نوآبادیاتی ذہنیت ترک کیے بغیر بھارت عالمی رہنما نہیں بن سکتا: نائب صدر رادھا کرشنن
سری نگر،26فروری
ہندوستان کے نائب صدرسی پی رادھا کرشنن نے سری نگر میں کشمیر یونیورسٹی کے 21 ویں کنووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت کو مستقبل میں عالمی سطح پر جدت، اختراع اور ترقی کی قیادت کرنی ہے تو اسے سب سے پہلے نوآبادیاتی ذہنیت کو یکسر ترک کرنا ہوگا۔ انہوں نے نوجوان طلبا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی اصل طاقت اس کے لوگ اور ان کی تخلیقی صلاحیتیں ہیں، اور اگر یہی صلاحیت ’سوَدیشی‘ بنیادوں پر مستحکم ہو جائے تو کوئی بھی طاقت بھارت کو ترقی کی بلند ترین چوٹیوں تک پہنچنے سے نہیں روک سکتی۔
نائب صدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت صدیوں تک بیرونی تسلط کا شکار رہا، جس کے اثرات آج بھی ذہنی رویّوں، تعلیمی ڈھانچے اور فیصلہ سازی میں جھلکتے ہیں۔ انہوں نے طلبا سے اپیل کی کہ وہ خود اعتمادی پیدا کریں، اپنی ماضی کی وراثت پر فخر کریں اور تحقیقات، اختراعات اور سائنسی ترقی کو ملکی ذہانت، مقامی وسائل اور قومی ضروریات کے مطابق آگے بڑھائیں۔
خطاب کے دوران انہوں نے صاف الفاظ میں کہا کہ ’ہمیں خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں، احساسِ کمتری میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں، سب سے پہلے ہمیں اپنی نوآبادیاتی ذہنیت کو ختم کرنا ہوگا۔‘نائب صدر نے اس موقع پر وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک میں اختراع اور اسٹارٹ اپ ماحول کو ملی تقویت کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے ملک کی سائنسی برادری، نوجوان محققین اور صنعت کاروں کے لیے جو معاون ماحول تشکیل دیا ہے، اس نے بھارت کو عالمی سطح پر ’سب سے زیادہ امکانات والی معیشت‘ کے طور پر ابھار دیا ہے۔ وبا کے دوران ویکسین تیار کرنے کی مثال دیتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ جب دنیا کو شبہ تھا کہ بھارت خود اپنی ویکسین بنا سکے گا یا نہیں، وزیر اعظم نے ملک کے سائنس دانوں کو چیلنج اور اعتماد دونوں دیا، ہم نے دنیا کو دکھایا کہ اختراع کسی کی جاگیر نہیں ہوتی۔انہوں نے مزید کہا کہ مغربی ممالک نے اسی ویکسین کو مہنگے پیٹنٹ کے ذریعے بیچنے کی کوشش کی لیکن بھارت نے دنیا کے غریب ممالک کو بھی قابلِ رسائی قیمت پر ویکسین فراہم کی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارتی اختراع انسانی فلاح کے لیے ہے، نہ کہ سرمایہ دارانہ فائدے کے لیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایک ویکسین کی قیمت 7,500 امریکی ڈالر تک ہو سکتی ہے، سوچئے ایک غریب انسان کیسے خریدے گا؟‘
نائب صدر نے اپنے خطاب میں سری نگر انٹرنیشنل ائر پورٹ کی ترقی و توسیع کے لیے مرکز کی جانب سے منظور شدہ 1600 کروڑ روپے کے منصوبے کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ بہتر ہوا بازی کا ڈھانچہ کشمیر کی سیاحت کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا بشرطیکہ یہ ترقی وادی کے نازک ماحولیاتی توازن کو متاثر کیے بغیر کی جائے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے اس بیان کا بھی ذکر کیا جس میں انہوں نے پائیدار اور ماحول دوست سیاحت کی ضرورت پر زور دیا تھا۔اس دوران نائب صدر نے دنیا کے سب سے اونچے ریلوے پل چناب برج کو ’انجینئرنگ کا عالمی شاہکار‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ محض ایک ڈھانچہ نہیں بلکہ سماجی ہم آہنگی کا ذریعہ بھی ہے، کیونکہ جب راستے جڑتے ہیں تو لوگ جڑتے ہیں، اور جب لوگ جڑتے ہیں تو دل قریب آ جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مرکز کی اسکیمیں، خصوصاً ’وزیراعظم خصوصی اسکالرشپ اسکیم‘، وادی کشمیر میں نوجوانوں کے لیے مواقع کے نئے دروازے کھول رہی ہیں اور انہیں ملک کے مختلف حصوں میں اعلیٰ تعلیمی اداروں تک رسائی فراہم کر رہی ہیں۔ نائب صدر نے کہا کہ یہ اسکیم نہ صرف تعلیمی میدان میں نوجوانوں کی رہنمائی کا ذریعہ ہے بلکہ قومی یکجہتی کا پل بھی ہے جو کشمیری نوجوانوں کو ملک کے دوسرے علاقوں کے ساتھ ایک مضبوط رشتے میں جوڑتی ہے۔اپنے خطاب میں نائب صدر نے نشہ آور ادویات کے بڑھتے ہوئے استعمال پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے نوجوانوں کو خبردار کیا کہ منشیات صرف صحت کو تباہ نہیں کرتیں بلکہ خاندانوں کی بنیادیں ہلا دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’آپ کے والدین آپ سے امید رکھتے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ آپ زندگی میں کامیاب ہوں۔‘ انہوں نے تمام مذاہب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کا کوئی مذہب منشیات کی اجازت نہیں دیتا،
اس لیے نوجوانوں کو چاہیے کہ خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی دور رکھیں۔نائب صدر نے نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے بے جا استعمال سے بھی خبردار کیا، کہتے ہوئے کہ حد سے زیادہ انحصار انسان کو حقیقت سے دور کر دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا آپ کی کامیابی نہیں بنا سکتا، کامیابی کے لیے محنت، نظم و ضبط اور علم کی ضرورت ہوتی ہے۔اختتام پر انہوں نے طلبا کو ایک علامتی پیغام دیتے ہوئے کہا:’میرا کشمیر نہیں، تمہارا کشمیر نہیں، ہمارا کشمیر۔‘انہوں نے کہا کہ یہی سوچ کشمیر کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے، کیونکہ وادی کی اصل طاقت اس کے نوجوان ہیں جو امن، اتحاد اور ترقی کے سفر میں مرکزی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
Comments are closed.