وزیر اعلیٰ نے جموں وکشمیر کی ڈیجیٹل تبدیلی پر مبنی کافی ٹیبل بُک’سمن وے‘ جاری کی
جموں/22دسمبر
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج ایک کافی ٹیبل بُک ’سمن وے‘ جاری کیا جس میں جموں و کشمیر کے ڈیجیٹل تبدیلی کے سفر کو اُجاگر کیا گیا ہے اور بھاسکراچاریہ نیشنل اِنسٹی چیوٹ فار سپیس ایپلی کیشنز اینڈ جیو اِنفارمیٹکس (بی آئی ایس اے جی ۔ این) کی جانب سے جموں و کشمیر میں انجام دئیے گئے اہم منصوبوں اور تکنیکی خدمات کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔
اس رسم رونمائی تقریب میں وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور اِنفارمیشن ٹیکنالوجی ستیش شرما،وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، چیف سیکرٹری اَتل ڈولو، ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ اعلیٰ تعلیم شانت منو،وزیر اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری دھیرج گپتا، کمشنر سیکرٹری جی اے ڈی واطلاعات ایم راجو،سیکرٹری آئی ٹی پیوش سنگلا، سپیشل ڈائریکٹر بی آئی ایس اے جی ۔ این،سیکرٹری سکولی تعلیم،سی اِی او جے کے اِی جی اے اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔
اِس موقعہ پر وزیر اعلیٰ نے خطاب کرتے ہوئے بی آئی ایس اے جی ۔این کی ستائش کی کہ اس اِدارے نے جموں و کشمیر میں حکمرانی سے متعلق پیچیدہ مسائل کے لئے عملی اور جدید حل تیار کئے ہیں جن میں سے کئی حل جموں و کشمیر سے باہر بھی قابلِ اطلاق ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی منفرد جغرافیہ اور موسمی حالات ڈیجیٹائزیشن کی طرف مضبوط قدم بڑھانے کی ضرورت ظاہر کرتے ہیںکیوں کہ ٹیکنالوجی کی مدد سے عوامی خدمات یکساں طور پر کسی بھی مقام پر فراہم کی جا سکتی ہیں۔
اُنہوں نے کہا،” حکمرانی اور خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو ایک ہی معیار کی خدمات حاصل ہوں، چاہے وہ دُور دراز علاقوں میں رہتے ہوں یا کام کرتے ہوں۔“
وزیر اعلیٰ نے ’سمن وے‘کو اس تعاون کا ایک جامع تصویر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اشاعت اس بات کا مجموعی جائزہ پیش کرتی ہے کہ کس طرح ٹیکنالوجی پر مبنی اَقدامات نے اِنتظامی کارکردگی اور خدمات کی فراہمی میں مدد کی ہے۔
اُنہوں نے ڈائریکٹر جنرل بی آئی ایس اے جی ۔ این اور ان کی پوری ٹیم کی مسلسل کاوشوں پر شکریہ اَدا کرتے ہوئے اُمید ظاہر کی کہ ’سمن وے ‘ آئندہ کئی ایسی اشاعتوں میں پہلی ثابت ہوگی جو مستقبل کے منصوبوں اور اہم سنگ میلوں کو دستاویزی شکل دیں گی کیوں کہ جموں و کشمیر کی حکومت آنے والے مہینوں اور برسوں میں بہتر طرزِ حکمرانی کے لئے ٹیکنالوجی سے استفادہ جاری رکھے گی۔
Comments are closed.