کشتواڑ سانحہ: مزید چار لاشیں برآمد، لاپتہ افراد کی تلاش جاری

جموں19 اگست

جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے دور افتادہ گاؤں چسوتی میں بادل پھٹنے کے بعد آئے تباہ کن فلیش فلڈ اور مٹی کے تودے گرنے سے مرنے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ آج ریسکیو ٹیموں نے ملبے سے مزید چار افراد کی لاشیں برآمد کیں، جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد بڑھ گئی ہے جبکہ کئی افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔

ذرائع کے مطابق نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف)، اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) اور مقامی پولیس کی ٹیمیں مسلسل تلاش اور بچاؤ کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ حکام نے بتایا کہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے آپریشن دن رات جاری ہے تاکہ ممکنہ زندہ بچ جانے والوں کو نکالا جا سکے اور مزید لاشوں کو برآمد کیا جا سکے۔

بادل پھٹنے کے نتیجے میں چسوتی کی متعدد بستیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ کئی رہائشی مکانات بہہ گئے یا منہدم ہوگئے جبکہ بنیادی ڈھانچے جیسے سڑکیں، بجلی کی ترسیل اور پانی کی سپلائی مکمل طور پر متاثر ہوئی ہے۔

انتظامیہ نے متاثرہ خاندانوں کے لیے امدادی کیمپ قائم کیے ہیں، جہاں متاثرین کو عارضی رہائش، کھانے پینے کا سامان اور طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ضلع حکام کے مطابق سب سے بڑا چیلنج دور دراز دیہات تک رسائی ہے، تاہم اس مقصد کے لیے فوج اور دیگر ایجنسیاں بھی مقامی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کر رہی ہیں۔

مقامی باشندوں کے مطابق یہ واقعہ حالیہ برسوں کی سب سے بڑی قدرتی آفتوں میں سے ایک ہے، اور گاؤں کے کئی خاندان ابھی تک اپنے پیاروں کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔

Comments are closed.