ویڈیو: ہلاکتوں کا سلسلہ بند نہیں ہواتوسڑکوں پر نکل آئیں گے :میر واعظ
سری نگر: میرواعظ عمر فاروق نے ریاستی حکمرانوں کو خبردار کیا ہے کہ نہتے کشمیریوں کیخلاف ظلم و جبر اور بربریت کا مظاہرہ بند نہیں کیا گیا تو عوام اس بربریت اور جارحیت کیخلاف احتجاجاً سڑکوں پر نکل آنے کیلئے مجبور ہونگے۔ موصولہ بیان کے مطابق گزشتہ کئی روز سے مسلسل نظر بند رہنے کے بعد مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ سے قبل ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حریت کانفرنس(ع) کے چیرمین نے کہا کہ جموںوکشمیر خاص کر وادی کے اندر ظلم اور بربریت کی انتہا کی جارہی ہے ۔ ہمارے بے گناہ نوجوانوں کو چن چن کر شہید کیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ شوپیاں میں چار نہتے نوجوانوں کو شہید کئے جانے کے بعد عام لوگوںکو تختہ مشق بنایا گیا حتیٰ کہ انٹرنیٹ سروس کو بند کیا گیا ، مزاحمتی قیادت کو گھروں اور تھانوں میں نظر بند کیا گیا،سکولوں اور تعلیمی اداروں کو بھی بند کیا گیا اور شہر خاص میں کرفیو جیسی بندشیں عائد کی گئیں۔ایک طرف ہمارے نوجوانوںکو شہید کیا جارہا ہے تو دوسری طرف عام لوگوں کو انتقام گیری کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔میرواعظ محمد عمر فاروق نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسلکے ہائی کمشنر برائے حقوق انسانی زید راد الحسین کی جانب سے آر پار جموںوکشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے دورے کی خواہش کا خیر مقدم کرتے ہوئے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ کشمیر میں نافذ کالے قانون AFSPA کے خاتمے کیلئے حکومت ہندوستان کے ساتھ ترجیحی بنیادوں پر یہ مسئلہ اٹھائے اور ان قوانین کے نفاذ کی وجہ سے کشمیر میں جو قتل و غارت اورحقوق انسانی کی بدترین پامالیاں جاری ہیں ان کے خاتمے کیلئے اقدامات اٹھائے۔انہوںنے کٹھوعہ میںکمسن آصفہ کے ساتھ پیش آئے المناک سانحہ پر کئی سیاسی جماعتوں کی جانب سے سیاست کاری کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ ہندویا مسلمان یا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایک معصوم بچی کے ساتھ زیادتی کے بعد اس کو قتل کیا گیا لہٰذا اس مسئلہ پر سیاست کاری کے بجائے ملوث مجرمین کو سخت سے سخت سزا دی جانی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ اس واقعہ میں ملوث مجرمین کو سزا نہیں دی گئی تو اس کے خلاف بھر پور احتجاج کیا جائیگا ۔میرواعظ نے کہا کہ ہمارے نوجوان اور سیاسی قیدی جو بھارت کی مختلف جیلوں میں سالہا سال سے مقید ہیں اور اب حکومت وادی کشمیر سے سیاسی نظر بندوںکو بیرون کشمیر جیلوں میں منتقل کررہی ہے جہاں ان کو پیشہ ور مجرموں کے ساتھ رکھا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ان کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہو گئے ہیںاور یہ سب اقدامات حکومت محض سیاسی انتقام گیری کی بنیاد پر اٹھا رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر قاسم فکتو اور ڈاکٹر شفیع شریعتی اور دیگر درجنوں قیدیوں کو جو گزشتہ طویل عرصے سے سرینگر سینٹرل جیل میں مقید تھے کو باہر کی جیلوں میں منتقل کیا گیا اور اسی طرح دلی کے بدنام زمانہ تہاڑ جیلNIA کی کارروائی کے نتیجے میں جو سیاسی قیدی مقید ہیں وہاں ان کو عادی مجرموں کے ساتھ رکھا جارہا ہے اور اس طرح ان قیدیوں کی زندگیوں کو جان بوجھ کر خطرات کی نذر کیا جارہا ہے۔میرواعظ محمد عمر فاروق نے کہا کہ ان قیدیوں کی حالات زار عالمی ضمیر کیلئے لمحہ فکریہ ہے کہ کس طرح ان سیاسی قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا جارہا ہے اور اس ساری صورتحال کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ عالمی برادری اس خالص انسانی مسئلہ پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ میرواعظ نے کہا کہ ہم ان قیدیوں کی عزیمت اور حوصلے کو سلام پیش کرتے ہیںاور انہیں یقین دلاتے ہیں کہ پوری قوم ان کے ساتھ ہے۔
Comments are closed.