پولیس نے ٹھیکیڈاروں کی ریلی ناکام بنادی ،کئی گرفتار

واجب الادا رقومات کی واگزاری کے خلاف تعمیراتی کاموں کا کیا بائیکاٹ کا اعلان

 

سرینگر:پولیس نے منگل کے روز ٹھیکیداروں کی احتجاجی ریلی کا ناکام بنا تے ہوئے کئی ٹھیکیداروں کو حراست میں لیا گیا ۔ٹھیکیدار واجب الادا رقومات کی واگزاری کی ادائیگی میں تاخیر پر سرا پا احتجاج تھے ،جس دوران انہوں نے وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ واقع گپکار روڑ کی جانب پیش قدمی کرنے کی کوشش کی ۔

سٹی رپورٹر کے مطابق جے اینڈ کے سینٹرل کنٹریکٹرس کارڈی نیشن کمیٹی کے بینر تلے درجنوں ٹھیکیدارپریس کالونی سرینگر میں جمع ہوئے ،جہاں انہوں نے اپنے مطالبات کو لیکر احتجاجی دھر نا دیا ۔انہوں نے دھمکی دی کہ جب تک واجب الادا رقومات کو واگزار نہیں کیا جاتا تب تک تعمیراتی کاموں کا بائیکاٹ کیا جائیگا۔

احتجاجی ٹھیکیداروں نے حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی اور مطالبہ کیا کہ فوری طور پر واجب الادا رقومات کو واگزار کیا جائے ۔پریس کالونی میں اپنا احتجاج درج کرنے کے بعد ٹھیکیداروں نے وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ واقع گپکار روڑ کی جانب سے پیش قدمی کرنے کی کوشش کی ۔تاہم یہاں پہلے سے ہی تعینات پولیس کی بھاری جمعیت نے اُن کا راستہ روکا اور آگے جانے کی اجازت نہیں دی

اس دوران احتجاجی ٹھیکیداروں اور پولیس کے درمیان زبردست مزاحمت ہوئی ،جس دوران پولیس نے کارروائی عمل میں لاتے ہوئے درجنوں ٹھیکیداروں کو حراست میں لیا ۔احتجاجی ٹھیکیداروں نے مانگ کی کہ فوری طور پر 350کروڑ روپے جوکہ واجب الادا ہے ،کو فوری طور پر واگزار کیا جائے ۔

جے اینڈ کے سینٹرل کنٹریکٹرس کارڈی نیشن کمیٹی کے جنرل سیکریٹری فاروق احمد دار نے کہا کہ حکومت اُنکے واجب الادا رقومات کی واگزاری کے حوالے سے عدم دلچسپی کا مظاہرہ کررہی ہے ۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایک منصوبہ بند ساز ش کے تحت کشمیر میں فنڈس کو لیپس کیا جارہا ہے ،تاکہ ان فنڈس کو جموں اور لداخ منتقل کیا جاسکے ۔

فاروق احمد ڈار نے کہا کہ حکومت نے” آن لائن بلنگ نظام“کو متعارف کرایا ہے ،تاہم کشمیر میں یہ نظام موزوں ترین نہیں ہے کیو نکہ بقول اُنکے یہاں آئے روز انٹر نیٹ پر کر فیو عائد کیا جاتا ہے ۔

Comments are closed.