کیوندر گپتا کی طرف سے کھٹوعہ عصمت ریزی اور قاتل کو معمولی واقعہ قرار دینا افسوسناک
7مارچ کو سیکریٹریٹ تک مارچ کر کے نائب وزیر اعلیٰ کو سیکریٹریٹ میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا /کشمیر اکنامک الائنس
سرینگر/ 02مئی/ کشمیر اکنامک الائنس نے نائب وزیر اعلیٰ کیوندر گپتا کی طرف سے کھٹوعہ عصمت ریزی اور قاتل کو معمولی واقعہ قرار دینے کو اخلاق سوز قرار دیتے ہوئے7مارچ کو سیکریٹریٹ تک مارچ کر کے نائب وزیر اعلیٰ اور راجیو جسروٹیاں کو سیکریٹریٹ میں داخل ہونے سے روکنے کا اعلان کیا۔اس دوران کھٹوعہ کے بلوار علاقے میں ایک طلاب علم لیاقت علی کو گھنڈوں کی طرف سے ہلاک کرنے کی بھی مذمت کی۔سی این آئی کے مطابق سرینگر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ٹرانسپورٹروں،صنعت کاروں،تاجروں اور ٹھکیداروں کے مشترکہ پلیٹ فارم کشمیر اکنامک الائنس کے چیئرمین محمد یوسف چاپری نے نائب وزیر اعلیٰ کیوندر گپتا کے کھٹوعہ واقعے سے متعلق بیان کو فرقہ پرستی اور متعصبانہ سوچ کی عکاسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ1947سے لیکر آج تک جموں کشمیر میں عوام پر جو ظلم و ستم ہوا ہے کھٹوعہ واقعہ اس سیاہ کتاب میں ایک اور باب ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہب اور سیاست سے پرے اس معاملے کو انسانیت کی نظروں سے دیکھنا چاہے،تاہم نائب وزیر اعلیٰ نے کو لہجہ استعمال کیا،وہ اس بات کی عکاسی ہے کہ وہ اپنے عہدے اور ذمہ داری سے انصاف کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر اکنامک الائنس کے شریک چیئرمین فاروق احمد ڈار نے نائب وزیر اعلیٰ کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے نے جہاں سرحدوں کو روندتے ہوئے پوری دنیا میں ہلچل مچا دی،وہی نائب وزیر اعلیٰ نے تعصب کی عینک سے اس واقعے کو دیکھا،اور سیاست و ووٹ بنک بچانے کیلئے انسانیت کو شرمسار کیا۔ فاروق احمد ڈار نے ممبر اسمبلی کھٹوعہ راجیو جسروٹیہ کو کابینہ میں شامل کرنے پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف سیہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ لال سنگھ اور چندر پرکاش گپتا کو وزارت سے الگ کر کے فرقہ پرستوں کو الگ تھلگ کر دیا گیا،اور دوسری جانب راجیو جسروٹیہ کو وزارت میں شامل کر کے سیاسی دائو پیچ کے ذریعہ فرقہ پرستوں کی حوصلہ افزائی کی گئی۔کشمیر اکنامک الائنس نے دونوں وزراء کو اخلاقی طور پر مستعفی ہونے کا مشورہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سے مخاطب ہو کر کہا کہ وہ اس بات کو وضع کریں کہ کھٹوعہ واقعے میں رخنہ ڈالنے والے لوگوں اور انکے طرفداروں کو کس قدر وزارتی کونسل میں شامل کیا گیا۔ڈار نے وزیر اعلیٰ کو صلاح دی کہ وہ یا تو ان وزراء کو بے دخل کریں،یا اخلاقی طور پر از خود سرکار سے الگ ہوکر بچی کچی ساخت بچالے۔ فاروق ڈار نے دھمکی دی کہ اگر ان وزراء کو بے دخل نہیں کیا گیا تو کشمیر اکنامک الائنس7مارچ کو سیکریٹریٹ تک مارچ کر کے نائب وزیر اعلیٰ اور راجیو جسروٹیاں کو سیکری ٹریٹ میں داخل نہیں ہونے دینگے۔اس دوران انہوں نے کھٹوعہ کے بلوار علاقے میں ایک نوجوان لیاقت علی پر چاقو کے وار کرکے اس کو ہلاک کیا گیا۔انہوں نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دانستہ طور پر ایک حکمت عملی کے تحت جموں میں فرقہ پرستی کی ہوا کھڑی کی گئی،اور بدھ کو پیش آیا واقعہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
Comments are closed.