ویڈیو: کشمیر میں قیام امن کیلئے تمام فریقوں کے ساتھ مذاکراتی عمل ناگریز ہے/سنجے صراف

مذاکراتی عمل سے ہی تمام مسائل حل ہوسکتے ہیں ، بندوق کسی مسئلے کا حل نہیں

سرینگر17مارچ :مذاکراتی عمل کو تمام مسائل کا حل قرار دیتے ہوئے ایل جے پی کے قومی یوتھ صدر سنجے صراف نے کہا کہ بندوق نہیں بلکہ افہام و تفہیم اور گفت و شنید سے ہی تصفیہ ہوتا ہے۔ سنجے صراف نے کہا کہ میز پر ہی تمام مسائل کا حل ہوتا ہے،اور اب جب مرکزی حکومت نے ایک مثبت پہل شروع کی ہے،تو فریقین کو بھی مثبت جواب دیکر تشدد کا خاتمہ کرنے کیلئے اس پہل کا حصہ بننا چاہے۔جے کے این ایس کے مطابق سرینگر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سنجے صراف نے وزیر اعظم ہند نریندر مودی اور وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کی طرف دنیشور شرما کو مصالحت کار نامزد کرنے کی پہل کوانتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی سرکار نے اپنا واعدہ پورا کیا۔انہوں نے کہا کہ ایل جے پی روز اول سے ہی فریقین سے بات چیت کی وکالت کرتی آئی ہے،اور مرکزی حکومت نے جو قدم اٹھایا ہے،وہ خوش آئندہ ہے۔ایل جے پی کے انچار جموں کشمیر سنجے صراف نے کشمیری عوام کے ساتھ بات چیت کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے حکومت ہند سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں سے بات کریں۔انہوںنے کہا کہ جب یہ جماعتیں اقتدار میں ہوتی ہے تو وہ بھارت کی قصیدہ خوانی کرتی ہیں اور جب اقتدار سے باہر ہوتی ہیں تو انہیں کشمیر اور کشمیری وطن یاد آتا ہے۔ کشمیری عوام کے ساتھ سنجیدگی سے بات چیت کرنے کی وکالت کرتے ہوئے سنجے صراف نے کہا کہ جب مرکزی حکومت نکسلیوں سے بات کر سکتی ہے تو کشمیری لیڈروں سے کیوں نہیں کرسکتی۔انہوں نے کہا کہ کشمیری لیڈرشپ بھی اپنے ہی لوگ ہیں اور ان سے با چیت کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہے۔سنجے صراف نے کہا کہ کشمیر میں قیام امن کیلئے تمام فریقوں کے ساتھ مذاکراتی عمل ناگریز ہے۔انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ میز پر تمام مسائل کا حل ممکن ہے اور تشدد سے صرف اور صرف تباہی حاصل ہوتی ہے۔سنجے صراف نے واضح کیا کہ بندوق سے مسائل حل نہیں ہوتے،بلکہ نوجوانوں کو سامنے آکر اپنے مستقبل کی فکر کرنی چاہے،اور مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہے۔انہوں نے کہا کہ نوجوان ہی سماج اور ملک کے معمار ہوتے ہیں،اور نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہی ملک کی تقدیر کی ڈاور ہوتی ہے،اس لئے انہیں تعلیم پر دھیان دیکر جموں کشمیر میں امن کی بنیاد رکھنی چاہے۔کشمیری نوجوانوں کو ذہین اور با صلاحت قرار دیتے ہوئے سنجے صراف نے کہا کہ جس میدان میں بھی انہیں موقعہ دیا گیا،انہوں نے اپنا لوہا اپنایا۔انہوں نے بیرون ریاست نوجوانوں کو تنگ کرنے کی مذمت کرتے ہوئے ریاستی وزیر اعلیٰ کے علاوہ مرکزی حکومت پر بھی زور دیا کہ کشمیری نوجوانوں کو تحفظ دینے کیلئے اقدامات اٹھائے جائے۔ سنجے صراف نے سابق مخلوط سرکار کو مورود الزام ٹھراتے ہوئے کہا کہ اپنے سیاسی مفادات کیلئے انہوں نے ریاستی خزانہ عامرہ کو لوٹا جس کی وجہ سے آج تعمیراتی معماروں اور ٹھکیداروں کے750کروڑ روپے سرکاری ٹریجریوں میں واجب الادا ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹھکیداروں نے تعمیراتی پروجیکٹ بند کر دئیے ہے جس کی وجہ سے مجموعی طور پر ریاست کی تعمیر و ترقی اثر انداز ہوگی ۔سنجے صراف نے تعمیراتی معماروں سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرئے اور حکومت کے ساتھ یہ معاملہ افہام و تفہم کے ساتھ حل کریں تاکہ تعمیراتی پروجیکٹوں پر جو بند ہونے کے بادل منڈلا رہے ہیں وہ چھٹ جائے۔سنجے صراف نے کہا کہ اگر چہ انہیں ٹھکیداروں کے ساتھ برابر ہمدردی ہے اور750کروڑ واجب لادا ہونے کی وجہ سے انکے کام پر منفی اثرات مرتب ہونے کے معاملے کو بھی سمجھ سکتے ہیں تاہم انہیں بھی مجموعی طور پر ریاست کی تعمیر و ترقی کو مد نظر رکھتے ہوئے کوئی بھی قدم اٹھانا چاہے۔ایل جے پی کے قومی ترجمان نے ملازمین کی رکی پری تنخواہوں اور ڈیلی ویجروں کے مسائل کو حل کرنے کا بھی مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جہاں سابق حکومت نے ریاست کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا وہی موجودہ حکومت پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ انکے مسائل کو ترجحی بنیادوں پر حل کرئے۔

Follow The Below Link ??

Comments are closed.