وزیر اعلیٰ نے جموں و کشمیر میں کولڈ واٹر کی ماہی گیری کی پیداوار کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانے پر زور دیا
وزیر اعلیٰ مسٹر عمر عبداللہ نے آج جموں و کشمیر میں ٹھنڈے پانی کی ماہی گیری کی پیداوار کو بڑھانے کیلئے بہتر سائنسی تکنیکوں کو اپنانے ، جدید انفراسٹرکچر اور ویلیو ایڈیشن کی ترقی پر زور دیا جبکہ سیکٹر کی پائیداری اور ماہی گیر کسانوں کی روز گار کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے ۔
اس بات کا اظہار وزیر اعلیٰ نے شیر کشمیر انٹر نیشنل کانفرنس سینٹر ( ایس کے آئی سی سی ) سرینگر میں منعقدہ ایک روزہ نیشنل کانفرنس آن کولڈ واٹر فشریز سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ یہ کانفرنس بھارت کی ٹھنڈے پانی کی ماہی گیری کی پائیدار استعمال کے ذریعے ترقی اور خوشحالی کیلئے پہلی قومی سطح کے مکالمہ کے طور پر بیان کی گئی ۔ یہ کانفرنس وزارت ماہی گیری ، جانوروں کی پرورش اور ڈیری حکومت ہند کے محکمہ ماہی گیری کی جانب سے منعقد کی گئی تھی ۔
یہ تقریب سرینگر میں منعقد ہوئی جس میں مرکزی وزیر راجیو رنجن سنگھ ، لفٹینٹ گورنر مسٹر منوج سنہا ، مرکزی حکومت کے وزیر مملکت برائے ماہی گیری ایس پی سنگھ بگھیل اور جموں و کشمیر کے وزیر برائے زراعت مسٹر جاوید احمد ڈار ، سیکرٹری ماہی گیری حکومت ہند ، جموں و کشمیر کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ زراعت سمیت دیگر معززین نے شرکت کی ۔
وزیر اعلیٰ نے مرکزی وزیر اور دیگر معزز مہمانوں کا سرینگر میں خیر مقدم کرتے ہوئے حکومت ہند کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ٹھنڈے پانی کی ماہی گیری کی ترقی کیلئے اتنی اہم کانفرنس کیلئے جموں و کشمیر کو منتخب کیا ۔
وزیر اعلیٰ نے کہا ” میں مرکزی وزیر اور ان کے ساتھیوں کا پرجوش خیر مقدم کرتا ہوں اور ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ٹھنڈے پانی کی ماہی گیری کی پیداوار کو مزید بڑھانے کے اس انتہائی اہم کانفرنس کے لئے سرینگر کا انتخاب کیا ۔ “
شعبے میں سیکھنے اور جدت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے مسٹر عمر عبداللہ نے کہا کہ کانفرنس نے پہلے ہی ماہی گیری میں ابھرتے ہوئے جدید طریقوں کے بارے میں نئی بصیرتیں فراہم کی ہیں ۔
انہوں نے کہا ” اب تک ہمارا یقین تھا کہ سرد پانی کی ماہی گیری صرف پہاڑی علاقوں جیسے جموں و کشمیر ، ہماچل پردیش ، اتراکھنڈ اور شمال مشرقی علاقوں تک محدود ہے ۔ ہم سمجھتے تھے کہ یہ علاقے ہی اپنی جغرافیائی خصوصیات کی وجہ سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ لیکن آج ہمیں کچھ نیا معلوم ہوا ۔ “
ملک کے دیگر حصوں میں جدت پسندانہ آبی زراعت کے طریقوں کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے حیدر آباد کے ایک نوجوان کاروباری کی مثال دی جو گرم آب و ہوا میں جدید تکنیکوں کے ذریعے ٹراٹ پیدا کر رہا ہے ۔
انہوں نے کہا ” ہم نے حیدر آباد کے ایک نوجوان کاروباری کے بارے میں سُنا جس نے تقریباً 200 میٹرک ٹن ٹراٹ پیدا کرنے کی سہولت قائم کی ہے ۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی جغرافیائی حدود کو عبور کر سکتی ہے ۔“
