول وؤئیلنس آرڈیننس 2018‘ نامی2 آرڈی نینسوں کو ریاستی گورنر این این ووہرا نے منظوری دے دی اور اس کے ساتھ ہی یہ سبھی جرائم مخاف آرڈی نینس ریاست میں نافذکر دئیے گئے۔ ریاستی کابینہ نے ان سبھی آرڈی ننسز کو 24اپریل کو منظوری دیکر ریاستی گورنر کے پاس بھیجا تھا۔ فوجداری قانون (ترمیمی) آرڈیننس 2018‘ کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ 12 سال سے کم عمر بچیوں کیساتھ جنسی زیادتی کے قصورواروں کو موت کی سزا دی جائے گی۔متذکرہ آرڈیننس کا مسودہ مرکزی حکومت کی طرف سے جاری کردہ آرڈیننس کے طرز پر ہے۔ آرڈیننس میں التزام ہے کہ 12 سال سے کم عمر کی بچی کیساتھ عصمت دری کرنے والے مجرم کو عمر قید کی سزا یا سزائے موت دی جائے گی۔ 13 سے 16 سال تک کی عمر کی بچی کیساتھ عصمت دری کرنے والے مجرم کو 20 سال یا عمر قید کی سزا دی جائے گی۔عمر قید کی سزا کا مطلب یہ ہے کہ قصوروار کو اپنی باقی زندگی جیل میں گذارنی ہوگی۔ آرڈیننس کے مطابق کمسن بچیوں اور خواتین کیساتھ جنسی زیادتی کے تمام واقعات کی تحقیقات خاتون پولیس عہدیدارکی سرپرستی میں ہوگی۔ کمسن اورنابالغ بچیوں کیساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کی تحقیقات2ماہ کے اندر مکمل کرنa ہوگی۔ عدالتوں کی جانب سے کیسوں کی سماعت یا ٹرائل6 ماہ کے اندر مکمل کرلی جائے گی۔ جبکہ ملزم یامجرم کو اپیل کیلئے بھی 6 ماہ کا وقت دیا گیا ہے۔ ایسے تمام واقعات یاکیسوں کی سماعت یا ٹرائل بندعدالتی کمروں میں کیمروں کی نگرانی میں ہوگی۔ملزم یامجرم کیلئے ضمانت کے شرائط کو سخت کردیا گیا ہے اور کسی ملزم کو آسانی سے ضمانت نہیں ملے گی۔ JKPCSV-2018آرڈیننس کے مطابق مجرموں کی جانب سے ادا کیا جانا والا جرمانہ متاثرین کو دیا جائے گا۔ یہ جرمانہ اس وقت سرکاری خزانے میں جمع ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ جموں کے ضلع کٹھوعہ میں رواں برس جنوری میں پیش آئے دل دہلانے والے واقعے میں ایک 8 سالہ کمسن بچی کی عصمت دری اوراسکوبے دردی کیساتھ قتل کئے جانے کے خلاف دنیا بھر میں بالعموم جبکہ ملک میں بالخصوص ناراضگی دیکھی گئی۔ تاہم کٹھوعہ واقعہ پر ناراضگی کی شدید لہر کے باوجود ملک کے مختلف حصوں میں بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں کے واقعات سامنے آئے تھے جس کے بعد مرکزی حکومت نے ایسے واقعات کے قصورواروں کو سخت سے سخت سزا دینے والا قانون بنانے کا اعلان کیا تھا۔ صدر جمہوریہ ہند رام ناتھ کووند نے 22 اپریل کو آبروریزی کے بڑھتے جرائم کو روکنے کے لئے سخت دفعات والے فوجداری قانون ترمیمی آرڈیننس کو منظوری دی ۔کے این این کے مطابق مرکزی کابینہ نے سخت آرڈیننس کو 21 اپریل کو منظوری دیکر صدر کے پاس بھیجا تھا۔ تاہم ریاست کو دفعہ 370 کے تحت خصوصی پوزیشن حاصل ہے، اس لئے مرکزی قوانین ریاست میں براہ راست نافذ نہیں ہوتے ہیں۔ ریاست کا اپنا کرمنل پروسیجر کوڈ بھی ہے۔ اس کے پیش نظر ریاستی حکومت کو اپنا الگ آرڈیننس لانا پڑا‘۔ریاستی کابینہ کی منظوری کے بعدکمسن بچیوں اورخواتین کیساتھ آبروریزی جیسی سنگین زیادتیوں کی روکتھا م کیلئے 2الگ الگ آرڈی نینسزکومنظوری کیلئے گورنرکے پاس بھیج دیا،اورگورنرنے دونوں اہم آرڈی نینسزپراپنی مہرثبت کردی ۔خبررساں ایجنسی یواین آئی کے مطابق جموں وکشمیر پروٹکشن آف چیلڈرن فرام سکچول وائلنس آرڈیننس 2018‘ کے مطابق ’یہ قانون 16 سال تک کی عمر کے بچوں کے لئے ہے۔ اس کے تحت جنسی تشدد کے واقعات کی تحقیقات اور ٹرائل چیلڈ فرنڈلی ہوگی۔ جب کوئی بچہ جس کی عمر 16 برس سے کم ہوتی ہے عدالت میں آتا ہے اور پولیس کے پاس جاتا ہے، تو اس کو ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بچوں سے پوچھ گچھ یا بیان لینا مطلوب ہوگا تو پولیس کے عہدیدار متاثرہ بچے کے گھر جاکر پوچھ گچھ یا بیان لیں گے ‘۔ آرڈیننسز کی رُو سے ملزمان کو ثابت کرنا ہوگا کہ انہوں نے جرم نہیں کیا ہے۔
Comments are closed.