کشمیری مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کےلئے پنڈتوں کی علامتی بھوک ہڑتال

عادل بشیر

سرینگر:کشمیری پنڈتوں کی نمائندہ جماعت ’جموں وکشمیر ری کنسیلیشن فرنٹ ‘ (جموں وکشمیر مفاہمتی فرنٹ )نے ہفتہ کے روز سرینگر میں ریاستی خاص طور پر کشمیری مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے حوالے سے یک روزہ بھوک ہڑتال کی اور دھرنا بھی دیا ۔

مذکورہ جماعت سے وابستہ درجنوں ممبران ہفتہ کی صبح پریس کالونی سرینگر میں نمودار ہوئے ،جہاں انہوں نے احتجاجی دھرنا دیا ۔انہوں نے کشمیری میں ’ہلاکتوں اور تباہی ‘ پر بھارتی سیول سو سائٹی اور دنشوروں کی خاموشی کو مجرمانہ قرار دیا ۔

مذکورہ فرنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر سندیپ ماوا نے بتایا کہ یہ علامتی بھوک ہڑتال کشمیری مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے حوالے کی جارہی ہے ۔انہوں نے بھارت اور پاکستان کی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے مذاکراتی عمل کو بحال کریں اور اس دیرینہ مسئلے کا پرامن حل تلاش کریں ´

ان کا کہناتھا کہ گزشتہ28برسوں سے جموں وکشمیر سے بری طرح سے متاثر ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پہلے پنڈت اور ہندو مارے گئے اب مسلمانوں کے جنازے اس مسئلے کے باعث اٹھ رہے ہیں ۔

انہوں نے مرکزی حکومت کو بھی ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ سیاسی مسئلے کے حل کے حوالے سے حکومت ہند کی خاموشی قابل مذمت ہے ۔ان کا کہناتھا کہ کشمیر میں ہلاکتوں اور تباہی پر بھارتی سیول سو سائٹی اور دنشوروں کی خاموشی کو مجرمانہ قرار دیا ۔

انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا ’آخر کب تک ہم متاثر ہوتے رہیں گے ،کب تک یہ سلسلہ جاری رہے گا ،یہ بند ہونا چاہئے ،کب تک ہم اپنے نے ہمسایہ بھائیوں کے جنازے اٹھاتے رہیں گے‘۔

’جموں وکشمیر ری کنسیلیشن فرنٹ ‘ (جموں وکشمیر مفاہمتی فرنٹ )کے چیئرمین ڈاکٹر سندیپ ماوا نے کہا کہ ہلاکتوں ،طاقت اور زور زبردستی سے آگے نہیں بڑھا جاسکتا ہے ،اس کےلئے واحد اور واحد ایک ہی راستہ ہے ،وہ ہے مذاکرات ۔بات چیت سے مسائل کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے ۔

ان کا کہناتھا کہ مرکزی حکومت کو مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے جوں کی توں پالیسی توڑ کر آگے بڑھنا چاہئے ۔

Comments are closed.