حکومت کا 12 سال سے کم عمر بچیوں کی عصمت دری پر سزائے موت کا آرڈنینس لانے کا فیصلہ

نئی دہلی، 21 اپریل اناؤ اور کٹھوعہ میں عصمت دری کے واقعات پر ملک بھر میں عوامی غم و غصے کو دیکھتے ہوئے حکومت نے آج ایک بڑے فیصلے میں بچوں کے خلاف جنسی جرائم کی روک تھام ایکٹ (پوكسو) میں ترمیم کر کے 12 سال سے کم عمر بچوں کی آبروریزي کے قصورواروں کو سزائے موت کا قانون بنانے اور اس کے لئے آرڈیننس لانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں یہاں منعقدہ مرکزی کابینہ کی میٹنگ کے دوران اس ضمن میں ایک فیصلے کومنظوری دے دی گئی۔ فی الحال عصمت دری کے معاملات میں پیشگی ضمانت کا التزام بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ پوكسو ایکٹ میں تبدیلی کرکے 12 سال سے کم عمر کے بچوں کی آبروریزی کے قصورواروں کو پھانسی کی سزا کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔ اس کے لئے ضابطہ فوجداری کی متعلقہ دفعات میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔
اس کے ساتھ ہی سولہ سال سے کم عمر کی بچیوں کے جنسی استحصال کے مجرم کی کم از کم سزا 10 سال سے بڑھاكر 20 سال کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ جموں کے کٹھوعہ میں آٹھ سالہ بچی کو اغواء کے بعد اس کی عصمت دری اور قتل نیز اترپردیش کے اناؤ میں نابالغہ کی عصمت دری کے واقعے کے بعد اس طرح کے جرائم کے قصورواروں کو سزا ئے موت دینے کے لئے ملک بھر میں آواز اٹھ رہی تھی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی کہا تھا کہ بچیوں کی عصمت دری کے قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا۔
یو این آئی

Comments are closed.