احتجاجی پروگرام ،مزاحمتی قیادت کے خلاف کریک ڈاﺅن

سرینگر:مفرورپاکستانی جنگجو کی تلاش کےلئے جاری ہائی الرٹ کے بیچ محمد مقبول بٹ اور محمد افضل گورو کی برسیوں کے پیش نظر مزاحمتی قیادت کے احتجاجی پروگرام کو روکنے کےلئے پولیس نے مزاحمتی قیادت کے خلاف کریک ڈاﺅن شروع کردیا ،جس کے تحت لبریشن فر نٹ چیئرمین محمد یاسین ملک کو ساتھی سمیت حراست میں لیکر سینٹرل جیل سرینگر منتقل کیا گیا جبکہ حریت( ع) کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق کو منگل کی شب سے خانہ نظر بند کیا گیا ۔

ادھر حریت( گ) کے چیئرمین سید علی گیلانی کی طویل ترین خانہ نظر بندی جاری ہے ۔ذرائع کے مطابق ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے خدشات کے پیش نظر شہر سرینگر سمیت شمال وجنوب میں پابندیاں اور بندشیں عائد کرنے کا فیصلہ انتظامیہ اور پولیس کے حکام نے لیا ہے ،جسکے تحت 9اور11فروری کو بیشتر علاقوں میں سخت ترین ناکہ بندی کے علاوہ ممکنہ جنگجویانہ کارروائیوں کو روکنے کےلئے بھی سیکورٹی فورسز کو مزید چوکس رہنے کی ہدایت دےنے کے ساتھ ساتھ مزید متحرک کردیا گیا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق منگل کے روز صدر اسپتال سرینگر میں پیش آئے واقعہ کے بعد شہر سرینگر سمیت پوری وادی میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے ۔مفرور جنگجو کی تلاش کےلئے جہاں بڑے پیمانے پر تلاشی مہم شروع کی گئی ہے ،وہیں مزید حملوں کے خدشات کے پیش نظر شہر سرینگر سمیت شمال وجنوب میں سیکورٹی مزید چوکس کردیا گیا گیا ۔

نمائندے نے اس حوالے سے جو تفصیلات فراہم کی ہے ،اُنکے مطابق شہر سرینگر میں صدر اسپتال واقعہ کے بعد سیکورٹی مزید چوکس کردیا گیا ہے ۔حساس علاقوں میں پولیس وفورسز اہلکاروں کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے ۔

شہر سرینگر کے کئی علاقوں میں جگہ جگہ پولیس وفورسز اہلکاروں نے مشترکہ طور پر ناکے لگائے ہیں ،جہاں سے گزر نے والی گاڑیوں کی باریک بینی کے ساتھ تلاشی لی جارہی ہے ۔نمائندے نے بتایا کہ شہر میں خاص طور پر موٹر سائیکل سواروں کی چیکنگ میں تیزی لائی گئی ہے ۔

تفصیلات کے شہر کے تمام داخلہ اور خارجی پوائنٹس پر بھی چیکنگ کا عمل تیز کیا گیا ہے ۔شہر میں داخل ہونے والے گاڑیوں کی باریک بینی سے تلاشی لی جارہی ہے جبکہ اس کے علاوہ شہر سے باہر جانے والی گاڑیوں پر بھی کڑی نگاہ رکھی جارہی ہے ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر اسپتال سرینگر سے مفرور پاکستانی جنگجو نوید عرف حنظلہ کی تلاش پولیس وفورسز نے بڑے پیمانے پر شروع کردی ہے ۔پولیس صدر اسپتال میں نافذ ’سی سی ٹی وی ‘کیمروں کی فوٹیج بھی دیکھ رہی ہے جبکہ اس کے علاوہ خفیہ معلومات حاصل کرنے کےلئے خفیہ نیٹ ورک مزید متحرک کردیا گیا ہے ۔

یاد رہے کہ منگل کے روز شہرسری نگرمیں موجودگی اورسرگرمیوں کااحساس دِلاتے ہوئے جنگجوﺅں نے صدراسپتال کے باہرقیدیوں کوبغرض علاج یہاں لانے والی ایک پولیس پارٹی پراندھادھندفائرنگ کردی تھی جسکے نتیجے میں2پولیس اہلکارازجان ہوئے تھے ۔

اچانک گولیاں چلنے کے نتیجے میں اسپتال کے اندراورباہرمچی افراتفری کے بیچ حملہ آورایک گرفتارلشکرجنگجونویدعرف حنظلہ کواپنے ساتھ لینے میں کامیاب ہوگئے ۔ڈی آئی جی وسطی کشمیرنے جنگجوئیانہ حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھاکہ حملہ آوروں اورفرارشدہ پاکستانی جنگجوکی تلاش بڑے پیمانے پرشروع کردی گئی ہے ۔

