جموں و کشمیر میں برفباری میں خطرناک کمی، دو برسوں میں 54 فیصد کمی ریکارڈ: سرکار

جموں،11فروری

جموں و کشمیر اسمبلی میں آج اس وقت ایک تفصیلی بحث دیکھنے کو ملی جب ایم ایل اے سجاد شاہین کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں حکومت نے برفباری کی نمایاں کمی اور اس کے دور رس اثرات پر ایک جامع بیان پیش کیا۔

حکومت نے واضح کیا کہ گزشتہ دو برسوں میں ریاست کو مجموعی طور پر 50 سے 54 فیصد تک کم بارش اور برفباری ملی ہے، جس کے باعث پانی کے ذخائر، زرعی سرگرمیوں، باغبانی، پن بجلی پیداوار اور لوگوں کی روزی روٹی پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق کشمیر ڈویژن اس کمی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں سردیوں کی برفباری معمول سے کافی کم ریکارڈ کی گئی۔حکومت نے اپنے جواب میں کہا کہ ابتدائی جائزوں سے یہ خدشہ ظاہر ہوتا ہے کہ آنے والے برسوں میں پانی کی دستیابی مزید دباو¿ کا شکار ہو سکتی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر ایک ہمہ گیر پلان تیار کیا گیا ہے، جس کے تحت زرعی شعبے میں پانی بچانے والی تکنیکوں، مائیکرو اریگیشن سسٹمز، مٹی میں نمی برقرار رکھنے کے طریقوں اور موسم کے مطابق فصلوں کی رہنمائی جیسے اقدامات پر زور دیا جا رہا ہے۔جل شکتی محکمے نے بھی پانی کی ممکنہ قلت سے نمٹنے کے لیے تیاری شروع کر دی ہے۔ حکومت کے مطابق پینے کے پانی کی فراہمی کو برقرار رکھنے کے لیے ٹینکر سروس، شیڈولنگ، کم سطح والے علاقوں میں متبادل ذرائع، واٹر سپلائی اسکیموں کی مضبوطی اور لیکیج کنٹرول جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ آبپاشی کے محاذ پر آبپاشی کیلنڈر پر سختی سے عمل، نالوں کی بروقت صفائی اور کسانوں کے لیے پانی کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔

پن بجلی کے حوالے سے حکومت نے اعتراف کیا کہ کم برفباری نے دریاوں میں پانی کے بہاو¿ کو متاثر کیا ہے، جس کا براہ راست اثر بجلی پیداوار پر پڑتا ہے۔ اگرچہ ابھی تک اس حوالے سے کوئی جامع طویل مدتی پالیسی تیار نہیں کی گئی، تاہم ابتدائی اقدامات کے طور پر متعدد حساس پن بجلی منصوبوں پر ارلی وارننگ سسٹم نصب کیا جا رہا ہے، جب کہ بگلیہار پروجیکٹ کے لیے ایک الگ ڈیزاسٹر مینجمنٹ پلان تیار کیا جا رہا ہے۔محکمہ ماحولیات نے ایوان کو بتایا کہ ریاستی موسمیاتی ایکشن پلان کا نیا اور تفصیلی مسودہ آخری مراحل میں ہے، جس میں مختلف محکموں کے لیے موسمیاتی لچک پیدا کرنے اور ماحولیاتی خطرات کم کرنے سے متعلق حکمت عملیاں شامل کی گئی ہیں۔ گزشتہ دو برس میں محکمہ جنگلات نے دو کروڑ سے زائد پودے لگانے کا کام مکمل کیا ہے، جسے بدلتے ہوئے موسمی رجحانات کے پیش نظر ایک اہم قدم قرار دیا گیا۔حکومت نے یہ بھی بتایا کہ موسمیاتی انتباہی نظام کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے کشمیر کے لیے ہائپر لوکل فورکاسٹنگ سسٹم پر کام جاری ہے، جبکہ رامبن اور کشتواڑ کو خصوصی موسمیاتی حساس اضلاع کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔ آنے والے برسوں میں مزید ڈوپلر ریڈار، موسم اسٹیشن اور برف ماپنے والے آلات نصب کیے جائیں گے، جس سے موسم کی پیش گوئی اور قبل از وقت انتباہی نظام میں نمایاں بہتری آئے گی۔ایوان میں پیش کردہ اس تفصیلی جواب کے ذریعے حکومت نے واضح کیا کہ وہ بدلتے ہوئے موسمی حالات کو ایک سنگین چیلنج کے طور پر لے رہی ہے اور تمام متعلقہ محکمے مل کر ایک جامع حکمتِ عملی کے تحت صورتحال سے نمٹنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔

Comments are closed.