زراعت سب سے پہلے پالیسی ترقی یافتہ ہندوستان او آتم نر بھر جموں وکشمیر کو یقینی بنائے گی/ منوج سنہا
جموں/11فروری 2026ئ
لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے زور دیا کہ ”زراعت سب سے پہلے “ پالیسی ترقی یافتہ ہندوستان اوراتما نربھر جموںوکشمیر کو یقینی بنائے گی ۔
اُنہوں نے کہاکہ زراعت اور اس سے منسلک شعبے وہ حتمی انشورنس پالیسی ہے جسے کوئی بھی ترقی پذیر معاشرہ یا قوم نظر انداز نہیں کر سکتی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ”چاہے موسمیاتی تبدیلی سے لے کر معاشی غیر یقینی صورتحال تک چیلنجوں کا سامنا ہو، ایک حقیقت ہمیشہ قائم رہتی ہے کہ زراعت اور اس سے منسلک شعبے ہمیں مستحکم اور ہمارے شہریوں کو خوشحال رکھیں گے۔“
لیفٹیننٹ گورنر سکاسٹ جموں کی جانب سے منعقدہ تین روزہ’ زرعی سمٹ اور کسان میلہ‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔
اُنہوں نے اَپنے کلیدی خطاب میں اے آئی پاورڈ ایڈوانسڈ ایگریکلچر‘ کے تبدیلی لانے والے اثرات پر بات کی۔ اُنہوں نے ٹیکنالوجی ٹولز کو سستی اور قابل رَسائی بنانے پر زور دیاجو موسم ، مٹی اور فصل کے ڈیٹا کی بنیاد پر پیداوار کی پیش گوئی کریں تا کہ چھوٹے اور پسماندہ کسان اپنی فصلوں کا سٹریٹجک پلان بنا سکیں ۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ”ٹیکنالوجی اور زراعت کی ترقی کو ساتھ ساتھ چلنا چاہیے۔ تکنیکی ترقی نئے سٹارٹ اپس، صنعتیں اور یونیکورن پیدا کرتی ہے ۔ ٹیکنالوجی مواقع پیدا کرتی ہے، زراعت اور اس سے منسلک شعبے بقا فراہم کرتے ہیں۔ مضبوط زراعت کا مطلب مضبوط قوم ہے ۔ مضبوط زرعی شعبہ قومی استحکام، ترقی یافتہ معیشت اور انسانی خوشحالی کی بنیاد ہے۔“
اُنہوںنے اَپنے خطاب میں زرعی سائنسدانوں اور کسان کمیونٹی کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ اَدا کیا اور بھارت کی عالمی سطح پر زراعت اور اس سے منسلک شعبوں میں ٹاپ پرفارمر بننے کا کریڈٹ ان کی انتھک محنت اور جدت کو دیا ۔
لیفٹیننٹ گورنرنے کہا ” وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک ایسا مستقبل تصور کیا ہے جہاں دنیا کی ہر پلیٹ میں کم از کم ایک ہندوستانی ڈش موجود ہو۔ جس دن یہ سنگ میل حاصل ہو جائے گا ، زرعی شعبہ وکست بھارت کیلئے سب سے بڑا شراکت دار بن جائے گا ۔ “
اُنہوںنے بتایا کہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے یو ٹی کے دورے کے دوران ہائی لیول ریویو میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے ڈیری سیکٹر کو فروغ دینے کیلئے مرکزی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا تھا اور نیشنل ڈیری ڈیولپمنٹ بورڈ ( این ڈی ڈی بی ) کے ذریعے روزانہ 2 لاکھ لیٹر دودھ پروسسنگ کی گنجائش کو ترجیح دی گئی ہے ۔
