عبدالرشید شاہین لکھنوؤ میں سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو سے ملاقی
لکھنو¿/23جنوری
جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے سپیکرعبدالرحیم راتھر اور سینئرسیاستدان و سابق رُکن پارلیمنٹ عبدالرشید شاہین نے لکھنو¿ میں سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو سے رسمی ملاقات کی،جس دوران جموں وکشمیر کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران جموں وکشمیر کے سینئر رہنماو¿ں نے کہا ” ریاست میں انتظامی اختیارات بیوروکریسی کے ہاتھوں میں محدود ہو گئے ہیں اور عوامی نمائندوں کا کردارکم دیا گیا ہے“۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ” جموں و کشمیر میں بدعنوانی میں اضافہ ہوا ہے جبکہ سیاحت، دستکاری اور پھلوں کی صنعت بری طرح متاثر ہوئی ہے، جس کے باعث مقامی لوگوں کی روزی روٹی خطرے میں پڑ گئی ہے۔
عبدالرحیم راتھر اور عبدالراشد شاہین نے کہا کہ اکھلیش یادو کا کشمیر سمیت پورے ملک میں اثر و رسوخ ہے اور عوام کا اعتماد ان پر قائم ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں تبدیلی کی سمت اتر پردیش سے طے ہوگی اور لوگوں کی نظریں اکھلیش یادو پر مرکوز ہیں۔اس موقع پر سابق رکن پارلیمنٹ عبدالرشید شاہین نے اکھلیش یادو کو جموں و کشمیر آنے کی دعوت بھی دی اور کہا کہ کشمیر کے عوام چاہتے ہیں کہ وہ آگے بڑھیں اور قومی سیاست میں بڑا کردار ادا کریں۔
اکھلیش یادو نے عبدالرشید شاہین کو یقین دلایا کہ آئندہ کے مرکزی بجٹ اجلاس کے دوران وہ جموں وکشمیر کے دورے کے حوالے سے تاریخ کا تعین کریں گے۔ دونوں رہنماو¿ں نے کہا کہ بی جے پی کو چھوڑ کر جموں وکشمیر کی تمام سیاسی پارٹیاں جموں وکشمیر کے ریاستی درجہ کی بحالی کو لیکر ایک ہی صفحے پر ہیں۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کے لوگ اور سیاسی پارٹیاں ریاستی درجے کی فوری بحالی کے حق میں ہیں،اس لیے مرکز کو مزید تاخیر کے بغیر جموں وکشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنا چاہئے۔خیال رہے کہ عبدالرشید شاہین اس وقت نیشنل کانفرنس سے وابستہ نہیں ہیں،البتہ ان کا شمار جموں وکشمیر کے سینئررہنماو¿ں ،ملک کے معروف پالیسی سازوں اور ارکان پارلیمان میں کیا جاتاہے۔
اس موقع پر اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی نے جموں و کشمیر کے نوجوانوں، کسانوں اور تاجروں سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے ۔۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ کشمیر کے لوگ بھائی چارے پر یقین رکھتے ہیں اور وہاں کے کاریگر انتہائی ماہر ہیں۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اگر اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی کی حکومت بنتی ہے تو کشمیری مصنوعات کو ریاست میں منڈی فراہم کر کے تجارت کو فروغ دیا جائے گا۔
Comments are closed.