جسم پر اسکول کی قیض رکھ کر نویں جماعت کا طالب علم آبائی علاقے میں سپرد خاک
نماز جنازوں میں لوگوں کا سیلاب امڑ آیا ،پنجورہ شوپیان کی فضا سوگوار ، ہر آنکھ نم اور ہر دل رنجیدہ نظر آیا
سرینگر /03مئی / ترکہ وانگام علاقے میں فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق طالب علم کو اسکولی وردی پہنا کر اسلام وآزادی کے حق میں فلک شگاف نعروں کے بیچ اپنے آبائی علاقے میں ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں سپرد خاک کیا گیاجبکہ کمسن طالب علم کے نمازجنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔اسی دوران کمسن طالب علم کی ہلاکت کے خلاف جنوبی کشمیر کے بیشتر علاقوں میں مکمل ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں تمام تجارتی و کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہو کر رہ گئی ۔ سی این آئی نمائندے کے مطابق شوپیان کے ترکہ وانگام علاقے میں فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان جھڑپ کے بیچ فورسز کی فائرنگ سے نویں جماعت کا طالب علم عمر کمار ولد عبد اللہ کمار ساکنہ پنجورہ شوپیان جاں بحق ہو گیا۔ نمائندے کے مطابق جونہی مہلوک نوجوان کی نعشوں کو ان کے آبائی علاقوں میں پہنچایا گیا تو اس موقعے پر وہاں کہرام مچ گیااور لوگوں کا جم غفیر علاقے میں امڈ آیا اور اس دوران نہ صرف وہاں ماتم اور آہ و زاری کے رقعت آمیز مناظر دیکھے گئے بلکہ علاقے میں لاوڈ اسپیکروں پر اسلام اور آزادی کے حق میں نعرے بازی شروع ہوئی ۔اسی دوران آس پاس کے علاقوں سے بھی لوگوں کی بڑی تعداد نے پنجورہ شوپیان پہنچ گئی ۔جس کے بعد مہلوک نوجوان کا نماز جنازہ ادا کیا ، بتایا جاتا ہے کہ نوجوان کے نماز جنازہ میں ہزاروں لوگوں کی تعداد میں شرکت کی جس کے بعد اس کو اپنے آبائی مقبرے میں پْر نم آنکھوں کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا ۔معلوم ہوا ہے کہ جاں بحق ہونے والے نویں جماعت کے طالب علم عمر احمد کمہار کو جمعرات کی صبح ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں اپنی سکول وردی کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔اسی دوارن جاں بحق طالب علم کی یاد میں جنوبی کشمیر کے کئی علاقوں میں تعزیتی ہڑتال جاری رہی جس کے نتیجے میں تمام تجارتی و کاروباری سرگرمیاں مکمل ٹھپ ہو کر رہ گئی ۔ اسی دوران معلوم ہوا ہے کہ پنجورہ علاقے میں کمسن طالب علم کی ہلاکت کے خلاف علاقہ کی فضا سوگوار تھی جبکہ ہر طرف رقعت آمیز مناظر دیکھنے کو مل رہے تھے ۔
Comments are closed.