اجازت ملے یا نہ ،20 جولائی کا جنتر منتر احتجاج ہر حال میں ہوگا/ عمر عبد اللہ
وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے واضح کیا کہ اگر 20 جولائی کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج کی اجازت نہ بھی ملی، تب بھی نیشنل کانفرنس کے رہنما اور کارکن 19 جولائی کو دہلی روانہ ہوں گے۔
سرینگر میں میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے ”چھینے گئے حقوق“کی بحالی کے حوالے سے نیشنل کانفرنس اپنے مو¿قف پر پوری طرح قائم ہے اور اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ مرحوم ڈاکٹر مصطفیٰ کمال بھی ہمیشہ یہی چاہتے تھے کہ جموں و کشمیر کے عوام کے چھینے گئے حقوق بحال کیے جائیں۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ پارٹی کی جدوجہد اسی مقصد کیلئے جاری رہے گی۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ 11 جولائی کو جب ڈاکٹر مصطفیٰ کمال کی صحت انتہائی نازک ہوگئی تھی، اس وقت ڈاکٹروں نے بھی اشارہ دیا تھا کہ شائد وہ زیادہ دیر زندہ نہ رہ سکیں۔ اس کے باوجود نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے واضح ہدایت دی تھی کہ 12 جولائی کو جموں میں طے شدہ پارٹی پروگرام ہر صورت جاری رکھا جائے۔عمر عبداللہ نے کہا”اگر ہم نے اس وقت بھی اپنا پروگرام منسوخ نہیں کیا، تو پھر 20 جولائی کے احتجاج کو ملتوی یا منسوخ کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا“۔انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی قیادت کو پہلے ہی ہدایت دی جا چکی ہے کہ اگر احتجاج کی سرکاری اجازت نہ بھی ملے تو تمام رہنما 19 جولائی کو نئی دہلی کیلئے روانہ ہوں۔
Comments are closed.