اٹھارہ ماہ طویل آپریشن: جیشِ محمد کے ’اسرائیل گروپ‘ کے آخری تین دہشت گرد بھی ہلاک:آئی جی جموں

جموں،23فروری
جموں و کشمیر کے کشتواڑ ضلع میں سیکورٹی فورسز نے ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے جیشِ محمد سے وابستہ سخت گیر سات رکنی دہشت گرد گروپ، جسے ’اسرائیل گروپ‘ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا، کا مکمل طور پر صفایا کر دیا۔ یہ کارروائی گزشتہ اٹھارہ ماہ سے جاری تھی اور اتوار کو آخری تین دہشت گردوں کی ہلاکت کے ساتھ اپنے انجام کو پہنچ گئی۔

پیر کے روز کشتواڑ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل آف پولیس (جموں زون) بھیم سین توتی نے بتایا کہ یہ گروپ اپریل 2024 میں دراندازی کے ذریعے ہندوستانی حدود میں داخل ہوا تھا اور اس کے بعد سے سیکورٹی فورسز کے ساتھ 17 مختلف مواقع پر آمنے سامنے آیا۔آئی جی پی نے بتایا کہ گروپ کے آخری تین اراکین، جن میں اس کا خود ساختہ کمانڈر سیف اللہ بھی شامل تھا، کشتواڑ کے چہل چرو علاقے میں ایک مخصوص انٹیلی جنس ان پٹ کی بنیاد پر ہونے والے آپریشن میں مارے گئے۔انہوں نے کہا، ’یہ گروہ انتہائی تربیت یافتہ اور خطرناک نوعیت کا تھا، جو نہ صرف سیکورٹی فورسز پر تباہ کن حملوں میں ملوث رہا بلکہ شہریوں کو بھی نشانہ بناتا رہا۔‘

سیکورٹی ذرائع کے مطابق یہ گروپ اپنی کارروائیوں کی حکمت عملی، خفیہ نقل و حرکت اور جدید اسلحے کے استعمال کی وجہ سے ایجنسیاں اسے ’اسرائیل گروپ‘ کے نام سے شناخت کرتی تھیں، کیونکہ ان کی سرگرمیاں دیگر دہشت گرد گروہوں کے مقابلے میں زیادہ منظم اور مہلک تھیں۔بھیم سین نے واضح کیا کہ یہ ایک بڑی کامیابی ضرور ہے مگر دہشت گردی کے خلاف مہم مزید تیزی کے ساتھ جاری رہے گی۔انہوں نے کہا،’یہ ہماری طویل مہم کا حصہ ہے۔ آنے والے وقت میں اس طرح کی مزید کامیاب کارروائیاں متوقع ہیں۔ جب تک دہشت گردی کے پورے نیٹ ورک کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا، ہمارا آپریشن جاری رہے گا۔‘پولیس، فوج اور دیگر خفیہ ایجنسیوں نے گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران مسلسل مشترکہ کارروائیاں جاری رکھیں، جس کے نتیجے میں گروپ کے تمام سات دہشت گرد مختلف مراحل میں مارے گئے۔ اس دوران علاقے میں مسلسل نگرانی، گھنے جنگلات میں سرچ آپریشنز اور انسانی ذرائع کی معلومات نے اہم کردار ادا کیا۔سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ ’اسرائیل گروپ‘ کے خاتمے سے نہ صرف ڈوڈہ–کشتواڑ بیلٹ میں دہشت گردی کے ڈھانچے کو بڑا دھچکا لگا ہے بلکہ اس سے آئندہ کارروائیوں کا دائرہ مزید مضبوط ہو گا۔

Comments are closed.