فوج کی وائٹ نائٹ کور کے جی او سی کا لائن آف کنٹرول کا دورہ
جموں و کشمیر کے حساس سرحدی اضلاع راجوری اور پونچھ میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر مجموعی سیکیورٹی صورتحال اور عملی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے وائٹ نائٹ کور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) لیفٹیننٹ جنرل پی کے مشرا نے بدھ کے روز اگلے مورچوں کا دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے فوجی اہلکاروں کے ساتھ بات چیت کی اور ان کے پیشہ ورانہ عزم، تحمل اور چیلنجنگ حالات میں خدمات انجام دینے کے جذبے کی بھرپور تعریف کی۔
دفاعی ترجمان کے مطابق وائٹ نائٹ کور کے کمانڈر نے کرشنا گھاٹی (پونچھ) اور نوشہرہ (راجوری) سیکٹروں میں اگلے مورچوں کا معائنہ کیا، جہاں انہوں نے آپریشنل تیاریوں، تعیناتیوں اور سرحدی سلامتی کے مجموعی انتظامات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ترجمان نے ایک بیان میں کہا:’لیفٹیننٹ جنرل پی کے مشرا نے تمام افسران اور جوانوں پر زور دیا کہ وہ اعلیٰ سطح کی آپریشنل تیاری کو برقرار رکھیں، ہر وقت چوکس رہیں، اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار رہیں۔’
انہوں نے فوجی اہلکاروں سے خطاب کے دوران کہا کہ موجودہ جغرافیائی صورتحال میں دشمن عناصر کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھنا اور کسی بھی دراندازی کی کوشش کو ناکام بنانا ہی اصل قومی خدمت ہے ۔ لیفٹیننٹ جنرل مشرا نے کہا کہ ایل او سی پر تعینات فوجی دستے نہ صرف سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہیں بلکہ عوام کے اعتماد اور سلامتی کے احساس کو بھی مضبوط بنا رہے ہیں۔ دورے کے دوران کمانڈر نے فوجی اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ وہ چیلنجنگ موسم اور جغرافیائی مشکلات کے باوجود اپنے عزم کو قائم رکھیں۔ انہوں نے فوجی جوانوں کی بہادری اور ان کی پیشہ ورانہ قابلیت کو سراہتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں امن و استحکام برقرار رکھنے میں آپ سب کا کردار انتہائی اہم ہے ۔ ذرائع کے مطابق اس دورے کے دوران ایل او سی کے قریبی علاقوں میں تازہ ترین انٹیلی جنس صورتحال، پاکستانی فائرنگ کے امکانات اور دراندازی روکنے کے اقدامات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ واضح رہے کہ راجوری اور پونچھ کے پہاڑی علاقے حالیہ برسوں میں دہشت گردانہ سرگرمیوں اور دراندازی کی کوششوں کے باعث فوج کی خصوصی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ فوج نے ان علاقوں میں جدید نگرانی کے نظام، ڈرونز، اور سینسرز کی مدد سے نگرانی کو مزید مضبوط کیا ہے ۔ دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایل او سی کے اطراف فوج کی گشت میں بھی اضافہ کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی مشتبہ نقل و حرکت کا بروقت پتہ لگایا جا سکے ۔
Comments are closed.