نائب صدر جمہوریہ کے دورے کے پیش نظر سری نگر میں سخت سکیورٹی بند وبست
نائب صدر جمہوریہ سی پی رادھا کرشنن کے پہلے دورہ جموں وکشمیر کے پیش نظر سری نگر میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کر دئے گئے ہیں۔
نائب صدر جمہوریہ بدھ کی شام دو روزہ دورہ پر جموں و کشمیر پہنچ رہے ہیں۔
ایک سرکاری ترجمان نے بتایا کہ نائب صدر جمہوریہ جمعرات کو کشمیر یونیورسٹی کے سالانہ جلسہ تقسیم اسناد میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ وہ بدھ کی شام سری نگر پہنچ کر سیدھے لوک بھون روانہ ہوں گے جہاں وہ رات کو قیام کریں گے۔
ادھر نائب صدر کے دورہ کے پیش نظر کشمیر میں سیکورٹی کے کڑے انتظامات کئےگئے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ حضرت بل میں واقع یونیورسٹی کیمپس کے گرد و پیش نگرانی میں اضافہ کیا گیا ہے اور تقریب کے پر امن انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے کثیر سطحی سیکورٹی نظام قائم کیا گیا ہے۔
سری نگر کے حساس علاقوں میں اضافی سیکورٹی فورسز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے تاکہ کڑی نگرانی کو برقرار رکھا جاسکے۔
حکام کے مطابق شہری اور دیہی علاقوں میں بھی سیکورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے جبکہ اہم داخلی اور خارجی راستوں پر چوبیس گھنٹے گشت اور نگرانی میں اضافہ کیا گیا ہے۔
گذشتہ دنوں کے دوران حفاظتی اقدام کے طور پر سری نگر کے بعض علاقوں میں تلاشی کارروائیاں بھی انجام دی گئیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ تقریب کے لئے تمام ضروری انتظامات مکمل کئے گئے ہیں۔
ٹریفک پولیس نے بھی وی وی آئی پی دورے کے پیش نظر 26 فروری کو شہر کے کئی اہم راستوں پر عارضی پابندیوں اور متبادل راستوں کا اعلان کیا ہے۔
کشمیر یونیورسٹی میں منعقد ہونے والے 21 ویں سالانہ جلسہ تقیسم اسناد میں نائب صدر ہند بطور مہمان خصوصی شرکت کر رہے ہیں۔
یونیورسٹی حکام کے مطابق پروگام کا آغاز نائب صدر کی آمد اور شجر کاری کی رسمی تقریب سے ہوگا جس کے بعد لیفٹیینٹ گورنر منوج سنہا، جو یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں، کی طرف سے کنوکیشن کا باقاعدہ افتتاح کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ تعلیمی سیشن 2023 تا 2025 کے لئے انڈر گریجویٹ، پوسٹ گریجویٹ، پروفیشنل اور ریسرچ اسکالرز کو ڈگریاں تفویض کی جائیں گی جبکہ نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو گولڈ میڈلز سے نوازا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور دیگر معززین بھی تقریب سے خطاب کریں گے جس کے بعد نائب سدر اپنا خطبہ پیش کریں گے۔
Comments are closed.