ترال گرینیڈ حملے پرپولیس کا ردِ عمل

ترال :پولیس نے ترال گرینیڈ ھماکے کے حوالے سے ایک تحریری بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ پیر کی دوپہر 12بجکر30منٹ پر حزب المجاہدین سے وابستہ جنگجو مشتاق چوپان ،جو پولیس اسٹیشن ترال میں نظر بند تھے ،نے خاتون کا برقہ پہن کر پولیس اسٹیشن سے فرار ہونے کی کوشش کی ۔

پولیس بیان کے مطابق جب مذکورہ جنگجو قیدی پولیس اسٹیشن کے مرکزی دروازے کے نزدیک پہنچے ،تو باہر کسی نے ایک گرینیڈ داغا جو کہ منصوبہ کا حصہ تھا تاکہ پولیس اہلکاروں کی توجہ دوسری جانب مبذول ہو اور قیدی جنگجو فرار ہونے میں کامیاب ہوسکے ۔

پولیس بیان کے مطابق باہر سے داغا گیا گرینیڈ قیدی جنگجو کے نزدیک پھٹ گیا جسکے نتیجے میں قیدی کی موت ہوگئی اور کانسٹیبل معراج الدین زخمی ہوا ۔زخمی پولیس اہلکار کو فوجی اسپتال منتقل کیا گیا ۔

پولیس کے بیان کے مطابق مہلوک قیدی کی نعش کو پوسٹ مارٹم کےلئے تحویل میں لے لی گئی جبکہ معاملے کی نسبت دفعہ176سی آر پی سی کے تحت مجسٹریل انکوائری شروع کی گئی ۔پولیس بیان کے مطابق تحقیقات اس بات کی جائے کہ کس طرح مذکورہ جنگجو قیدی فرار ہونے کی کوشش کررہا تھا ۔

پولیس بیان کے مطابق مہلوک جنگجو قیدی مشتا ق چوپان کے خلاف پولیس تھانہ ترال میں ایک زیر ایف آئی آر 55/2017زیر دفعات18،20،38غیر قانونی سر گرمیوں سے متعلق قانون اور ایف آئی آر 76/2017زیر دفعات 302آر پی سی ،7/27آرمزایکٹ ،18،20یو ایل اے پی کے تحت درج تھا ۔

پولیس بیان کے مطابق اس سے قبل سوپور پولیس نے مشتاق چوپان کو ایف آئی آر زیر نمبر10/2018زیر دفعہ7/27آرمز ایکٹ کے تحت حراست میں لیا تھا ۔انہوں نے بتایا کہ مہلوک جنگجو پولیس حراست میں تھا اور یہ اونتی پورہ پولیس کو مطلوب تھا ۔

Comments are closed.