ملک میں 58 ممبر ان پارلیمنٹ و اسمبلی کے خلاف نفرت آمیز تقریر کا معاملہ درج ، فہرست میں بی جے پی ٹاپ پر

نئی دہلی : ملک کے 58 ممبران پارلیمنٹ و ممبران اسمبلی نے اعلان کیا ہے کہ ان کے خلاف نفرت آمیز تقریر کرنے کا معاملہ درج ہے۔ ان میں بی جے پی لیڈروں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ ایک رپورٹ میں ایسا کہا گیا ہے۔ ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس ( اے ڈی آر) کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لوک سبھا کے 15 موجودہ ممبران نے اپنے خلاف نفرت پھیلانے والی تقریر کو لے کر معاملہ درج ہونے کی بات کہی ہے۔جبکہ راجیہ سبھا کے کسی بھی رکن نے اپنے ڈکلیئریشن میں اس کا تذکرہ نہیں کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان لوک سبھا اراکین میں 10 کا تعلق بی جے پی اور ایک ایک کا تعلق آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ ( اے آئی یو ڈی ایف ) تلنگانہ راشٹر سمیتی ( ٹی آر ایس) پی ایم کے ، اے آئی ایم آئی ایم اور شیو سینا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی کے 27 ، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین اور ٹی آر ایس کے چھ چھ ، ٹی ڈی پی اور شیو سینا کے تین تین ، اے آئی ٹی سی ، آئی این سی ، جے ڈی یو کے دو دو ، اے آئی یو ڈی ایف ، بی ایس پی ، ڈی ایم کے ، پی ایم کے اور ایس پی کے ایک ایک ممبران پارلیمنٹ و ممبران اسمبلی پر اس سے وابستہ معاملات درج ہیں۔

ملک میں 58 ممبر ان پارلیمنٹ و اسمبلی کے خلاف نفرت آمیز تقریر کا معاملہ درج ، فہرست میں بی جے پی ٹاپ پر
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی کے 27 ، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین اور ٹی آر ایس کے چھ چھ ، ٹی ڈی پی اور شیو سینا کے تین تین ، اے آئی ٹی سی ، آئی این سی ، جے ڈی یو کے دو دو ، اے آئی یو ڈی ایف ، بی ایس پی ، ڈی ایم کے ، پی ایم کے اور ایس پی کے ایک ایک ممبران پارلیمنٹ و ممبران اسمبلی پر اس سے وابستہ معاملات درج ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مرکزی وزیر اوما بھارتی نے بھی اپنے خلاف اس سے وابستہ معاملہ درج ہونے کا تذکرہ کیا ہے ۔ اس کے علاوہ ایم آئی ایم لیڈر اسدا لدین اویسی اور اے آئی یو ڈی ایف لیڈر بدر الدین اجمل نے بھی اپنے ڈکلیئریشن میں ایسے معاملات درج ہونے کی بات کہی ہے۔ اس فہرست میں دو آزاد ممبر پارلیمنٹ و ممبر اسمبلی بھی شامل ہیں۔ (ںیوز 18)

Comments are closed.