کرناہ ، کپوارہ اور سمبل میں آگ کی تباہ کن وارداتیں
سرینگر/۷ فروری/کرناہ ، کپوارہ اور سمبل میں آگ کی تباہ کن وارداتوں کے نتیجے میں 7رہائشی مکانات ، ان میں موجود ہر طرح کا سامان اور دو گاﺅ خانے راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئے۔
کے ایم ا ین نمائندے نے کپوارہ سے اطلاع دی ہے کہ منگل کی رات قریب11بجے ضلع کے سرحدی قصبہ کرناہ کے کنڈی علاقے میں ایک رہائشی مکان سے اچانک آگ ظاہر ہوئی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے مزید دومکانوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا۔
آگ کے شعلے بلند ہوتے ہوئے علاقے میں افراتفری پھیل گئی اور لوگ گھروں سے باہر آکر آگ بجھانے کی کارروائی میں جٹ گئے۔مقامی لوگوں نے الزام عائد کیا کہ فائر سروس کی گاڑی اور اہلکار ایک گھنٹے کی تاخیر سے جائے واردات پر پہنچ گئے جبکہ گاڑی میں زیادہ پانی بھی موجود نہیں تھا جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی مچ گئی۔ پانچ گھنٹوں کی مسلسل جدوجہد کے بعداگر چہ آگ پر قابو پالیا گیا، تاہم اس واردات میں مجموعی طور3 رہائشی مکانات جل کرمکمل طور تباہ اور ان میں موجود ہر طرح کا سازو سامان راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگیا جس کے نتیجے میں مجموعی طور لاکھوں روپے مالیت کی جائیداد تلف ہوئی۔یہ مکانات راجا عبدالمجید خان اور اس کے دو بیٹوں راجا امجد خان اور راجا آصف خان کے تھے۔
آگ لگنے کی وجہ بجلی شارٹ سرکٹ بتائی جاتی ہے ، تاہم پولیس نے کیس درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہے۔کے ایم ا ین نمائندے کے مطابق کپوارہ کے ہی آرمپورہ علاقے میں بھی منگل کی شب آگ کی ایک بھیانک واردات رونما ہوئی۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ آگ پر اسرار حالات میں نمودار ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے عبدالاحد میر اور محمد عبداللہ میر نامی دو سگے بھائیوں کے رہائشی مکانات ان میں موجود گھریلو اسباب سمیت خاکستر ہوئے۔اس موقعے پر علاقے میں چیخ و پکار کی آوازوں سے سنسنی پھیل گئی ،تاہم دونوں مکانوں کے مکینوں کو محفوظ جگہ پر منتقل کیا گیا۔مقامی لوگوں اور آگ بجھانے والے عملے میں آگ پر قابو پانے کی از حد کوشش کی لیکن وہ لاکھوں روپے کی املاک کو تباہ ہونے سے نہیں بچاسکے، تاہم بعد میں آگ بجھادی گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی نسبت کیس درج کرلیا گیا ہے اور آگ لگنے کی وجوہات کا پتہ لگایا جارہا ہے۔دریں اثناءسمبل بانڈی پورہ کے ٹینگہ پورہ نامی گاﺅں میں بھی آگ کی ایک واردات میںغلام نبی وانی اور محمد عبداللہ وانی نامی شہریوں کے رہائشی مکانات راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوئے۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ آگ کے شعلے اچانک بلند ہوئے اور آناً فاناً پھیل گئے، حالانکہ لوگوں کے ہمراہ فائر سروس عملے نے آگ پر قابو پانے کی کوشش کی جو دونوں مکانوں کے خاکستر ہونے کے بعد کامیاب ہوئی۔
Comments are closed.