سرحدی کشیدگی پر ہند و پاک قیادت کی خاموشی افسوسناک:ڈاکٹر فاروق عبداللہ
سرینگر//مسلمانوں کا شیرازہ بکھیرنے میں امریکہ اور روس صہیونی طاقتوں کے ساتھ مل کر سیاہ رول نبھا رہے ہیں، شام میں جاری قتل و غارت کو دیکھ کر ایک ذی حس انسان کا کلیجہ پھٹنے کو آتا ہے، شیر خوار بچوں کی لاشیں دیکھ کر انسانیت کانپ اُٹھتی ہے،یہ سب کچھ مسلمانوں کے درمیان پائی جارہی نااتفاقی اور اتحاد کے فقدان کا نتیجہ ہے۔ ان باتوں کا اظہار صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے آج اپنی رہائش گاہ پر وادی کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے عوامی وفود، پارٹی لیڈران اور عہدیداران کیساتھ تبادلہ خیالات کرتے ہوئے کیا۔ اس موقعے پر پارٹی کے سینئر نائب صدر ایڈوکیٹ چودھری محمد رمضان، خواتین ونگ کی صوبائی صدر شمیمہ فردوس(ایم ایل اے حبہ کدل) موجود تھے۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مسلمانانِ عالم سے اپیل کی کہ وہ آپسی اختلافات دور کرکے ایک پلیٹ فارم پر آکر اُمت مسلمہ کو درپیش چیلنجوں کا سامنا کرنے کیلئے ایک جُٹ ہوجائیںاور شام میں قتل و غارت گری فوری طور پر بند کرانے میں اپنا رول نبھائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے مسلمانان بھی اس وقت نازک دور سے گزر رہے ہیں، فرقہ پرستوں کے غلبہ کی وجہ سے اقلتیں عدم تحفظ کا شکار ہوگئیں ہیں۔ بھارتی مسلمانوں کو بھی ایک ہی جھنڈے تلے آنا چاہئے کیونکہ ٹولیوں میں بٹ جانے سے دشمن آسانی سے کامیاب ہوجاتا ہے۔ جموں وکشمیر میں بڑھتی ہوئی اقتصادی بدحالی اور بے روزگار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ریاست کے کاروباری حالات جی ایس ٹی نے تباہی کے دہانے پر پہنچا دیئے ہیں۔ آج ریاست کا پورا کاروباری نظام ٹھپ ہونے کے قریب ہیں، آبادی کا بہت بڑا حصہ مشکل سے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرپاتا ہے۔ نوجوان بے روزگاری کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہوگیا ہے، حکومتی سطح پر بھرتی عمل میں بہت بڑے پیمانے پر دھاندلیوں نے نوجوانوں کے غم و غصہ میں اضافہ کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہی حال رہا تو ہماری نئی پود کا مستقبل کسی بھی صورت میں روشن نہیں ہوسکتا۔ سرحدوں پر جاری گن گرج پر بدقسمتی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت آر پار سرحدی آبادی بے کسی اور کسمپرسی کی حالت میں ہیں۔ سکولوں میں درس و تدریس بند ہیں، لوگ نقل مکانی کرکے کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ گولہ باری سے جنگ کا سماں ہیں اور لوگوں کے سروں پر موت کا سایہ ہر وقت منڈلارہا ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب خونی لکیر کے آر پار کسی کا خون نہیں بہتا۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ افسوس اس بات کا ہے کہ دونوں ملکوں کی قیادت خاموشی تماشائیوں کا رول نبھا رہی ہیں۔اس کے علاوہ انہوں نے لوگوں کے مسائل و مشکلات بھی سنے اور کئی معاملات موقعے پر ہی متعلقہ حکام کے ساتھ اٹھائے اور ان کا سدباب کرانے کی تاکید کی۔
Comments are closed.