سال 2014کی یادیں تازہ، جہلم کے قہر نے وادی کو لپیٹ میں لیا؛ عوام کا بڑے پیمانے پر انخلا
سرینگر، 4 ستمبر
وادی کشمیر اس وقت ایک بار پھر تباہ کن سیلاب کے دہانے پر کھڑی ہے ۔ دریائے جہلم اور اس کی معاون ندیوں نے خطرے کے نشان کو عبور کرتے ہی جنوبی کشمیر اور سرینگر کے کئی علاقے زیر آب کر دیے ہیں۔ صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ نے بڑے پیمانے پر انخلا کا حکم صادر کیا ہے جبکہ سیکڑوں راحت رساں اہلکار متاثرہ علاقوں میں دن رات سرگرم ہیں۔ آئی جی کشمیروی کے بردی اور چیف سکریٹری اتل ڈولو کی سربراہی میں ہنگامی جائزہ میٹنگ کے بعد وادی بھر میں احتیاطی انخلا اور ریلیف آپریشن تیز کر دیے گئے ۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 300 سے زائد ریلیف مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں کھانے پینے کا سامان، پینے کا پانی، ادویات اور بجلی دستیاب کرائی جا رہی ہے ۔ جنوبی کشمیر کے اننت ناگ، کولگام اور پلوامہ میں کئی دیہات مکمل طور پر زیر آب آچکے ہیں۔ سرینگر کے نواحی علاقوں شالینہ اور زین پورہ میں باندھ ٹوٹنے کے بعد لسجن، نوگام، مہجور نگر اور پادشاہی باغ میں پانی گھروں کے اندر داخل ہو گیا۔ فلڈ کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نے بون اینڈ جوائنٹ اسپتال کے نزدیک شگاف کو فوری طور پر ریت کی بوریاں ڈال کر بند کرنے کی کوشش کی، تاہم مزید خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے ۔
این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف، پولیس اور ریونیو محکمے کی ٹیمیں کشتیاں اور مشینری لے کر متاثرہ علاقوں میں تعینات ہیں۔ چھ مخصوص ریسکیو مراکز جیسے گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول خندہ اور اسلامی پبلک اسکول کرالپورہ میں درجنوں متاثرین کو منتقل کیا گیا ہے ۔ پلوامہ کے ایک متاثرہ شہری غلام نبی وانی نے لرزتی آواز میں بتایا: ‘ہم نے اپنی زندگی میں ایسا خوف پہلی بار محسوس کیا ہے ۔ راتوں کو جاگتے ہیں، بچوں کو محفوظ جگہ لے جانا سب سے بڑا چیلنج بن گیا ہے ۔’ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایندھن، ایل پی جی، ادویات اور اشیائے خوردنی وافر مقدار میں دستیاب ہیں اور کہیں سے بھی قلت کی اطلاع نہیں ملی۔ ایمرجنسی ہیلپ لائن نمبرز جاری کر دیے گئے ہیں۔ تاہم متاثرین کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ اور سڑکوں کی بندش نے مشکلات میں اضافہ کیا ہے ۔ ماہر ماحولیات کے مطابق 2014 کے بعد بھی ڈریجنگ اور فلڈ مینجمنٹ کے وعدے پورے نہ ہونے سے وادی آج پھر اسی المیہ کے دہانے پر ہے ۔ قدرت کو الزام دینا آسان ہے مگر اصل ناکامی انتظامی منصوبہ بندی میں ہے ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بارش میں کمی کے آثار ہیں اور اگر یہ سلسلہ برقرار رہا تو پانی کی سطح اگلے ایک دن میں نیچے آ سکتی ہے ۔ تاہم حکام نے متنبہ کیا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹے نہایت نازک ہیں اور عوام کو غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنا چاہیے ۔ واضح رہے کہ ستمبر 2014 میں وادی کشمیر ایک صدی کے سب سے بدترین سیلاب کا شکار ہوئی تھی۔ دریائے جہلم نے اُس وقت سرینگر کے بیشتر حصے ڈبو دیے ، جس میں پانچ لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 300 سے زیادہ جانیں ضائع ہوئیں۔ تجارت، سیاحت اور بنیادی ڈھانچے کو ہزاروں کروڑ کا نقصان پہنچا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کی صورتحال 2014 سے قدرے مختلف ضرور ہے کیونکہ انتظامیہ نے ریسکیو ڈھانچے اور ابتدائی وارننگ سسٹم میں بہتری لائی ہے ، تاہم ڈریجنگ، نالوں کی صفائی اور ویٹ لینڈز پر قبضے ختم نہ ہونے کی وجہ سے خطرہ ہر سال بڑھ رہا ہے ۔ ایک بزرگ شہری محمد مقبول ڈار کا کہنا ہے کہ 2014 کی تباہی کو آج بھی لوگ بھول نہیں پائے ہیں۔ اگر حکومت نے سنجیدگی سے اقدامات نہ کیے تو آنے والی نسلیں بھی بار بار اسی خوف میں جئیں گی۔
Comments are closed.