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ماہی گیروں اور آبی زراعت کے کاروباریوں کی مدد کی جائے جو اپنی روزی روٹی کیلئے ماہی گیری پر انحصار کرتے ہیں ۔
انہوں نے کہا ” ہماری ذمہ داری ہے کہ ان لوگوں کو مضبوط کریں جنہوں نے ماہی گیری کو اپنا ذریعہ معاش بنایا ہے ۔ ہمیں ان کی پیداوار بڑھانے میں مدد کرنی چاہئیے ، دور دراز علاقوں میں بنیادی ڈھانچہ بہتر بنانا چاہئیے اور پیداوار کے بعد کی سہولیات کو یقینی بنانا چاہئیے ۔ “
سائنس اور تحقیق کے زیادہ استعمال کا مطالبہ کرتے ہوئے مسٹر عمر عبداللہ نے زور دیا کہ سرد پانی کی ماہی گیری کی مستقبل کی ترقی کیلئے جدت انتہائی اہم ہو گی ۔
انہوں نے کہا ” سائنس اور تحقیق کو اس شعبے کی ترقی کی رہنمائی کرنی چاہئیے ۔ ہمیں نئی تکنیکوں اور ایجادات کی نشاندہی کرنی ہو گی جو ٹھنڈے پانی کی ماہی گیری کی پیداوار کو پائیدار طریقے سے بڑھانے میں مدد دے سکیں ۔ “
وزیر اعلیٰ نے پیداوار اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن کی اہمیت پر بھی زور دیا ۔
انہوں نے مزید کہا ” پیداوار بڑھاتے ہوئے ہمیں پائیداری کو یقینی بنانا ہو گا ۔ ہمارا ماحول خراب نہیں ہونا چاہئیے اور ہماری قدرتی مچھلیوں کے ذخائیر کی حفاظت رہنی چاہئیے ۔ “
انہوں نے مزید نشاندہی کی کہ موسمیاتی تبدیلی خطے میں زراعت ، باغبانی اور ماہی گیری کیلئے نئے چیلنجز پیدا کر رہی ہے ۔
انہوں نے کہا ” موسمیاتی تبدیلی تیزی سے واضح ہو رہی ہے ۔ ہم نے حال ہی میں فروری میں سرینگر میں غیر معمولی درجہ حرارت دیکھے اور اس سال درختوں کا جلد پھول آنا ، یہاں تک کہ ٹیولپ گارڈن بھی معمول سے کہیں پہلے تیار ہو گیا ہے ۔ یہ تبدیلیاں ماہی گیری جیسے شعبوں پر ناگزیر طور پر اثر انداز ہوں گی اور ہمیں تیار رہنا ہو گا ۔ “
علم کی تقسیم کی قدر پر زور دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سرینگر میں کانفرنس کی میزبانی جموں و کشمیر کو دوسری ریاستوں کے بہترین طریقوں سے سیکھنے اور اپنے ٹراو¿ٹ فارمنگ کے طویل تجربے کا اشتراک کرنے میں مدد دے گی ۔
انہوں نے کہا ” تقریباً 126 سال ہو چکے ہیں جب 1900 کے آس پاس کشمیر میں ٹراو¿ٹ متعارف کرایا گیا تھا ۔ اس شعبے میں ہمارا بھر پور تجربہ ہے اور ہمیں اسے دوسروں کے ساتھ شئیر کرنا چاہئیے جبکہ ہمیں ہماچل پردیش ، اتراکھنڈ اور شمال مشرقی ریاستوں کے بہترین طریقوں سے بھی سیکھنا چاہئیے ۔ “
مسٹر عمر عبداللہ نے اعتماد ظاہر کیا کہ مرکز ، ریاستوں اور متعلقہ فریقوں کے درمیان تعاون سے بھارت کے ماہی گیری شعبے کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں مچھلی کی پیداوار نے نئی بلندیوں کو چھو لیا ہے اور ایک خصوصی وزارت کے قیام سے اس شعبے کو اب جو توجہ دی جا رہی ہے ، مجھے یقین ہے کہ وہ دن دور نہیں جب بھارت عالمی سطح پر مچھلی کی پیداوار میں سب سے آگے رہنے والے ممالک میں شامل ہو جائے گا ۔ اس سفر میں ٹھنڈے پانی کی ماہی گیری ایک خاص مقام رکھے گی ۔ “
Comments are closed.