پی آئی بی سرینگر نے میڈیا اور سرکار کے درمیان مکالمے کو مضبوط بنانے کیلئے ”وارتا“کا انعقاد کیا
سرینگر، 16جولائی
پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی)، حکومت ہند، سرینگر نے ”وارتا“ کے عنوان سے ایک میڈیا ورکشاپ کا انعقاد کیا، جس کا مقصد میڈیا اور سرکاری اداروں کے درمیان تعمیری روابط کو فروغ دینا تھا۔ تقریب میں پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل پلیٹ فارموں سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافیوں اور ذرایع ابلاغ سے وابستہ پیشہ ور صحافیوں نے شرکت کی اور بدلتے ہوئے میڈیا منظرنامے، ذمہ دارانہ صحافت اور عوامی فلاحی اسکیموں کے مو¿ثر ابلاغ پر کھل کر بات چیت کی۔
ورکشاپ کا افتتاح محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی پی آر) جموں وکشمیر کے ڈائریکٹر جناب نیتیش راجورہ نے کیا جو کہ مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے تقریب پر موجود تھے۔ اس موقع پر پی آئی بی سرینگر کے ڈائریکٹر جناب قاضی سلمانبھی موجود تھے۔ پی آئی بی سرینگر کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جناب سنیل کول نے ستقبالیہ کلمات پیش کیے۔
جناب نیتیش راجورہ نے اپنے خطاب میں میڈیا کو جمہوریت کا چوتھا ستون قرار دیتے ہوئے اس کے اہم کردار پر زور دیا، خاص طور پر جموں و کشمیر جیسے حساس علاقوں میں جہاں عوامی مکالمے اور معلومات تک رسائی جمہوری عمل کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا، ”میڈیا کو شفافیت اور عوام کے اعتماد کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ آج کے دور میں جب غلط معلومات حقائق سے تیز پھیلتی ہیں، تو صحافیوں پر ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔“
انہوں نے میڈیا اور سرکاری اداروں کے درمیان ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا، ”صحافیوں کو اداروں اور عوام کے درمیان باخبر ثالث کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ صرف تعمیری رابطے کے ذریعے ہی درست اور قابلِ بھروسہ معلومات عوام تک پہنچائی جا سکتی ہیں۔“
پی آئی بی سرینگر کے ڈائریکٹر جناب قاضی سلمان نے ملک میں کلیدی اہمیت کے حامل شعبوں میں ہونے والی تبدیلیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا، ”گزشتہ دہائی میں بھارت نے جامع ترقی کا ایک مثالی سفر طے کیا ہے، جی ڈی پی دوگنی ہوئی، 50 کروڑ سے زائد افراد کو صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کی گئیں اور اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ کسانوں کو جدید آلات، آمدنی کے تحفظ اور مارکیٹ تک رسائی ہو۔ یہ کامیابیاں تنہا نہیں بلکہ قومی خود انحصاری، باوقار زندگی اور اجتماعی ترقی کی غماز ہیں۔“
انہوں نے مزید کہا کہ یہ ترقی صرف اقتصادی استحکامت نہیں بلکہ ایک ارب شہریوں کی مشترکہ کاوشوں کی عکاس ہے، جہاں ٹیکنالوجی، شفافیت اور ہدفی پالیسیوں نے معاشرے کے ہر طبقے میں خلا کو ختم کیا اور مواقع پیدا کیے۔
ورکشاپ کے دوران صحت اور زراعت کے شعبوں میں اہم سرکاری اقدامات پر پریزنٹیشن پیش کی گئیں۔
اسٹیٹ ہیلتھ ایجنسی، جموں و کشمیر کے آپریشنز منیجر ڈاکٹر وسیم اکرم نے یوٹی میں آیوشمان بھارت–پی ایم جے اے وائی اور پی ایم جے اے وائی صحت اسکیموں کی تفصیلات پیش کیں۔ انہوں نے بتایا کہ دسمبر 2018 میں آغاز کے بعد سے جموں و کشمیر کے 95 فیصد خاندانوں کو گولڈن کارڈ جاری کیے گئے ہیں، جن کے تحت 3120 کروڑ کے 17 لاکھ سے زائد علاج ہو چکے ہیں۔ جموں و کشمیر سے باہر بھی 124 کروڑ کے 13 ہزار سے زائد مختلف بیماریوںمیں مبتلا معاملوں کا علاج و معالجہ ہوا ہے۔ 130 سے زیادہ نجی اسپتال اس اسکیم کے دائرہ میں لائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرسٹ موڈ آپریشنز کے تحت یو ٹی سطح کی پورٹیبلٹی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے ساتھ نگرانی، درجہ بندی اور شکایات کے ازالے کے مو¿ثر نظام بھی موجود ہیں۔
ایس کے یو اے ایس ٹی-کشمیر سے وابستہ ڈاکٹر امل سکسینہ اور ڈاکٹر لیاقت علی چودھری نے ”وِکست کرشی سنکلپ ابھیان“ جو کہ زراعت پر مبنی آوٹ ریچ مہم ہے، کی پیش رفت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم کا مقصد سرکاری زرعی اسکیموں کی معلومات کسانوں تک براہ راست پہنچانا اور جدید طریقوں، جیسے ڈرون پر مبنی کاشتکاری، موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ زراعت، محفوظ کاشت کاری، ہائی ڈینسٹی باغات اور حقیقی وقت پر زرعی مشوروں، پر زور دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے ہر ایک سیشن کے بعد ایک انٹرایکٹو فیڈ بیک سیشن ہوا، جس دوران میڈیا سے وابستہ نمائندوں اور صحافیوں کو مقررین کے ساتھ براہ راست تبادلہ خیال کرنے کا موقع دستیاب ہوا۔
ورکشاپ کا اختتام تحریکِ شکرانہ سے ہوا، جس میں پی آئی بی نے خطے میں میڈیا
Comments are closed.