نائب کی آمد سے قبل سخت سکیورٹی، ہاؤس بوٹوں میں تلاشی مہم

سری نگر،25فروری

نائب صدرِ جمہوریہ سی پی رادھا کرشنن کے دورہ سری نگر سے قبل مشترکہ فورسز نے بدھ کی صبح شہر کے متعدد حساس علاقوں میں بڑے پیمانے پر تلاشی کارروائیاں انجام دیں۔ یہ کارروائیاں بطورِ احتیاط اور سکیورٹی کی مجموعی فضا کو مستحکم رکھنے کے لیے کی گئیں۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کی مشترکہ ٹیموں نے آبی گزرکے علاقوں میں ہاؤس بوٹس اور رہائشی ڈھانچوں کی باریک بینی سے تلاشی لی۔ اس دوران علاقے کی مکمل ڈومینیشن، راستوں کی صفائی، مشکوک افراد کی شناخت اور گلی کوچوں میں اچانک چیکنگ بھی عمل میں لائی گئی۔

ذرائع کے مطابق نائب صدر کل جمعرات کو کشمیر یونیورسٹی میں منعقدہ کانووکیشن میں شرکت کے لیے سری نگر پہنچ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں انتظامیہ نے شہر بھر، بالخصوص ڈل جھیل اور اس سے متصل مقامات پر سیکورٹی حصار مزید سخت کر دیا ہے۔
عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ڈل کے اطراف میں واقع ہاؤس بوٹس، گلی کوچوں اور جھیل کے ارد گرد علاقوں پر خصوصی نگرانی رکھی گئی ہے، جبکہ اہم پوائنٹس پر تعینات سی آر پی ایف اہلکاروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ شہر میں نئے چیکنگ پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں جہاں گاڑیوں کی تلاشی، دستاویزی جانچ اور فریسکنگ کا عمل شدت اختیار کر گیا ہے۔

ادھر کشمیر یونیورسٹی کی طرف جانے والے تمام اہم راستوں حضرت بل، نشاط، شالیمار اور فور شو روڈ—پر بھی سیکورٹی فورسز نے ایک محفوظ کوریڈور قائم کیا ہے۔ متعدد مقامات پر ٹریفک کی رفتار کم کی گئی ہے تاکہ باریکی سے نگرانی کی جاسکے۔ ڈرونز، سی سی ٹی وی نیٹ ورک اور اسنیفر ڈاگز کی مدد سے بھی علاقے کی نگرانی جاری ہے۔

ایک سینیئر پولیس افسر نے یو این آئی کو بتایا:’نائب صدر کی آمد ایک اہم سرکاری پروگرام ہے، لہٰذا شہریوں کے تحفظ اور پُرامن ماحول کے لیے تمام احتیاطی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔‘
شہریوں نے بھی بڑے پیمانے کی چیکنگ اور تلاشی کے باوجود تعاون کا یقین دلایا ہے۔ ڈل جھیل پر ایک ہاؤس بوٹ مالک نے کہا:’ایسے دوروں کے وقت سیکیورٹی بڑھانا ضروری ہوتا ہے۔ ہمیں بس یہ امید ہے کہ چیکنگ کے باوجود روزمرہ کی سرگرمیوں میں غیر ضروری رکاوٹ نہ آئے۔‘
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات صرف نائب صدر کے دورے تک محدود رہیں گے، اور صورتِ حال معمول پر آتے ہی تمام اضافی بندوبست ہٹا دیے جائیں گے۔

Comments are closed.