شوپیان فائرنگ واقعہ: مہلوکین کی تعداد 6 ہوگئی

سری نگر:: جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان کے پہنو نامی گاوں میں اتوار کی شام پیش آنے والے فائرنگ واقعہ کے جائے وقوع سے پیر کی صبح ایک اور نوجوان کی لاش برآمد ہوئی ۔ مزیددو نعشیں برآمدگی کے ساتھ واقعہ کے مہلوکین کی تعداد بڑھ کر6 ہوگئی ہیں۔

ان میں سے دو جنگجو اور چار دیگر عام شہری ہیں۔ سبھی مہلوکین کی عمر 20 سے 25 برس کے درمیان تھی۔ فوج نے اتوار کی شام دعویٰ کیا تھا کہ اس کا جنگجوو¿ں کے ساتھ ایک مختصر مسلح تصادم ہوا جس کے دوران ایک جنگجو اور جنگجووں کے تین بالائی زمین ورکروں (اعانت کاروں) کو ہلاک کیا گیا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ جائے وقوع سے پیر کی صبح ایک اور نوجوان کی گولیوں سے چھلنی لاش برآمد ہوئی۔ انہوں نے بتایا ’پولیس نے پیر کی صبح جائے وقوع سے قریب دو سو میٹر کی دوری پر ایک اور نوجوان کی لاش برآمد کی‘۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مہلوک نوجوان کی شناخت مولو چھترا گام شوپیان کے رہنے والے 24 سالہ گوہر احمد لون ولد عبدالرشید لون کے بطور کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گوہر مہاراشٹر کی ناگپور یونیورسٹی سے فزیکل ایجوکیشن میں ماسٹرس ڈگری کررہا تھا۔ فوج نے گذشتہ شام دعویٰ کیا تھا کہ اس کا جنگجوو¿ں کے ساتھ ایک مختصر مسلح تصادم ہوا جس کے دوران ایک جنگجو اور جنگجوو¿ں کے تین اعانت کاروں کو ہلاک کیا گیا۔ تاہم مقامی لوگوں نے فوجی دعوے کو خارج کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوجیوں نے ایک جنگجو کو ہلاک کرنے کے بعد جائے وقوع پر موجود لوگوں پر گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں چار عام شہری جاں بحق ہوئے۔ وزارت دفاع کے ترجمان کرنل راجیش کالیا نے یو این آئی کو فائرنگ کے اس وقعہ کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا تھا کہ پہنو نامی گاوں میں گذشتہ شام قریب آٹھ بجے جنگجووں نے فوج کی 44 راشٹریہ رائفلز (آر آر) کی ایک موبائیل ویکل چیک پوسٹ (ایم وی سی پی) پر حملہ کیا۔ اس کے بعد طرفین کے مابین مختصر مسلح تصادم ہوا جس کے دوران ایک جنگجو کو ہلاک کیا گیا۔

راجیش کالیا نے بتایا تھا کہ جنگجو کی ہلاکت کے بعد اس کی گاڑی میں سوار تین بالائی زمین ورکروں کو مردہ پایا گیا۔ مہلوکین جنگجو کی شناخت عامر احمد ملک والد بشیر احمد ملک ساکنہ حرمین شوپیان جبکہ مہلوک شہریوں کی شناخت 22 سالہ سہیل احمد وگے ولد خالد احمد وگے ساکنہ پنجورہ شوپیان، 21 سالہ محمد شاہد خان ولد بشیر احمد خان ساکنہ ملک گنڈ شوپیان اور 23 سالہ شاہنواز احمد وگے ولد علی محمد وگے ساکنہ ترنز شوپیان کے بطور کی گئی تھی۔ ریاستی پولیس کے مطابق جنگجو عامر احمد ملک جنگجو تنظیم لشکر طیبہ سے وابستہ تھا اور گذشتہ برس کے جولائی سے جنوبی کشمیر میں سرگرم تھا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق پہنو فائرنگ واقعہ کے مہلوکین کو پیر کے روز ہزاروں لوگوں بشمول خواتین کی موجودگی میں سپرد خاک کیا گیا۔

اس موقع پر شرکائے جنازہ کی جانب سے ’کشمیر کی آزادی‘ کے حق میں شدید نعرے بازی کی گئی۔ شوپیان کے لوگوں نے فوج کے دعوے کو خارج کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج نے جنگجو کو ہلاک کرنے کے بعد وہاں موجود لوگوں پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں چار عام شہری جاں بحق ہوئے۔ دریں اثنا فائرنگ کے واقعہ میں ایک جنگجو اور عام شہریوں کی ہلاکت کے خلاف ضلع شوپیان کے متعدد علاقوں میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران شدید احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ ان میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق شوپیان کی صورتحال انتہائی کشیدہ رخ اختیار کرگئی ہے۔ انتظامیہ نے احتیاطی طور پر جنوبی کشمیر کے بیشتر حصوں میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات منقطع کردی ہیں جبکہ وادی کے باقی حصوں میں تیز رفتار والی فور جی اور تھری جی انٹرنیٹ خدمات معطل کی گئی ہیں۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اگرچہ شوپیان میں کرفیو نافذ نہیں کیا گیا ہے، تاہم احتیاطی طور پر سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔ بتادیں کہ یہ شوپیان میں گذشتہ دو ماہ کے دوران فوج کی فائرنگ کا پیش آنے والا دوسرا واقعہ ہے۔

