جموں و کشمیر اسمبلی میں عام آدمی پارٹی کے ممبر اسمبلی کی گرفتاری پر ہنگامہ
سری نگر27اکتوبر
جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں پیر کے روز اُس وقت شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملی جب ارکان نے عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے معراج ملک کی پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت حراست پر سوال اٹھایا۔
نیشنل کانفرنس کے بانہال سے ایم ایل اے سجاد شاہین نے اس معاملے پر ایک گھنٹے کی بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ماہ ڈوڈہ کے ایم ایل اے کو سخت قانون کے تحت حراست میں لینا جمہوری اقدار کے منافی ہے۔
تاہم بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ادھم پور ایسٹ سے ایم ایل اے آر ایس پٹھانیہ نے کہا کہ پی ایس اے لاگو کرنا ضلع مجسٹریٹ کا اختیار ہے، جس پر ایوان میں شور شرابہ شروع ہوگیا۔ نیشنل کانفرنس کے کئی ارکان اور عوامی اتحاد پارٹی کے واحد رکن شیخ خورشید اپنی نشستوں سے کھڑے ہوگئے۔
صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے مداخلت کرتے ہوئے ارکان سے کہا کہ وہ اپنی نشستوں پر بیٹھ جائیں۔ تاہم، شوپیاں کے آزاد ایم ایل اے شبیر کلّے نے احتجاج کرتے ہوئے ایوان کے وسط (ویل) میں جانے کی کوشش کی۔ اسپیکر نے سخت لہجے میں کہا، کوئی بھی ویل میں نہیں جائے گا، ایوان کا وقار برقرار رکھا جائے۔
انہوں نے مزید کہا، ‘اگر آپ کو کسی رکن کی بات پسند نہیں، تب بھی اسے بولنے کا حق ہے،’ اور پٹھانیہ کو اپنی بات مکمل کرنے کی اجازت دی۔
بی جے پی رکن نے کہا کہ چونکہ یہ معاملہ اس وقت عدالت میں زیرِ سماعت ہے، لہٰذا اسے ایوان میں زیرِ بحث نہیں لایا جا سکتا۔ اس پر نیشنل کانفرنس کے گریز سے ایم ایل اے نذیر احمد خان گریزی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ‘کیا یہ ریاست ڈپٹی کمشنروں کے ذریعے چلائی جائے گی؟’
انہوں نے کہا، ‘اگر ملک نے کوئی غیرملکی یا ملک دشمن کام کیا ہے تو ہم کبھی اس کی حمایت نہیں کریں گے، مگر کیا کسی ڈی سی کو کسی کو بھی جیل بھیجنے کا اختیار ہونا چاہیے؟ آج ملک ہے، کل کوئی اور ہوگا، شاید ہم میں سے کوئی۔ یہ ایوان سب سے بالاتر ہے اور ہمیں اس پر بحث کرنی چاہیے۔’
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایک کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ اس بات کی جانچ ہو سکے کہ آیا ملک کی حراست جائز تھی یا نہیں۔
پیپلز کانفرنس کے ہندوارہ سے ایم ایل اے سجاد لون نے پی ایس اے کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے خلاف پی ایس اے کا نفاذ بلاجواز اور غیرمنصفانہ ہے۔
ایوان میں شور شرابے کے دوران اسپیکر راتھر نے اپنی رولنگ میں واضح کیا کہ اگر کوئی معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہو، تو اس پر ایوان میں بحث کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
یاد رہے کہ جموں و کشمیر پبلک سیفٹی ایکٹ ایک ایسا احتیاطی حراستی قانون ہے جو حکومت کو کسی شخص کو بغیر مقدمے کے دو سال تک حراست میں رکھنے کا اختیار دیتا ہے۔
Comments are closed.