بتہ مالوکے نوجوان کی لامتناعی اسیری ، بے بس ماں گھرکی دیواروں کوتکتے رہنے پرمجبور
سری نگر:۱۷،مئی:کے این این/ بتہ مالوکے نوجوان کی طویل اسیری کے باعث ایک ماں گھرکی دیواروں کوتکتے رہنے پرمجبورہے۔کے این این کے مطابق دھوبی محلہ بتہ مالوکاایک نوجوان منظوراحمدخان ولدمرحوم غلام نبی خان اپنی38سالہ زندگی کے لگ بھگ14سال جیلوں میں گزارچکاہے ،اوراسوقت بھی یہ مزاحمت پسندنوجوان سینٹرل جیل سری نگرمیں ایام اسیری کاٹ رہاہے ۔بزرگ ماں گھرمیں تنہاء ایام زندگی کاٹ رہی ہے اوربیٹاجیل میں ایام اسیری ۔تحریک حریت کے سرگرم رُکن عمرعادل ڈار کی قیادت میں ایک وفدبیٹے کی رہائی کے انتظارمیں بیٹھی ایک بے بس کاحال جاننے کیلئے دھوبی محلہ بتہ مالو گیا۔عمرعادل نے بتایاکہ منظوراحمدخان کو12سال کی طویل اسیری کے بعدسال2015میں رہاکیاگیاتھالیکن صرف چھ سات ماہ بعدسال2016میں اس مزاحمت پسندنوجوان کوپھرپولیس نے گرفتارکرلیا۔انہوں نے کہاکہ منظورخان پرلاگوکئے گئے پی ایس اے کوعدالت عالیہ نے کالعدم قراردیتے ہوئے اسکی رہائی کے احکامات صادرکردئیے۔لیکن عدالتی احکامات پرعمل درآمدکے بجائے ایک بے بس ماں کے اس اکلوتے سہارے کوسنٹرل جیل سری نگرمیں ہی مقدرکھاگیاہے ۔اسیرنوجوان کے رشتہ داروں نے بتایاکہ منظوراحمدکی طویل اسیری کے دوران انکے والدرحمت حق ہوگئے ،اورماں اکیلی رہ گئی ۔انہوں نے کہاکہ برسوں بعدماں بیٹاسال2015میں منظورکی رہائی کے بعدکچھ ماہ تک اکٹھے رہے لیکن سال2016میں پھرمنظوراحمدکوگرفتارکیاگیا،اورتب سے ایک بے بس ماں اکیلی اُس دن کاانتظارکررہی ہے کہ کب اُسکابیٹاجیل سے رہاہونے کے بعدپھرواپس گھرلوٹ آئیگا۔تحریک حریت کے لیڈرعمرعادل ڈارنے بتایاکہ منظورخان کی طویل اسیری نے اسکی ماں کونڈھال کردیاہے کیونکہ اب اس ماں کاکوئی سہاراہی نہیں ۔انہوں نے کہاکہ یہاں عدالتی احکامات کوکبھی خاطرمیں نہیں لایاجاتاہے کیونکہ یہ ایک پولیس اسٹیٹ ہے ۔
Comments are closed.