اُدھرپولیس سربراہ ڈاکٹرشیش پال ویدنے صدراسپتال کے باہرہوئے جنگجوئیانہ حملے کوافسوناک قراردیتے ہوئے اعلان کر رکھا ہے کہ شہرسری نگرسمیت پوری وادی میں سیکورٹی الرٹ کردیاگیاہے ۔

ادھرخبر رساداں ادارے (کے این ایس ) کے مطابق ڈائریکٹرجنرل جیل خانہ جات نے صدراسپتال سری نگرکے باہرپیش آئے ہلاکت خیزاواقعے اوراس دوران ایک پاکستانی جنگجوکے فرارہونے کے واقعے کی محکمانہ انکوائری کے احکامات صادرکرتے ہوئے ڈی آئی جی جیل خانہ جات سے فوری رپورٹ طلب کی ہے۔

دریں اثناءمحمد مقبول بٹ اور محمد افضل گورو کی برسیوں کے پیش نظر مزاحمتی قیادت کے احتجاجی پروگرام کو روکنے کےلئے پولیس نے مزاحمتی قیادت کے خلاف کریک ڈاﺅن شروع کردیا ،جس کے تحت لبریشن فر نٹ چیئرمین محمد یاسین ملک کو ساتھی سمیت حراست میں لیکر سینٹرل جیل سرینگر منتقل کیا گیا جبکہ حریت( ع) کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق کو منگل کی شب سے خانہ نظر بند کیا گیا ۔

لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کو منگل کے روز ایک اور فرنٹ لیڈر غلام محمد ڈار کے ہمراہ اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ فرنٹ کے دفترواقع آبی گزر پر موجود تھے۔ پولیس کی ایک پارٹی نے منگل کی بعد دوپہر فرنٹ آفس آبی گزر سے حراست میں لیا۔ بعدازان دونوں گرفتارشدگان کو عدالتی تحویل پر سرینگر سینٹرل جیل منتقل کردیا گیا ہے۔

حراست میں لینے سے قبل میڈیا سے بات کرتے ہوئے لبریشن فرنٹ چیئرمین نے کہا تھا کہ کشمیر کو ایک بڑی جیل میں تبدیل کردیا گیا ہے جہاںپیر و جوان، بچے اور خواتین کو بے شرمی کے ساتھ جیلوں کے اندر ڈال کر اذیتوں سے دوچار کیا جا رہا ہے۔

منگل کی شب کو ہی میر واعظ عمرفاروق کی خانہ نظر بندی عمل میں لائی گئی۔حریت ذرائع نے بتایا کہ منگل کی شب کو پولیس وفورسز کی بھاری جمعیت نے میر واعظ عمر فاروق کی رہائش گاہ واقع نگین حضرتبل کو اپنے محاصر ے میں لیا اور میر واعظ کو یہ اطلاع دی گئی کہ وہ خانہ نظر بند ہیں لہٰذا گھر سے باہر قدم نہ رکھیں ۔

واضح رہے کہ حریت (گ) کے چیئرمین سید علی گیلانی طویل عرصے اپنی رہائش گاہ واقع حیدر پورہ پر نظر بند ہیں ۔حر یت (گ) کے ایک ترجمان نے بتایا کہ سید علی گیلانی کی رہائش گاہ فورسز قلعے میں تبدیل کیا گیا ۔

مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی ،میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کا کہنا ہے کہ جمہوریت کے دعویدار اپنے ہی ہاتھوں جمہوریت کی مٹی پلید کررہے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ یہاں سیاسی ،مذہبی اور سماجی سرگرمیوں پر پہرے بٹھا دئے گئے اور اہلیان کشمیر کے شہری حقوق بھی سلب کئے جارہے ہیں ۔

یاد رہے کہ محمد مقبول بٹ اور محمد افضل گورو کی برسیوں کے حوالے سے مشترکہ مزاحمتی قیادت نے احتجاجی پروگرام ترتیب دیا ہے جسکے تحت9 اور11 فروری کو مکمل ہڑتال کی اپیل جبکہ 9فروری کو احتجاجی مظاہرے اور مساجد میں قرار داد پاس ہوگی،11 فروری اتوار کو اقوام متحدہ کے مقامی آفس پر جاکر اجساد خاکی اور باقیات کی واپسی کے حوالے سے یادداشت پیش کی جائے گی۔

محمد مقبول بٹ کو 11فروری1984میں دہلی کی تہاڑ جیل میں خفیہ طور پر پھانسی دی گئی تھی اور وہیں پر دفن بھی کیا گیا ۔اسی طرح سے 9فروری 2013کو محمد افضل گورو کو خفیہ طور پر تہاڑ جیل میں ہی تختہ دار پر لٹکایا گیا تھا ،اُن پر 2001پارلیمنٹ حملے ملوث قرار دیکر پھانسی دی گئی تھی ۔

Comments are closed.