کشتواڑ سانحہ: مزید دو لاشیں برآمد، ہلاکتوں کی تعداد 67 تک پہنچی
جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے چسوتی گاؤں میں حالیہ بادل پھٹنے کے سانحہ کے پانچویں روز پیر کو ملبے سے مزید دو لاشیں برآمد کی گئیں، جس کے ساتھ ہی اس قدرتی آفت میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 67 ہو گئی ہے۔
افسران کے مطابق ایک لاش خاتون کی ہے جو کوکندرا گاؤں کے قریب ایک گہری کھائی میں ملی، جبکہ دوسری لاش مقامی مندر کے نزدیک ملبے کے نیچے دبی ہوئی پائی گئی۔ اس سانحہ میں اب تک مرنے والوں میں تین سی آئی ایس ایف اہلکار اور ایک ایس پی او بھی شامل ہیں۔
بارشوں کے باوجود ریسکیو ٹیمیں مختلف مقامات پر مسلسل ملبہ ہٹا رہی ہیں۔ فوج، پولیس، این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف، سی آئی ایس ایف، بی آر او، مقامی رضا کار اور سول انتظامیہ مشترکہ طور پر امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ بڑی مشینری، ارتھ موورز اور ڈاگ اسکواڈز بھی تعینات کئے گئے ہیں تاکہ ملبے کے نیچے دبے مزید افراد کو تلاش کیا جا سکے۔
اب تک 167 افراد کو زندہ بچایا گیا ہے جبکہ لاپتہ افراد کی تعداد تازہ فہرست کے مطابق گھٹ کر 40 رہ گئی ہے۔
فوج کی وائٹ نائٹ کور کے مطابق پانچ امدادی کالم موقع پر سرگرم ہیں اور مزید طبی ٹیمیں بھی تعینات کر دی گئی ہیں۔ فوجی انجینئروں نے اتوار کو چسوتی نالہ پر بیلی برج تعمیر کیا، جس کے ذریعے متاثرہ گاؤں اور مچیل ماتا مندر تک رسائی ممکن ہوئی۔ فوج نے مشکل جغرافیائی حالات کے پیش نظر آل ٹیرین گاڑیاں بھی استعمال میں لائی ہیں، جبکہ بڑے پتھروں کو ہٹانے کے لئے کئی مرتبہ کنٹرولڈ دھماکے کئے گئے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اعلان کیا ہے کہ اگلے آٹھ دنوں تک دس سینیئر آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران کو دو دو دن کے لئے چسوتی میں تعینات کیا جائے گا تاکہ ریسکیو اور ریلیف کاموں کی براہِ راست نگرانی کی جا سکے۔ اس ضمن میں حکومت نے باقاعدہ حکم نامہ بھی جاری کر دیا ہے۔
بادل پھٹنے کے نتیجے میں اچانک آنے والے سیلابی ریلے نے مچیل ماتا یاترا کے دوران قائم لنگر (اجتماعی باورچی خانہ)، ایک عارضی بازار، 16 مکانات، سرکاری عمارتیں، تین مندر، چار آٹے کے پن چکی اور ایک 30 میٹر لمبا پل بہا دیا۔ اس کے علاوہ ایک درجن سے زائد گاڑیاں بھی پانی کے تیز بہاؤ میں تباہ ہو گئیں۔
یہ سانحہ اُس وقت پیش آیا جب مچیل ماتا یاترا اپنے عروج پر تھی۔ 25 جولائی سے شروع ہونے والی یہ یاترا 5 ستمبر تک جاری رہنی تھی، مگر پچھلے پانچ دن سے یہ سلسلہ مکمل طور پر معطل ہے۔ البتہ انتظامیہ نے جموں سے آنے والے ’چھڑی‘ بردار عقیدت مندوں کو اجازت دی ہے۔
ریسکیو ٹیموں کے مطابق بارش اور دشوار گزار زمین کارروائیوں میں بڑی رکاوٹ ہے۔ ایک سی آئی ایس ایف افسر نے کہا ’موسم کے بگڑنے کے باوجود ہم لاپتہ افراد کی لاشیں نکالنے کے لئے دن رات کام کر رہے ہیں۔‘
Comments are closed.