لیفٹیننٹ گورنر نے افسران ، سکاسٹ اور ماہرین کو ہدایت دی کہ ایل او ٹی سینسرز اور سیٹلائٹ امیجری کا استعمال کر کے ڈیجیٹل فارم ٹوئن بنائیں جو پریسیژن ایری گیشن کو ممکن بنائیں گے اور پانی کے استعمال میں 50 سے 60 فیصد کمی لائیں گے ۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ کسان مرکز اے آئی ٹولز تیار کریں جو پیداوار میں 15 سے 30 فیصد اضافہ کریں ، ان پُٹ لاگت میں 50 فیصد کمی لائیں اور چھوٹے اور معمولی کسانوں کو مٹی ، فصلوں کی صحت اور غذائی اجزاءکے رئیل ٹائم ڈیٹا فراہم کریں ۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا ” اے آئی ٹیکنالوجی زراعت اور اس سے منسلک شعبوں میں انقلاب لائے گی ۔ ہمیں جموں و کشمیر یو ٹی کے چھوٹے اور معمولی کسانوں کیلئے قابل عمل ، سستی اور زیادہ اثر انداز حل درکار ہیں ۔ “
اُنہوں نے افسران اور سکاسٹ کو ہدایت دی کہ گاو¿ں سطح پر موسمیاتی لچکدار مقامی اقسام کے بیج بینک قائم کریں ۔
لیفٹیننٹ نے کہا ” سائنسدانوں اور افسران کو احساس ہونا چاہئیے کہ تہذیب کی قسمت ہر بیج پر منحصر ہے جو مٹی میں بویا جاتا ہے ۔ زراعت قومی ترقی اور انسانی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے والے کلیدی شعبوں میں سے ایک ہے ۔ یہ عالمی ہنگامہ آرائی کے باوجود ترقی کی ضمانت دے گی “۔
اُنہوں نے سرکلر فارمنگ ماڈلز پر خصوصی زور دیا جہاں فصل کے فضلے کو ہائی پروٹین جانوروں کے چارے میں تبدیل کیا جائے اور گوبر کو نامیاتی کھاد کے طور پر واپس مٹی میں استعمال کیا جائے تا کہ مٹی کی صحت بہتر ہو اور بیرونی ان پٹس ختم ہوں ۔
لیفٹیننٹ نے مزید کہا ” تمام 20 اضلاع میں پروسسنگ سہولیات بنانے پر مسلسل توجہ دی جائے اور ایف پی اوز کو براہ راست صارفین سے جوڑا جائے تا کہ ویلیو ایڈڈ پروڈکٹس کے ذریعے کسانوں کو مارجن حاصل ہو جو اکثر درمیان والوں کی وجہ سے ضائع ہو جاتا ہے ۔ “
اُنہوںنے حالیہ تجارتی معاہدے اور ٹریڈ ایگریمنٹ کے گرد پھیلائی جا رہی غلط معلومات کا ازالہ کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کسانوں کے مفادات کی حفاظت کیلئے پختہ عزم رکھتی ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کسانوں اور ان کی پیداوار کو نقصان سے بچانے کیلئے مضبوط حفاظتی اقدامات نافذ کر رہی ہے ۔
اِس موقعہ پر لیفٹیننٹ گورنر نے مرکزی وزارت زراعت اوربہبودِ کساناں کے زیر انتظام کمیشن فار ایگریکلچر ل کاسٹس اینڈ پرائسز کی جانب سے فصل کی کاشت سکیم کا آغاز کیا ۔ اُنہوں نے ہائر لرننگ سینٹر اور پیسٹی سائیڈ کوالٹی کنٹرول لیبارٹری سمیت متعدد سہولیات کا بھی اِفتتاح کیا ۔
ایونٹ میں سکاسٹ جموں ایگری تھان 2.0 کے تحت سٹارٹ اپ فرسٹ ایوارڈز کے فاتحین کو بھی اعزاز دیا گیا اور زراعت اور اس سے منسلک شعبوں پر مختلف اشاعتیں جاری کی گئیں ۔
اِفتتاحی تقریب میں وزیر برائے زرعی پیداوار ، دیہی ترقی و پنچایتی راج ،اِمدادِ باہمی اور الیکشن محکمہ جات جاوید احمد ڈار ، چیف سیکرٹری اتل ڈولو ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری زرعی پیداوار شیلندر کمار ، وائس چانسلر سکاسٹ جموںبی این ترپاٹھی ، پروفیسر ایمیریٹس ایکسٹینشن سکاسٹ جموں پدم شری ڈاکٹر اشوک کمار سنگھ ، محکموں کے سربراہان ، زرعی سائنسدان ، ماہرین ، فیکلٹی ممبران ، ترقی پسند کسان ، مختلف شراکت داروں اور سینئر افسران نے شرکت کی۔
Comments are closed.