ویڈیو: بٹہ مالو کے تاجروں کا ایک مرتبہ پھر احتجاج
سرینگر/۷ فروری/بٹہ مالو کے تاجروں نے بدھ کو ایک مرتبہ پھر بس اسٹینڈ بٹہ مالو کو پارمپورہ منتقل کرنے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پریس کالونی کے باہر دھرنا دیا۔
سٹی رپورٹر کے مطابق بٹہ مالو میں کام کررہے تاجر ، دکاندار، چھاپڑی فروش اور ٹرانسپورٹربس اسٹینڈ کی پارمپورہ منتقلی کو لیکر کچھ عرصے سے احتجاج کررہے ہیں، حالانکہ بس اسٹینڈ کو پہلے ہی پارمپورہ منتقل کردیا گیا ہے، تاہم تاجروں کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے خلاف احتجاج جاری رکھا جائے گا۔اسی سلسلے کی ایک کڑی کے تحت بٹہ مالو کے تاجروں کی مشترکہ انجمن جوائنٹ کارڈی یشن کمیٹی بٹہ مالونے اپنا احتجاج درج کرنے کےلئے بدھ کو احتجاجی مظاہرے کا پروگرام مرتب کیا تھا۔
پروگرام کے مطابق دکانداروں ،تاجروں اور چھاپڑی فروشوں کی ایک بڑی تعداد پریس کالونی کے باہر جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف نعرے بازی شروع کی۔انہوں نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈس بھی اٹھارکھے تھے جن پر بس اسٹینڈ کی پارمپورہ منتقلی کے خلاف نعرے درج تھے ۔مظاہرین نے پریس کالونی کے باہر دھرنا دیکر ”ہم کیا چاہتےانصاف“ کے زوردار نعرے بلند کئے۔
اس موقعے پر جوائنٹ کارڈی نیشن کمیٹی کے عہدیداروں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ بس اسٹینڈ کی پارمپورہ منتقلی سے بٹہ مالو اور اسکے گردونواح میں کام کررہے10ہزار سے زائد تاجر، دکاندار، چھاپڑی فروش ، مزدور اور دیگر لوگ بلواسطہ یا بلا واسطہ طور روزگار سے محروم ہوئے ہیں۔کے ایم ا ین نمائندے کے مطابق کمیٹی کے سربراہ قاضی امتیاز نے کہا کہ اگر سارے تاجر اپنا کاروبار دوسری جگہ منتقل کریں گے تو علاقے کی تمام کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ جائیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ شہر کے مرکزی علاقوں میں کام کررہے تاجر بھی اپنا کاروبار چلانے کےلئے بٹہ مالو بس اسٹینڈ پر انحصار کرتے ہیں۔قاضی امتیاز نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اس فیصلے کو منسوخ کرکے ہزاروں افراد کو فاقہ کشی سے بچائے۔انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔مظاہرین نے کچھ دیر تک دھرنا دیکر نعرے بازی کی اور بعد میں پر امن طور منتشر ہوئے۔
Comments are closed.