کپواڑہ جنگلات میں فورسز اور جنگجوﺅں کے مابین خونین معرکہ آرائی دوسرے روز بھی جاری رہی

2پولیس اہلکاروں ،دو فوجیوں اور چار جنگجوﺅں سمیت 8ہلاک ،کئی اہلکار زخمی ، تلاشی آپریشن جاری
سرینگر / 21مارچ/ سرحدی ضلع کپواڑہ کے ہلمتھ پورہ جنگلات میں فوج و فورسز اور جنگجوﺅں کے درمیان خونین معرکہ آرائی میں چارجنگجوﺅں جاںبحق کرنے کے فوجی دعویٰ کے بعد بدھ کو دوسرے روز بھی جنگجوﺅں اور فورسز کے درمیان شدید گولہ باری ہوئی جس کے نتیجے میں دو پولیس اور دو فوجی اہلکارکی ہلاکت کے ساتھ ہی جھڑپ میں ہلاکتوں کی تعداد 8تک پہنچ گئی جبکہ کئی فورسز اہلکار زخمی بھی ہو گئے ۔ فوج کے دفاعی ترجمان کا کہنا ہے کہ چار جنگجو ﺅں کی لاشیں بر آمد کی گئی ہے جبکہ علاقے میں تلاشی آپریشن ابھی جاری ہے ۔ ادھر ریاستی پولیس سربراہ نے جھڑپ میں تین فورسز اہلکاروں اور تین جنگجو ﺅں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے ۔سی این آئی کو دفاعی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ کپواڑہ کے ہلمتھ چیک جنگلات میں دو سے چار جنگجوﺅںکے چھپے بیٹھے کی اطلاع موصول ہونے کے بعد فوج ، سی آر پی ایف اور ایس او جی کپواڑہ نے علاقے کو محاصرے میں لیکر تلاشی کارروائی شروع کی ۔ ذرائع نے بتایا کہ جیسے ہی علاقے میں جنگجوﺅں مخالف آپریشن شروع کیا گیا تو وہاں جنگلات میں چھپے بیٹھے جنگجوو¿ں نے محاصرہ توڈ کر فرار ہونے کی کوشش کرتے ہوئے فوج پر زبردست فائرنگ کی۔اس دوران سینکڑوں کی تعداد میں پولیس، فورسز اورفوجی اہلکاروں کی اضافی کمک نے آس پاس کے علاقوں کی سخت ناکہ بندی جاری رکھی تاکہ جنگجوﺅں کو فرار ہونے کا موقعہ نہ مل سکے۔فوج اور فورسز اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد نے علاقے کے گرودنواح کو محاصرے میں لیکر اندر محصورجنگجوﺅں کے خلاف کارروائی جاری رکھی اور طرفین کے درمیان شدید جھڑپ منگل کو دن بھر جاری ہی ۔ معلوم ہوا ہے کہ جنگجوﺅں نے جنگلات میں پنا لی تھی ۔اسی دوران معلوم ہوا ہے کہ جنگجوﺅں کو ڈھونڈ نکالنے کیلئے فوج نے ہوائی خدمات بھی استعمال کی ہے جبکہ جنگلات میں فورسز اور جنگجوﺅں کے درمیان گولیوں کے تبادلے میں فوج نے منگل کی شام دیر گئے 4جنگجوﺅں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا ۔ دفاعی ترجمان کے مطابق جھڑپ میں چار جنگجوﺅں جاں بحق ہو گئے ہیں جن کی نعشیں بر آمد کی گئی ہے ۔ادھر منگل کی شام اندھیر ا چھا جانے کے نتیجے میں آپریشن کو صبح تک ملتوی کر دیا گیا تھا اور جیسے ہی علاقے میں بدھ کی صبح آپریشن دوبارہ بحال کیا گیا تو فورسز اور جنگجوﺅں کے مابین پھر آمناسامنا ہوا ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ بدھ کے روز جنگجوﺅں اور فورسز کے درمیان شدید گولہ باری کے نتیجے میں کئی پولیس و فوجی اہلکار زخمی ہو گئے جن کو اگرچہ علاج و معالجہ کیلئے سرینگر کے فوجی اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہاں دو پولیس اور دوفوجی اہلکار زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھے جس کے ساتھ ہی جھڑپ میں ہلاکتوں کی تعداد 8تک پہنچ گئی جس میں 4جنگجوﺅں اور تین فورسز اہلکار شامل ہے ۔ ادھر پولیس کے ایک سنیئر افسر نے کپواڑہ جنگلات میں جھڑپ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جنگجوﺅں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد فورسز نے علاقے کو محاصرہ میں لیا جس دوران وہاں چھپے بیٹھے جنگجوﺅں نے فرار ہونے کی کوشش میں فوج پر گولیاں چلائی جس کے جواب میں فوج نے بھی مورچہ زن ہوکر جوابی کارروائی کی ۔انہوں نے بتایا کہ جھڑپ میں تین جنگجوﺅں کے جاں بحق ہو گئے جبکہ طرفین کے مابین گولیوں کے تبادلے میں دو پولیس اور ایک فوجی اہلکار بھی ہلاک ہو گیا جبکہ کئی ایک زخمی ہے جن کا درگمولہ اسپتال میں علاج و معالجہ جاری ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ جنگجوﺅں کی شناخت کرنے کی کوشش جاری ہے اور ابھی علاقے میں تلاشی آپریشن بھی بڑے پیمانے پر جاری ہے ۔ادھر ریاستی پولیس سربراہ ایس پی وید نے اپنی ایک ٹویٹ میں کپواڑہ جنگلات میں فوج اور جنگجوﺅں کے مابین جھڑپ میں تین جنگجوﺅں اور تین فورسز اہلکار وں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے ۔
سی این آئی

Comments are closed.