سرینگر//2اگست/ ٹی آئی نیوز/
بھارت میں مکسڈ مارشل آرٹس (MMA) تیزی سے مقبول ہو رہا ہے، لیکن اوئیس یعقوب کی کہانی صرف ایک کامیاب فائٹر کی نہیں بلکہ مسلسل جدوجہد، قربانی اور غیر متزلزل عزم کی داستان ہے۔ آج وہ عالمی سطح پر بھارت کی نمائندگی کررہےہ ہیں، مگر اس مقام تک پہنچنے کے لیے انہوں نے بے شمار مشکلات کا سامنا کیا۔
اوئیس یعقوب کا سفر کسی جدید تربیتی مرکز یا آسائشوں سے بھرپور ماحول میں شروع نہیں ہوا۔ 2016 میں ان کے والد کی طبیعت خراب ہونے کے بعد گھر کی ذمہ داری ان کے کندھوں پر آ گئی۔ ایک طرف خاندان کی کفالت اور دوسری طرف اپنے خواب کی تکمیل، دونوں ذمہ داریاں انہوں نے بیک وقت نبھائیں۔
مالی مشکلات کے باوجود اوئیس نے اپنے خواب کو ترک نہیں کیا۔ کئی دن ایسے بھی آئے جب وہ پیدل چل کر جم پہنچتے تھے کیونکہ کرایہ ادا کرنے کے لیے پیسے نہیں ہوتے تھے۔ مناسب خوراک بھی میسر نہیں تھی، لیکن انہوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری اور اپنی تربیت کا سلسلہ جاری رکھا۔گھر کے اخراجات اور اپنی تربیت کے لیے رقم جمع کرنے کی خاطر اوئیس نے سیب کے باغات میں مزدوری کی۔ صبح سے شام تک محنت کرتے، حاصل ہونے والی آمدنی گھر پر خرچ کرتے اور جو تھوڑی بہت رقم بچتی، اسے اپنی تربیت پر صرف کرتے۔ جسمانی تھکن، ذہنی دباو¿ اور معاشی مشکلات کے باوجود ان کا عزم کبھی کمزور نہیں پڑا۔
یہی مسلسل محنت اور قربانیاں آج ان کی سب سے بڑی طاقت بن چکی ہیں۔ مشکلات نے ان کی شخصیت کو مضبوط بنایا، نظم و ضبط سکھایا اور ہر ناکامی کو کامیابی میں بدلنے کا حوصلہ دیا۔
اوئیس اس وقت مسلسل چھ مقابلوں میں کامیابی حاصل کر چکے ہیں۔ ان کی آخری تین فتوحات پہلے ہی راو¿نڈ میں شاندار انداز سے ہوئیں، جس سے انہوں نے بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا۔ حال ہی میں یورپ میں حاصل کی گئی کامیابی نے انہیں عالمی ایم ایم اے منظرنامے میں نمایاں مقام دلایا۔اب اوئیس یعقوب ایک اور تاریخی سنگ میل کے قریب ہیں۔ وہ عالمی سطح کی ایم ایم اے چیمپئن شپ کے لیے مقابلہ کرنے والے پہلے بھارتی فائٹر بننے جا رہے ہیں۔ یہ صرف ان کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ بھارتی ایم ایم اے کے لیے بھی ایک اہم لمحہ تصور کیا جا رہا ہے۔
اوئیس کا خواب صرف عالمی ٹائٹل جیتنا نہیں بلکہ بھارت کے نوجوان فائٹرز کے لیے نئے مواقع پیدا کرنا بھی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو بہتر تربیت، سہولیات اور رہنمائی فراہم کی جائے تاکہ انہیں ان مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے جن سے وہ خود گزرے ہیں۔ان کا عزم ہے کہ عالمی مقابلوں میں بھارتی پرچم بلند کریں اور دنیا کو یہ دکھائیں کہ بھارتی فائٹرز بھی کسی سے کم نہیں۔
ان کے نزدیک کامیابی صرف ذاتی اعزاز نہیں بلکہ ملک اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک نئی راہ ہموار کرنے کا ذریعہ ہے۔اوئیس یعقوب کی زندگی اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ محنت، صبر، نظم و ضبط اور خود اعتمادی کے ساتھ بڑے سے بڑا خواب بھی حقیقت بن سکتا ہے۔ ان کی کہانی ہر اس نوجوان کے لیے مشعلِ راہ ہے جو مشکلات، معاشی تنگی اور ذمہ داریوں کے باوجود اپنے خوابوں کو زندہ رکھتا ہے۔آج جب اوئیس عالمی چیمپئن شپ کے لیے رنگ میں اترنے کی تیاری کر رہے ہیں تو وہ صرف اپنی خواہشات ہی نہیں بلکہ اپنے خاندان، اپنی برادری اور کروڑوں بھارتی عوام کی امیدوں کی بھی نمائندگی کر رہے ہیں۔ ان کا یہ سفر صرف ایک مقابلہ نہیں بلکہ بھارتی ایم ایم اے کی تاریخ کا ایک اہم باب بننے جا رہا ہے۔