سیکورٹی فورسز کی راست فائرنگ 5عام شہری پانچ مقامی جنگجوؤں سمیت 11افراد ہلاک
بادی گام شوپیاں میں جھڑپ کے دوران حزب المجاہدین دو سینئرکمانڈروں سمیت 5جنگجو جاں بحق، کشمیر یونیورسٹی کا پروفیسر بھی لڑتے لڑتے ہلاک ہوا
شوپیاں اور پلوامہ میں مظاہرین پر راست فائرنگ 6عام شہری ہلاک 70کے قریب زخمی ، شوپیاں ، کولگام اور پلوامہ میں شدید ترین مظاہرئے
سرینگر؍06؍مئی؍ جے کے این ایس؍ پہاڑی ضلع شوپیاں کے بادی گام گاؤں میں عسکریت پسندوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپ کے دوران حزب المجاہدین کے مطلوب ترین دو کمانڈر ، اسسٹنٹ پروفیسر سمیت 5مقامی جنگجو جاں بحق ، چار فورسز اہلکار مضروب ۔ناگہ بل ، ہف شرمال ، پلوامہ میں مظاہرین پر راست فائرنگ 6عام شہری ہلاک 70کے قریب زخمی ۔مشتعل ہجوم نے فائر سروس کی دوگاڑیاں ، ہٹوں کو نذر آتش کیا۔ جنوبی کشمیر کے چار اضلاع پلوامہ ، شوپیاں ، کولگام اور اننت ناگ میں سیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں نازک زخمیوں کو سرینگر کے اسپتالوں میں بھرتی کیا گیا ۔ معروف حزب کمانڈر صدام پڈر توصیف احمد اور بلال کی نماز جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔ اس دوران نماز جنازہ کے بعد عسکریت پسندوں نے اپنے ساتھیوں کو سلامی دینے کی غرض سے ہوائی فائرنگ کی ۔پولیس سربراہ ، کور کمانڈر اور آئی جی کشمیر نے شوپیاں میں پانچ جنگجوؤں کو مار گرانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ حزب المجاہدین کو جنوبی کشمیر میں شدید دھچکا لگا ہے۔ جے کے این ایس کے مطابق عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلا ع ملنے کے بعد پولیس ، سی آر پی ایف اور آرمی نے شوپیاں کے بادی گام علاقے کو محاصرے میں لے کر جونہی جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا اس دوران رہائشی مکان میں محصور پانچ جنگجوؤں نے شدید فائرنگ شروع کی ۔ نمائندے کے مطابق سیکورٹی فورسز نے بھی پوزیشن سنبھال کر جوابی کارروائی کی جس دوران پورا علاقہ گولیوں کے گن گرج اور دھماکوں سے لرز اٹھا۔ معلوم ہوا ہے کہ جھڑپ شروع ہونے کی خبر پھیلتے ہی آس پاس رہائش پذیر لوگ اپنے گھروں سے باہر آئے اور جلوس کی صورت میں جھڑپ کی جگہ جانے کی کوشش کی تاہم سیکورٹی فورسز نے پہلے ہی علاقے میں چار دائروں والی سیکورٹی تعینات کی تھی جس کی وجہ سے لوگ اُس رہائشی مکان کے نزدیک نہ پہنچ سکے جہاں پر پانچ جنگجو موجود تھے۔ نمائندے کے مطابق پولیس اور فوج کے سینئر آفیسران بھی جائے موقع پر پہنچ گئے اور رہائشی مکان میں محصور جنگجوؤں کو سرینڈر کرنے کی پیشکش کی اس دوران کشمیر یونیورسٹی میں تعینات اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد رفیع کے والدین کو بھی شوپیاں طلب کیا گیا تاہم جنگجوؤں نے پیشکش کو ٹھکراتے ہوئے فائرنگ جاری رکھی۔ نمائندے کے مطابق دو گھنٹے کے بعد اسسٹنٹ پروفیسر کے والدین ، بہن ، بھائی اور اہلیہ بادی گام شوپیاں پہنچے اور لاوڈ سپیکروں کے ذریعے ڈاکٹر محمد رفیع کو بار بار سرینڈر کرنے کی پیشکش کی اس دوران سیکورٹی فورسز نے والدین کو ایک گھنٹہ دیا تاہم اس دوران وہ اپنے بیٹے کو راضی نہ کر سکے کیونکہ محصور پروفیسر نے اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہاکہ وہ سرینڈر ہونے کے بجائے شہید ہونے کو ترجیح دیں گے۔ ذرائع کے مطابق قریباً ایک گھنٹے تک لخت جگر کو منانے کی تمام کوششیں رائیگاں ہونے کے بعد سیکورٹی فورسز نے اُس رہائشی مکان پر مارٹر گولے داغے جہاں پر جنگجو موجود تھے ۔ نمائندے کے مطابق رہائشی مکان کا ملبہ اُٹھانے کے بعد وہاں سے پانچ جنگجوؤں کی نعشیں جن کی شناخت بلال احمد موہند عرف بلال مولوی ساکنہ ہف شرمال شوپیاں، صدام پڈر ، توصیف احمد اور ڈاکٹر محمد رفیع کی نعشیں برآمد ہوئیں۔ معلوم ہوا ہے کہ جنوبی کشمیر کے چار اضلاع میں صدام پڈر اور اُس کے ساتھیوں کو مار گرانے کی خبر پھیلتے ہی ہزاروں کی تعداد یں لوگ گھروں سے باہر آئے اور احتجاجی مظاہرئے کئے ۔ نمائندے کے مطابق جونہی مقامی جنگجوؤں کی نعشیں امام صاحب پولیس اسٹیشن پہنچائی گئی تو وہاں پر لوگوں کا اژدھام اُمڑ پڑا۔ انتظامیہ نے نعشیں لواحقین کے سپرد کی اس دوران جونہی جلوس میں شامل لوگ ناگہ بل شوپیاں کے قریب پہنچنے تو وہاں پر موجود فوجی کیمپ کی حفاظت پر مامور اہلکاروں نے مظاہرین پر راست فائرنگ کی جس کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوئے جن میں سے دو کی موقعے پر ہی موت واقع ہوئی ۔ نمائندے کے مطابق بادی گام شوپیاں میں پُر تشدد جھڑپوں کے دوران 30کے قریب مظاہرین زخمی ہوئے جن میں سے بعد 2کی اسپتال میں موت واقع ہوئی ۔ ابھی ناگہ بل شوپیاں اور بادی گام میں چار مظاہرین کو گولیوں سے بوندھ کر رکھ دینے کی خبر کانوں سے گونج ہی رہی تھی کہ پلوامہ میں سیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپوں کے دوران بندوقوں کے دہانے کھولے گئے اور وہاں پر درجنوں افراد زخمی ہوئے اور بعد میں دو مظاہرین دم توڑ بیٹھے۔ نمائندے کے مطابق شوپیاں ، پلوامہ اور کولگام میں 70کے قریب افراد زخمی ہوئے جن میں سے ایک درجن سے زائد افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا ۔ مہلوک مظاہرین کی شناخت عاصف احمد میر ساکنہ رہمو پلوامہ ، سجاد احمد راتھر ولد منظور احمد ساکنہ ڈورو اننت ناگ ، عادل ساکنہ عش موجی ماہی گنڈ کولگام، نثار احمد ساکنہ آری ہل پلوامہ ،زبیر احمد ساکنہ شوپیاں اور نثار احمد کمار کے بطور ہوئی ہے۔ نمائندے کے مطابق چھ عام شہریوں کی موت واقع ہونے کی خبر پھیلتے ہی پوری وادی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور اطراف واکناف میں سیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ نمائندے کے مطابق بادی گام شوپیاں میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں جاں بحق مقامی جنگجوؤں کو جونہی اپنے اپنے آبائی علاقوں کو پہنچایا گیا تو وہاں کہرام مچ گیا ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے جنگجوؤں کی نماز جنازہ میں شرکت کی جس دوران رقعت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے۔ ذرائع نے بتایا کہ ہف شرمال شوپیاں میں بلال مولوی کی نماز جنازہ کے دوران چند بندوق بردار نمودار ہوئے اور اپنے ساتھی کو سلامی دینے کی غرض سے کئی منٹوں تک ہوائی فائرنگ کی ۔ نمائندے نے بتایا کہ شوپیاں اور پلوامہ میں سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں جاں بحق چھ شہریوں کی نماز جنازہ میں بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور بعد میں انہیں پُر نم آنکھوں کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا ۔ نمائندے کے مطابق جنوبی کشمیر کے ساتھ ساتھ پوری وادی میں حالات پُر تناؤ بنے ہوئے ہیں۔ شوپیاں اور پلوامہ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق عام شہریوں اور جنگجوؤں کی ہلاکت کے بعد شوپیاں ، پلوامہ اور کولگام میں مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپوں کے دوران دو گاڑیوں اور ہٹوں کو نذر آتش کیا گیا ۔ ذرائع نے بتایا کہ شہریوں ہلاکتوں کے خلاف لوگوں میں حکومت کے تئیں شدید غم وغصہ ہے ۔ پولیس سربراہ ڈاکٹر ایس پی وید نے جھڑپ کے حوالے سے بتایا کہ صبح سویرے شوپیاں کے بادی گام علاقے میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا گیا جس دوران سیکورٹی فورسز اور عسکریت پسنددوں کے درمیان گولیوں کا تبادلہ ہوا۔ سیکورٹی فورسز نے بھی پوزیشن سنبھال کر جوابی کارروائی کی شروع جس دوران کئی گھنٹوں تک مسلسل گولیوں کا تبادلہ جاری رہا۔ پولیس سربراہ نے مزید بتایا کہ جنگجوؤں کو اگر چہ بار بار سرینڈر کرنے کی پیشکش کی گئی تاہم انہوں نے لڑنے کو ہی ترجیح دی ۔ انہوں نے کہاکہ جھڑپ کے دوران حزب المجاہدین کے مطلوب ترین کمانڈرے مارے گئے اور اس طرح سے جنوبی کشمیر میں حزب المجاہدین کو بہت بڑا دھچکا لگا ہے۔ ادھر کور کمانڈر لفٹنٹ جنرل اے کے بٹ نے کہاکہ شوپیاں میں جھڑپ کے دوران مارے گئے جنگجو سیکورٹی فورسز کو کافی عرصہ سے مطلوب تھے اور اُن کے جاں بحق ہونے سے جنوبی کشمیر میں ملی ٹینٹوں کو دھچکا لگا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرگرم جنگجوؤں کے خلاف آپریشن آل آوٹ جاری رہے گا۔ آئی جی کشمیر ایس پی پانی نے جھڑپ کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ بادی گام شوپیاں میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد جونہی جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا گیا اس دوران رہائشی مکان میں محصور عسکریت پسندوں اور فورسز کے درمیان کافی دیر تک گولیوں کا تبادلہ جاری رہا۔ انہوں نے کہا کہ جھڑپ کی جگہ پانچ مقامی عسکریت پسندوں کی نعشیں برآمد کی گئی ہے۔
Comments are closed.