وادی میں جاری قتل وغارت کیخلاف نیشنل کانفرنس کی احتجاجی ریلی

’عوام کیخلاف غیر اعلانیہ جنگ چھیڑ دی گئی ہے، سرکار ملٹری آپشن پر گامزن ‘

سرینگر /07مئی/ ہلاکتوں کے نہ تھمنے والے سلسلے کیخلاف نیشنل کانفرنس ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس ایک احتجاجی ریلی برآمد ہوئی۔ ریلی میں وادی میں آئے روز خون بہانے، نوجوانوں کی نسل کشی، مکانات زمین بوس کرنے، فورسز زیادتیوں، کریک ڈائونوں، توڑ پھوڑ ،بے تحاشہ گرفتاریوں اور مظاہرین پر گولیوں اور پیلٹ گنوں کے بے دریغ استعمال کیخلاف زبردست احتجاج کیا گیا اور حکومت کی اس عوام کش پالیسی کو ناقابل قبول قرار دیا گیا۔سی این آئی کے مطابق ریلی کی قیادت پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر کررہے تھے۔ ریلی کے شرکاء نے اپنے ہاتھوں میں بینر اُٹھا رکھے تھے جن پر ‘ BJP PDP- DOWN DOWN،Stop State Terrorism ، افسپا کو منسوخ کرو…منسوخ کرو، Operation All OUTبند کرو…بند کرو، انسانی حقوق کی پامالیاںبند کرو… بند کرو، ریاست میں خون خرابہ بند کرو…بند کرو، نوجوانوں کی گرفتاریاںبند کرو… بند کرو،کٹھوعہ کے ملزموں کو پھانسی دو…پھانسی دو، سرکاری دہشت گردی بند کرو … بند کرو، ظلم و ستم،بس کرو … بس کرو،جنوبی کشمیر میںقتل وغارت، انسانی حقوق کی پامالیاں،گرفتاریاں اور کریک ڈائون بند کرو … بند کرو وغیرہ‘ کے نعرے تحریر کئے گئے تھے۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے جنرل سکریٹری نے کہا کہ موجودہ سرکار ملٹری آپشن کے ذریعے ٹکی ہوئی اور سیاسی طریقہ کار کو بالائے طاق رکھ کر عوام کیخلاف غیر اعلانیہ جنگ چھیڑ دی گئی ہے۔ موجودہ حکومت کی غلط پالیسیوں اورظلم و جبر نتیجہ آج ہم بخوبی دیکھ سکتے ہیں، مقامی نوجوانوں جنگجوئوں کی صفوں میں شامل ہونے کا جو تشویشناک رجحان اس وقت جاری ہے، ایسا ماضی میں کبھی بھی دیکھنے کو نہیں ملا۔ ظلم و ستم، مار دھارڈ اور ناانصافی کا جو دور اس وقت جاری ہے ، اس کی مثال ماضی میں کہیں نہیں ملتی۔ ساگر نے کہا کہ ایک 15سالہ لڑکے کو پولیس گاڑی کے نیچے بڑی بے دردی سے کچل دیا جاتا ہے، اس سے بڑی قتل و غارت کی مثال کی ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی بھاجپا حکومت کے قیام کیساتھ ہی لوگوں پر ظلم و ستم کا رجحان شروع ہوئی اور ہر گزرتے دن کیساتھ بڑھتا گیا اور آج حالات یہاں تک پہنچے ہیں کہ ہر طرف خون ہی خون بہ رہا ہے اور حکمران خاموش تماشائی بن بیٹھے ہیں۔ مرکزی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ساگر نے کہا کہ وزیر اعظم نے کشمیریوں کو گلے لگانے کی بات کہی لیکن کشمیریوں پر گولیاں برسائی جارہی کیا۔ وزیر اعظم نے کہا تھا کہ گلے لگانے سے بات بنے گی لیکن عملی طور پر آپریشن آل آئوٹ شروع کرکے گولیوں اور بموں کے ذریعے بات بنانے کی راہ اختیار کی گئی ہے جو سراسر غلط ہے۔ متعدد لیڈران نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت ہر لحاظ سے ناکام ثابت ہوئی ہے جس کا خمیازہ عام لوگوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ پی ڈی پی حکومت نے گذشتہ 3سال میں ظلم و ستم کے ریکارڈ مات کردیئے، آئے روز ہلاکتوں، کریک ڈائونوں، شبانہ چباپوں اور گرفتاریوں سے لوگوں کا جینا حرام ہوگیاہے، نمازوں پر پابندی اور مساجد پر تالے چڑھانا اب روز کا معمول بن گیا ہے،بے جا گرفتاریوں اور بلاوجہ پکڑ دھکڑ سے نوجوان پود عدم تحفظ کا شکار ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت جموں وکشمیر پر دو سرکاریں کام چلا رہی ہیں، ایک ناگپور کی اور دوسری مقامی سرکار ہے البتہ ناگپور سرکار کے فیصلے زیادہ چلتے ہیں اور مقامی سرکار کے کم۔ کہا کہ موجودہ حکومت کشمیر دشمن اور عوام دشمن ثابت ہوئی ہے۔ حکومت نے عوام خصوصاً نوجوانوں کیخلاف اعلانِ جنگ کر رکھا ہے۔ پی ڈی پی کی ساڑے سالہ حکومت میں کشمیر پر ظلم و ستم کے تمام ریکارڈ مات کئے گئے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ سکولوں اور کالجوں میں گھس کر پیلٹ ، بلٹ اور ٹیئر گیس شلوں کی بوچھاڑ کی جاتی ہے، شمال سے لیکر جنوب تک حکومتی ظلم و ستم کیخلاف پُرامن احتجاج کررہے طلباء و طالبات کیخلاف طاقت کا بے تحاشہ استعمال کرکے جمہوریت اور اظہارِ رائے کی آزادی کی مٹی پلید کر دی گئی۔ ظلم و ستم کی ایسی مثالیں ماضی میں کہیں نہیں ملتی ہیں۔ لیکن پی ڈی پی حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑتا، یہ جماعت اقتدار کو گلے لگائے بیٹھی ہے۔ ریلی پارٹی کے سینئر لیڈران عرفان احمد شاہ، صوبائی ترجمان عمران نبی ڈار، صوبائی سکریٹری ایڈوکیٹ شوکت احمد میر، پارٹی لیڈران منظور احمد وانی، غلام بٹ، جگدیش سنگھ آزاد، ایڈوکیٹ نذیر احمد ملک، یوتھ لیڈران، ضلع صدور حاجی عبدلاحد بٹ، ڈاکٹر محمد شفیع، میر غلام رسول ناز، نثار احمد نثار، بلاک صدور صاحبان بھی نے بھی شرکت کی۔ دریں اثناء پارٹی کے اعلیٰ قیادتی وفد نے ریاست کے گورنر شری این این ووہرا کیساتھ راج بھون میں ملاقات کی اور انہیں ریاست کی موجودہ تباہ کن حالات اور شہری ہلاکتوں کے بارے میں ایک میمورنڈم بھی پیش کیا۔ اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر کررہے تھے ۔ وفد میں پارٹی لیڈران ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال، مبارک گل، محمد اکبر لون، علی محمد ڈار، عبدالمجید بٹ لارمی، قیصر جمشید لون، ایڈوکیٹ محمد اسحاق قادری، محمد سعید آخون، ایڈوکیٹ میر، پیر آفاق احمد، جاوید احمد ڈار، ڈاکٹر بشیر احمد ویری، شریف الدین شارق اور پیر زادہ احمد شاہ بھی تھے۔

Comments are closed.