کشمیر میں اگلے 2 دنوں کے دوران وسیع پیمانے پر برف و باراں کا امکان
سری نگر، 21 جنوری
محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق وادی کشمیر میں 22 اور 23 جنوری کو میدانی علاقوں سمیت وسیع پیمانے پر برف و باراں کا امکان ہے جس سے لوگوں میں طویل خشک موسمی صورتحال ختم ہونے کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں۔
محکمہ موسمیات کے ایک ترجمان کے مطابق ایک مغربی ہوا کی لہر کے وادی میں داخل ہونے کے نتیجے میں 22 اور 23 جنوری کو موسم عام طور پر ابر آلود ہ رہنے کے ساتھ بیشتر علاقوں میں ہلکی سے درمیانی درجے کی برف باری یا بارشوں کا امکان ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس دوران چناب وادی، پیر پنچال رینج اور جنوبی کشمیر کے کچھ اضلاع میں بھاری برف باری ہوسکتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ 24 جنوری کو کہیں کہیں ہلکی برف باری یا بارشیں جبکہ 25 جنوری کو بھی کچھ مقامات پر اسی نوعیت کی موسمی صورتحال جاری رہ سکتی ہے۔
موصوف ترجمان نے بتایا کہ بعد ازاں 26 اور 27 جنوری کو ایک بار پھر وادی میں بیشتر مقامات پر ہلکی یا درمیانی درجے کی برف باری یا بارشوں کا امکان ہے جبکہ اس دوران کچھ مقامات پر بھاری برف باری متوقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ وادی میں 28 سے 31 جنوری تک موسم جزوی ابر آلود رہنے کا امکان ہے۔
محکمے نے اپنی ایڈوائزری میں کہا ہے کہ وادی چناب، پیرپنچال رینج اور جنوبی کشمیر کے کچھ اضلاع میں 22 جنوری کی شام سے 23 جنوری تک اور پھر 26 جنوری کی شام سے 27 جنوری تک بھاری بارف باری ہوسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس دوران کچھ مقامات پر تیز ہوائیں چلنے کے ساتھ ساتھ ژالہ باری بھی ہوسکتی ہے اور لینڈ سلائیڈنگ کے بھی خطرات ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی نقل و حمل متاثر ہوسکتی ہے جس کے پیش نظر مسافروں اور ٹرانسپورٹروں سے کہا گیا ہے کہ وہ ٹریفک محکمے اور انتظامیہ کی طرف سے جاری مشوروں کے مطابق اپنے سفر کا منصوبہ کریں جبکہ کسانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس دوران اپنے آپریشنز معطل رکھیں۔
قابل ذکر ہے کہ وادی میں سخت سردیوں اور بھاری برف باری کے لئے مشہور چالیس روزہ چلہ کلاں کے پہلے تین حصے بیت چکے ہیں اگر چہ اس دوران پہاڑی علاقوں اور سیاحتی مقامات پر برف باری ہوئی ہے تاہم سری نگر اور دیگر میدانی علاقے برف باری سے ہنوز محروم ہیں۔
طویل خشک موسمی صورتحال سے جہاں کسانوں کو گوناگوں خدشات لاحق ہیں وہیں وادی کے آبی ذخائر سوکھ گئے ہیں اوردریائوں اور جھیل جھرنوں میں پانی کی سطح تشویش ناک حد تک کم ہوگئی ہے جس نے لوگوں کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔
Comments are closed.