کشمیر وادی، رمضان میں غیر ریاستی گداگروں کا مسکن
مساجد ،خانقاہوں اور زیارت گاہوں کے باہرڈالا ڈھیرہ ،فنِ کمال کی مہارت حاصل
سری نگر:۱۷،مئی:/ ماہَ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی مقامی اور غیر ریاستی گداگروں نے مساجد ،خانقاہوں اور زیارت گاہوں کے باہر اپنا ڈھیرہ جمالیا ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق کشمیر وادی میں رمضان کی آمد کے ساتھ ہی پیشہ ور غیر ریاستی گداگروں کی آمد شروع ہوگئی ، پیشہ ور گداگروں کا پورا نیٹ ورک کام کرنے لگا۔ایک اندازے کے مطابق رمضان المبارک سے قبل ہزاروں کی تعداد میں پیشہ ور گداگر بھارت کی دیگر ریاستوں سے سیزن لگانے کے لئے کشمیر وادی پہنچ گئے ہیں۔ ان پیشہ ور گداگروں میں نومولود شیر خوار بچے ، بزرگ ، نوجوان لڑکے و لڑکیاں شامل ہیں۔ پیشہ ور گداگر ٹھیک ٹھاک اداکار ہوتے ہیں،جو لوگوں کے نفسیات سے کھیلنا بخوبی جانتے ہیں۔شہر کے تمام سگنلز ، مساجد ، مزارات ، شاپنگ سینٹرز اور اہم مقامات گداگر مافیا میں تقسیم ہوچکے ہیں، ہر علاقے کا ٹھیکدار ہوتا ہے، جو پیشہ ور گداگروں کو کھانا ، رہائش اور پک اینڈ ڈراپ کے علاوہ یومیہ اجرت دیتا ہے۔ کوئی گداگر اپنے علاقے کے علاوہ کسی دوسرے علاقے میں بھیک نہیں مانگ سکتا۔ مقامی اور غیر مقامی گدا گروں کے درمیان ایک معاہدہ بھی ہوتا ہے ،اس معاہدے کے تحت معذور گداگر کو مقامی گداگر سہا را دیکر اُن مقامات پر پہنچا تا ہے ،جہاں اُنہیں با آسانی روزانہ ایک سے دو ہزار کی آمدنی ہوتی ہے ۔یہ پیشہ ورانہ گداگروں نے شہر و دیہات میں جگہ جگہ گدا گری کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ گداگری بڑھ رہی ہے اوربڑھتے بڑھتے مافیا کا روپ دھار گئی ہے۔ یہ مافیالوگوں کو غربت سے نجات دلانے کا بہانا کرکے بطور پیشہ گداگری کے لئے بھرتی کرتی ہے۔ رمضان آیا نہیں کہ فقیروں کے غول کے غول شہروں وقصبوں کا رخ کرنے لگتے ہیں۔کے این این نمائندے نے رمضان کے پہلے ہی روز گداگروں کو مساجد کے باہر، بازاروں ، گلی کوچوں اور چوہراہوں پر گداگری کرتے ہوئے پایا۔سب سے زیادہ تعداد غیر ریاستی معذوروں کی ہے جو معذوری کا واسطہ دے کر لوگوں کے دلوں میں ہمدردی پیدا کرکے ان سے زیادہ سے زیادہ رقم بٹورنے کی کوشش کرتے ہیں۔ رمضان میں ویسے بھی صدقہ، خیراۃ، زکواۃاور فطرہ بڑھ چڑھ کر کیا جاتا ہے لہذا مانگنے والوں کی چاندی ہوجاتی ہے۔ یہ بات دیگر ہے کہ ان میں حقدارکتنے ہوتے ہیں اور کتنے نہیں۔ایسا نہیں کہ پیشہ ور گداگروں کے خلاف قانون نہیں ، قانون ہے لیکن اس پر عمل درآمد کرائے کون ؟ گداگر مافیا کے خاتمے کے لئے معاشرے میں ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ تب ہی ان پیشہ ور گداگروں کا خاتمہ ممکن ہے۔
Comments are closed.