فوجی اہلکاروں نے 27 جنوری کو گنوپورہ شوپیان میں احتجاجی نوجوانوں پر اپنی بندوقوں کے دھانے کھول کر تین نوجوان کو ہلاک کیا۔ مہلوک نوجوانوں جاوید احمد بٹ ، سہیل جاوید لون اور رئیس احمد گنائی کی عمر 20 سے 25 برس کے درمیان تھی۔فوج نے کہا تھا کہ اس کے اہلکاروں نے سیلف ڈیفنس یعنی اپنے دفاع میں گولیاں چلائیں۔ جموں وکشمیر پولیس نے فائرنگ کے اس واقعہ کے سلسلے میں ایک فوجی یونٹ کے خلاف 302 (قتل)، 307 (قتل کی کوشش) اور 336 (زندگی کو خطرے میں ڈالنے)کی دفعات کے تحت پولیس تھانہ شوپیان میں ایف آئی آر درج کی تھی اور اس میں فوج کی 10 گڈوال کے میجر ادتیہ کمار اور ان کے یونٹ کو نامزد کیا تھا۔

سری نگر میں قائم فوج کی 15 ویں کور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ لیفٹیننٹ جنرل انیل کمار بھٹ کا کہنا ہے کہ فوجی اہلکاروں نے مہلک اشتعال انگیزی کے بعد احتجاجیوں پر فائرنگ کی تھی۔ادھرجنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان کے سعیدپورہ میں پیر کے روز ایک میوزہ باغ سے ایک لشکر طیبہ جنگجو کی لاش برآمد کی گئی۔ مہلوک جنگ کی شناخت عاشق حسین بٹ ولد محمد اشفاق بٹ ساکنہ رکھ کپرن شوپیان کے بطور کی گئی ہے۔ ریاستی پولیس کے مطابق عاشق حسین جنگجو تنظیم لشکر طیبہ سے وابستہ تھا۔ اس کی لاش شوپیان کے پہنو نامی گاو¿ں میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعہ جس میں ایک جنگجو اور چار عام شہری جاں بحق ہوئے، کے قریب چودھ گھنٹے بعد برآمد کی گئی ۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ سعیدپورہ شوپیان کے لوگوں نے پیر کی صبح ایک میوہ باغ میں گولیوں سے چھلنی ایک لاش پڑی ہوئی دیکھی۔ انہوں نے بتایا کہ اطلاع ملتے ہی پولیس کی ایک پارٹی نے موقع پر پہنچ کر لاش کو اپنی تحویل میں لیا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پولیس نے بعدازاں مہلوک نوجوان کی شناخت لشکر طیبہ سے وابستہ جنگجو عاشق حسین کے بطور کی۔ ریاستی پولیس کی طرف سے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ پولیس تھانہ ہرپورہ کی حدود میں پیر کی صبح ایک جنگجو کی لاش برآمد کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ مہلوک جنگجو کی شناخت عاشق حسین بٹ ساکنہ رکھ کپرن کے بطور کی گئی ہے اور وہ 13 نومبر 2017 سے لاپتہ تھا۔ پولیس بیان میںمزید کہا گیا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جنگجو عاشق حسین کی موت پہنو شوپیان کے واقعہ سے جڑی ہوئی ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق عاشق نے گذشتہ برس کے اواخر میں لشکر طیبہ کی صفوں میں شمولیت اختیار کی تھی۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق سعید پورہ اور پہنو (جہاں گذشتہ شام فائرنگ کا ہلاک خیز واقعہ پیش آیا) کے درمیان کم از کم دس کلو میٹر کا فاصلہ ہے۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ عاشق حسین پہنو فائرنگ واقعہ میں زخمی ہوا تھا یا نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عاشق کے گھروالوں نے اسے حال ہی میں اپنے گھر لوٹ آنے کی اپیل کی تھی۔ شوپیان سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق رکھ کپرن میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے عاشق حسین کے جلوس جنازہ میں شرکت کی۔ اس موقع پر جنگجوو¿ں کا ایک گروپ نمودار ہوا جس میں شامل جنگجوو¿ں نے مہلوک جنگجو کو گن سلوٹ پیش کیا۔ یو این آئی

Comments are closed.