کشمیر عوام امن کے متلاش ،ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے امن مارچ کو ہری جھنڈی دکھائی

’وزیر اعظم ہند کویندر گپتا جیسے لوگوں کے شرمناک اور افسوسناک بیانات و اقدامات کو اَن دیکھا کررہے ہیں‘

سرینگر /03مئی / ’کشمیری عوام امن کے متلاشی ہیں، ہم امن و امان کی فضاء میں زندگی گزارنے کے خواہاں ہیں، ہم نے ہمیشہ تشدد کیساتھ نفرت کی اور عدم تشدد کے حامی رہے، لیکن وادی کے موجودہ حالات انتہائی سنگین ہیں اور حالات ہر گزرتے دن کیساتھ بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں، اگرچہ جموں کے حالات قدرے بہتر ہیں لیکن فرقہ پرست عناصر وہاں حالات بگاڑنے کے در ہے ہیں، ہمیں متحد ہوکر ایسے امن دشمن عناصر کیخلاف صف آراء ہونا چاہئے تاکہ ریاست کے صدیوں کے بھائی چارے اور مذہبی ہم آہنگی کو آنچ نہ آسکے‘‘۔سی این آئی کے مطابق ان باتوں کا اظہار صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے آج غیر سرکاری تنظیم Peace Of Indiaکی طرف سے امن مارچ کو شیر کشمیر پارک سرینگر سے ہری جھنڈی دکھاتے ہوئے کیا۔ اس موقعے پر راجیہ سبھا ممبر نذیر احمد لاوے، تنظیم کے چیئرمین وشال بردھواج، تنظیم کے ریاست صدر سید خالد، تنظیم کے ضلع صدر کرگل و ہل کونسل کے کونسلر سید عباس رضوی اور این سی لیڈر مشتاق احمد گورو کے علاوہ کئی معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔ یہ امن ریلی 30رضاروں پر مشتمل ہے، ریلی گجرات کے گاندھی آشرم میں اختتام کو پہنچے گی۔ ’ہند، مسلم، سکھ، عسائی، ہم سب ہیں بھائی بھائی ‘ پیس آف انڈیا کا نعرہ ہے اور اسی مقصد کی خاطر ریلی کا اہتمام کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اس موقعے پر نامہ نگاروں کیساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے ہر کسی کونے کے لوگ امن و امان کی زندگی گزارنے کے خواہاں ہیں اور ہم بھی یہی چاہتے ہیں،کیونکہ امن کی صورت میں ہی ہماری ترقی، خوشحالی اور فارغ الباری کا راز مضمر ہے۔ اسی مقصد کی خاطر نے بار بار ہندوستان اور پاکستان کے درمیان صلح صفائی اور مسئلہ کشمیر کے دائمی حل کا مطالبہ کرتے آتے ہیں اور ساتھ ہی ہم ریاست کے اندر مذہبی ہم آہنگی اور آپسی رواداری کی مشعل کو فروزان رکھنے کے خواہاں اور کوشاں رہے ہیں۔ کویندر گپتا کے بیان سے متعلق پوچھے گئے سوا ل کے جواب میں صدرِ نیشنل کانفرنس نے کہا کہ بھاجپا لیڈر کا بیان نہایت افسوسناک اور شرمناک ہے۔ اس بیان سے فرقہ پرستی کی بو آتی ہے، 8سالہ کی معصومہ کسی ایک طبقہ کی لاڈلی نہیں بلکہ پورے ملک کی بیٹی تھی، جس کو انصاف فراہم کرنے کیلئے صرف ریاست کے اندر ہی نہیں بلکہ پورے ملک اور دنیا بھر سے آوازیں اُٹھ رہی ہیں یہاں تک کہ دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ادارے اقوام متحدہ نے بھی اس گھنوانے جرم کے مرتکب افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کی بات کہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان گھناونے واقعہ نے جہاں پوری دنیا کو جھنجوڑ دیا وہیں کویندر گپتا جیسے لوگ فرقہ پرستی کے بھنور میں ڈوپ کر اتنے سنگ دل ہوگئے ہیں کہ انہیں یہ ایک معمولی معاملہ لگ رہا ہے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ایک طرف وزیر اعظم نریندر مودی بیٹی بچائو اور بیٹی پڑائو کے نعرے دے رہے ہیں اور دوسری جانب اپنی پارٹی میں شامل کویندر گپتا جیسے لوگوں کے شرمناک اور افسوسناک بیانات و اقدامات کو اَن دیکھا کررہے ہیں۔

Comments are closed.