وادی کے سیاحتی مقامات پر بھاری برف باری، سیاحوں میں خوشی کی لہر
وادی کشمیر میں جاری تازہ برف باری نے جہاں روزمرہ زندگی کو متاثر کیا ہے، وہیں سری نگر سمیت گلمرگ، پہلگام اور سون مرگ جیسے اہم سیاحتی مقامات پر سیاحوں کے چہروں پر خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ بھاری برف باری نے پوری وادی کو سفید چادر میں ڈھانپ دیا ہے، جس کے باعث ایک جانب ٹریفک اور ہوائی نقل و حمل میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں، تو دوسری جانب سیاحوں اور مقامی ہوٹل انڈسٹری نے اسے ایک خوشگوار موقع کے طور پر دیکھا۔
سری نگر میں ڈل جھیل کے کناروں پر پڑنے والی برف نے شہر میں ایک دلکش منظر پیش کیا، جہاں دور دور تک آنے والے مہمان برف میں کھیلتے، تصاویر اور ویڈیوز بناتے دکھائی دیے۔ سیاحوں کا کہنا ہے کہ وہ کئی دنوں سے برف باری کا انتظار کر رہے تھے اور آج کی برف باری نے ان کا سفر یادگار بنا دیا ہے۔ کئی سیاحوں نے بتایا کہ سری نگر پہنچنے کے بعد انہیں اطلاع ملی تھی کہ موسم خراب ہو سکتا ہے، لیکن انہوں نے پھر بھی اپنا سفر جاری رکھا، اور اب انہیں ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے وادی نے ان کا استقبال اپنے خاص انداز میں کیا ہو۔
ادھر گلمرگ میں برف کی نئی تہہ نے اسکینگ کے شوقین افراد کی خوشی کو دوبالا کر دیا ہے۔ مقامی ہوٹل مالکان کا کہنا ہے کہ تازہ برف نے سیاحتی سرگرمیوں میں نئی جان ڈال دی ہے اور کمرے تقریباً بھر چکے ہیں۔ گلمرگ گنڈولہ کے اطراف دن بھر لوگوں کا رش رہا، جبکہ کئی سیاحوں نے پہلی بار اسکینگ اور اسنو بورڈنگ کا تجربہ بھی کیا۔ پہلگام میں بھی ماحول کچھ ایسا ہی رہا جہاں وادی لدر دونوں جانب پھیلی ہوئی برف نے ایک شاندار، خوبصورت اور سحر انگیز منظر پیدا کیا اور سیاح برف میں چہل قدمی سے لطف اندوز ہوتے رہے۔
تاہم، مقامی لوگوں کے لیے اس مسلسل برف باری نے کچھ مشکلات بھی کھڑی کی ہیں۔ سری نگر اور مضافاتی علاقوں میں سڑکوں پر پھسلن کے سبب ٹریفک کی رفتار انتہائی سست ہے جبکہ کئی مقامات پر بجلی کی فراہمی وقفے وقفے سے متاثر ہو رہی ہے۔ اس سب کے باوجود، مقامی دکانداروں اور سیاحتی کاروبار سے وابستہ افراد نے اس برف باری کو ’سیزن کے لیے مفید‘ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ کئی ہفتوں سے خشک موسم کی وجہ سے سیاحوں کی آمد میں واضح کمی تھی لیکن تازہ برف نے حالات کو یکسر بدل دیا ہے۔
ادھر سری نگر ایئرپورٹ پر اگرچہ کچھ پروازیں تاخیر کا شکار رہیں، تاہم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ رن وے کی صفائی کا کام جاری ہے اور موسم بہتر ہوتے ہی فضائی ٹریفک معمول پر آ جائے گا۔ اس دوران پولیس اور ٹریفک حکام نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ بلا ضرورت سفر سے گریز کریں اور پھسلن والی سڑکوں پر احتیاط برتیں۔
سیاحتی مقامات پر مجموعی طور پر ایسا ماحول رہا جس نے ثابت کیا کہ برف باری وادی کشمیر کے لیے ایک طرف قدرتی چیلنج ضرور ہے، لیکن دوسری طرف یہی برف اس سرزمین کی خوبصورتی اور دلکشی کا سبب بھی ہے، جس کے باعث دنیا بھر سے لوگ یہاں آنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
Comments are closed.