ترکہ وانگام شوپیان میں پُر تشدد جھڑپیں جنگجو مخالف آپریشن میں حائل

جنگجوئوں فورسز کو چکمہ دیکر فرار ہونے میں کامیاب ، جمعرات کی اعلیٰ صبح فورسز نے محاصرہ ختم کیا

سرینگر /03مئی / پہاڑی ضلع شوپیان کے ترکہ وانگام علاقے میں رات بدھ کی دو پہر سے جاری فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان جھڑپ جمعرات کی صبح اختتام پذیر ہوئی جبکہ جنگجوئوں فورسز کو چکمہ دیکر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ۔ اسی دوران مقامی لوگوں نے فورسز پر علاقے میں توڑ پھوڑ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہ فورسز نے مکانوں اور گاڑیوں کی شد ید توڑ پھوڑ کی ۔ سی این آئی کو شوپیان سے نمائندے نے پولیس ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے اطلاع دی ہے کہ ضلع کے ترکوانگام علاقے میں علاقے میں جنگجوؤں کی موجودگی سے متعلق مصدقہ اطلاع ملنے پر فورسز اور جموں وکشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) نے مذکورہ گاؤں میںبدھ کے بعد دوپہروسیع تلاشی آپریشن شروع کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ جب سیکورٹی فورسز مذکورہ گاؤں میں ایک مخصوص کی جانب پیش قدمی کررہے تھے تو وہاں ایک رہائشی مکان میں موجود جنگجوؤں کے ایک گروپ نے فورسز پر اپنی بندوقوں کے دھانے کھول دیے اور فائرنگ کی۔ ذرائع نے بتایا فورسز نے جوابی فائرنگ کی جس کے بعد طرفین کے مابین باضابطہ طور پر گولہ باری کا تبادلہ شروع ہوا۔ ذرائع کے مطابق گولیوں کی گھن گرج سے پورا علاقہ لرز اٹھا جبکہ ابتدائی گولی باری کیساتھ ہی بڑی تعداد میں نوجوان سڑکوںپر نکل آئے او رپولیس و فورسز پر سنگ باری شروع کی ۔تشدد پر اُتر آئی بھیڑ کو منتشر کرنے کیلئے پولیس و فورسز نے آنسو گیس کے گولے داغے ، پیلٹ گولیوں اور پیپر گیس کا بھی استعمال کیا تاہم صورتحال قابو سے باہر ہوگئی اور پولیس وفورسز نے سڑکوں پرنکل آنے والے نوجوانوں اور سنگ باری کرنے والوں کو منتشر کرنے کیلئے ہوا میں گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں پولیس و فورسز کی جانب سے گولیاں چلانے کے دوران مبینہ طور پر درجنوں افراد شدید طور پر زخمی ہوئے جن میں سے ایک طالب علم زخموں کی تاب بہ لاکر دم توڑ بیٹھا ۔ معلوم ہوا ہے کہ رات دیر گئے تک علاقے میں تلاشی آپریشن جاری تھا ۔ معلوم ہوا ہے کہ’مسلح تصادم کے دوران دو رہائشی مکانات کو شدید نقصان پہنچا‘۔ ذرائع نے بتایا کہ مخالف سمت سے گولہ باری کا سلسلہ رکنے کے بعد متذکرہ مکانات اور نذدیکی مکانات کی تلاشی لی گئی لیکن کسی جنگجو کو وہاں موجود نہیں پایا گیا۔ انہوں نے بتایا ’جنگجو اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے‘۔ تاہم موصولہ اطلاعات کے مطابق مسلح تصادم کے مقام پر مقامی لوگوں کے شدید احتجاج کے باعث علاقہ میں محصور جنگجو فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ جس کے بعد فورسز نے علاقے کا محاصرہ ختم کر لیا ۔ اسی دوران مقامی لوگوں نے فورسز پر علاقے میں توڑ پھوڑ کا الزام عائد کرتے ہوئے بتایا کہ فورسز نے علاقے میں زبردست توڑ پھوڑ کی جس دوران گاڑیوں اور مکانوں کے شیشے چکنا چور ہوئے ۔

Comments are closed.