سرحد پار اب بھی آٹھ کیمپوں میں تقریباً 150 دہشت گرد سرگرم، فوج تیار: فوجی سربراہ

نئی دہلی، 13 جنوری

فوجی سربراہ جنرل اپیندر دیویدی نے منگل کو کہا کہ کنٹرول لائن کے اس پار اب بھی آٹھ سے دس دہشت گرد کیمپ سرگرم ہیں جن میں 100 سے 150 دہشت گرد موجود ہیں۔

جنرل دیویدی نے ’یومِ افواج‘ سے پہلے سالانہ پریس کانفرنس میں سوالات کے جواب میں کہا کہ جمّوں و کشمیر کے اندرونی علاقوں میں بھی تقریباً 140 دہشت گرد سرگرم ہیں لیکن دہشت گردوں کی بھرتی کافی عرصے سے نہیں ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمّوں و کشمیر میں صورتحال قابو میں ہے لیکن حساس بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرحد پار کے علاقے میں اب بھی آٹھ سے دس دہشت گرد کیمپ سرگرم ہیں جن میں سے چھ کنٹرول لائن کے پار اور دو بین الاقوامی سرحد کے پار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرحد پار کے علاقے میں حریت پوری طرح سرگرم ہے اور یہ دہشت گردوں کو فروغ اور حمایت دے رہی ہے۔ انہیں پاکستان کی طرف سے بھی مدد مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کو ان کی سرگرمیوں کی معلومات ہے اور اگر کسی قسم کی حرکت کی جاتی ہے تو اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

جنرل دیویدی نے کہا کہ جمّوں و کشمیر کے ہِنٹرلینڈ میں بھی تقریباً 140 دہشت گرد سرگرم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ دہشت گرد پہلے سے ہی مختلف جگہوں پر چھپے ہوئے ہیں اور کافی عرصے سے کوئی نئی بھرتی نہیں ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوج کا آپریشن "سندور” ابھی ختم نہیں ہوا ہے اور کسی بھی دہشت گردانہ حرکت کا فوج سخت جواب دے گی۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شمالی سرحد پر صورتحال مستحکم ہے لیکن چوکسی برقرار رکھنا ضروری ہے۔

Comments are closed.