’’ اسسٹنٹ پروفیسر جنگجو کیسے بنا ‘‘
اسسٹنٹ پروفیسر کو سرینڈر کرنے کیلئے والدین ، بیوی اور بھائی کے علاوہ
15اسکالروں کو جھڑپ کی جگہ طلب کیا گیا تاہم اُس نے لڑنے کو ہی ترجیح دی /پولیس آفیسر
سرینگر؍06؍مئی؍؍ بادی گام شوپیاں جھڑپ میں ایک دن کا جنگجو اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد رفیع بٹ کو سیکورٹی فورسز نے زندہ پکڑنے کی کوشش کے بطور اسے سرینڈر کرنے کی بار بار پیشکش کی گئی یہاں تک کہ والدین اور بیوی کو بھی طلب کیا گیا تاہم پروفیسر نے پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے لڑنے کو ہی ترجیح دی ۔ پولیس کے ایک سینئر آفیسر کے مطابق کشمیر یونیورسٹی میں تعینات 15پروفیسروں کو بھی شوپیاں طلب کیا گیا انہوں نے بھی پروفیسر کو سرینڈر کرنے کیلئے منت سماجت کی تاہم اُس نے ایک نہ سنی ۔ جے کے این ایس کے مطابق بانی گام شوپیاں جھڑپ کے دوران رہائشی مکان محصور ایک دن کا جنگجو اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد رفیع بٹ کو زندہ پکڑنے کیلئے سیکورٹی فورسز نے انتھک کوشش کی یہاں تک کہ پولیس اور فوج کے سینئر آفیسران کے درمیان جھڑپ کی جگہ ہی میٹنگ منعقد ہوئی جس دوران فیصلہ کیا گیا کہ جنگجوؤں کے والدین کو طلب کیا جائے۔ ایک گھنٹے کے بعد پروفیسر کے والدین ، بھائی ، بہن اور بیوی بانی گام شوپیاں پہنچے ، لاوڈ سپیکروں پر والدین نے روتے ہوئے پروفیسر کو سرینڈر کرنے کیلئے منت سماجت کی تاہم اُس نے ایک نہ سنی ۔ شوپیاں میں تعینات پولیس کے ایک سینئر آفیسر نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ اسسٹنٹ پروفیسر کو زندہ پکڑنے اور اُسے لواحقین کے حوالے کرنے کیلئے کشمیر یونیورسٹی میں تعینات 15اسکالروں کو جھڑپ کی جگہ طلب کیا گیا ، انہوں نے بھی پروفیسر کو سرینڈر کرنے کیلئے دباو ڈالا یہاں تک کئی ایک اُس رہائشی مکان کے نزدیک بھی گئے جہاں پر جنگجو محصور تھے تاہم پروفیسر نے لڑنے کو ہی ترجیح دی ۔ مقامی ذرائع نے بتایا کہ جب پروفیسر کی ماں نے اپنے لخت جگر کو سرینڈر کرنے کے ضمن میں آگاہ کیا اس دوران پورے علاقے میں رقعت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے یہاں تک کئی منٹوں تک سیکورٹی فورسز بھی پیچھے ہٹ گئے ۔ ذرائع کے مطابق قریباً ایک گھنٹے تک جب والدین کی جانب سے اپنے لخت جگر کو سرینڈر کرنے کی پیشکش کو پروفیسر نے ٹھکرایا تو سیکورٹی فورسز نے پوزیشن سنبھال کر رہائشی مکان پر مارٹر گولے داغے اور دیکھتے ہی دیکھتے مکان زمین بوس ہو گیا ہے اور پروفیسر اپنی جان گنوا بیٹھا۔ ادھر ذرائع سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ کشمیر یونیورسٹی میں دو روز قبل پروفیسر پُر اسرار طورپر لاپتہ ہو گیا اگر چہ اُس کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چلا تاہم اتوار کے روز شوپیاں میں جھڑپ شروع ہوتے ہی سیکورٹی فورسز کو اطلاع ملی کہ رہائشی مکان میں پروفیسر بھی محصور ہے اور اُس نے ایک روز قبل ہی جنگجو تنظیم میں شمولیت اختیار کی ہے۔
Comments are closed.